113

لالو یادو کی ضمانت کہیں سیاسی فیصلہ تو نہیں

صفدرامام قادری
صدر شعبہئ اردو،کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
۴۱۰۲ء کے پارلیمنٹ کے انتخابا ت کے بعد جب اسمبلی انتخاب کے لیے لالو یادو اور نیتش کمار کا گٹھ جوڑ قائم ہو ا،اسی وقت یہ اندازہ ہو نے لگا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو لالو یادو کو جیل سے باہر رکھنے میں بہت طرح کی مشکلات کاسامناکرنا پڑے گا۔ بہار کے اسمبلی انتخاب میں یہ ثابت بھی ہو گیا۔ دونوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو پچھاڑ دیااور دیکھتے دیکھتے اکھلیش یادو اور مایاوتی ساتھ آنے کے لیے تیار ہوئے۔ممتا بنرجی سے لے کرچندر بابو نائڈو تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالف جماعتیں یکجا ہونے لگیں۔یہ بات سامنے آنے لگی کہ غیر فرقہ وارانہ ماحول سازی کے لیے لالو پرساد یادو سے کوئی بڑی شخصیت دوسری نہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے اثر کا استعمال کر کے لالو یادو کی ضمانت ختم کرائی اور بڑے سلیقے سے بہار کی سرکار کو رات کے اندھیرے میں بدل کر حکومت کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔حکومت ٹوٹنے سے ایک ہفتہ پہلے سے سی بی آئی اور ا نٹلی جینس ایجنسیاں لالو یادو کے خاندان کے افراد کی جانچ پرکھ میں لگ گئی تھیں۔حالات ایسے نظر آنے لگے کہ رانچی میں باپ قیدی ہیں اور بیٹی داماد سے دہلی اور پٹنہ میں پوچھ گچھ ہو رہی ہے،صاحب زادوں سے پٹنہ میں پڑتال۔ کہنے کو سی بی آئی یا اس طرح کی جانچ ایجنسیاں آزادی سے اپنا کام کرتی ہوئی بتائی جاتی ہیں۔ مگر یہ بھی خوب ہے کہ حکومت کو جس جس سے اختلاف ہو تا ہے،انھیں کے پیچھے ان ایجنسیوں کو لگا دیا جاتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خوف سے آپ حکومت کی مخالفت نہ کریں ورنہ آپ کے دن خراب کردیے جائیں گے۔بہا ر کی اس حکومت کی تشکیل میں نیتش کمار کے بھی کسی پرانے مقدمے کا خوف بتایا جا تارہا ہے جس کی وجہ سے یہ سودا ممکن ہو ا۔ نیتش کمار لالو یادو کا ساتھ چھوڑ کر آر ایس ایس کی حکومت میں پھر سے شامل ہوئے۔ دونوں طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقاصد حل ہو تے ہو ئے نظر آتے ہیں۔
لالویا دو کو جیل اور نئے سرے سے بہار کی حکومت میں اپنا داخلہ پورا کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی الیکشن ۹۱۰۲ء کی تیاری یعنی امت شاہ کا مشن تین سوآگے بڑھتا رہا۔سیاست کی طاقت،صنعتی گھرانوں کی دولت اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر چلتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس دوران پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ جس ریاست میں ممبران کی تعداد کم ہو رہی ہے،وہاں گورنرکی وفاداری کام آئی۔ ایک کے بعد ایک صوبے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں بنتی چلی گئیں۔ بننے کو توکرناٹک میں انھوں نے حکومت بنا ہی لی تھی مگر وہاں اس فریب کو انجام تک نہیں پہنچا سکے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک یہ کھیل تماشہ دکھائی دے رہا ہے۔ زخمی ناگ کی طرح کرناٹک کا شکار اس حکومت کے لیے لازم ہے۔اروند کجریوال بھی بار بار نشانے پر اس وجہ سے رہتے ہیں کہ جس کی مٹھی میں پو را ملک ہو،اس کے مرکز دلی میں کوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کلیجے پر مونگ دَل رہا ہے۔نریند ر مودی اور امت شاہ کو پورا ملک کیسریا چاہیے مگر کچھ لوگ اس کے لیے کانٹا بنے ہوئے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو معلوم ہے کہ اس ملک میں ان کی فرقہ پرستی کا کھلا جواب صرف اور صرف لالو یادو دے سکتے تھے، اس لیے جن مقدمات میں ان کے جیسے دوسرے افراد کو برسوں سے کھلی ضمانت ملی ہو ئی ہے مگر لالو یادوجیل کی سلاخوں کے اندررہیں، یہی بہتر تھا۔ اس سال فروری اور مارچ سے لالو یادو کی ضمانت کی عرضیاں داخل ہو تی رہیں اور عدالت انھیں نا منظور کرتی رہی۔گذشتہ مہینے کے اواخر میں یہ بات اخباری سرگوشیوں میں ابھرنے لگی کہ اب لالو یادو کو ضمانت مل جائے گی۔ آخر کا ر یہ گھڑی آج آہی گئی۔قانون کے اساتذہ سے جب تبادلہئ خیالات کیجیے تب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ کسی مقدمے کی سماعت خاص طور پر ضمانت دینے کے معاملے میں منصفوں کو بے پایاں اختیارات حاصل ہیں۔یہ اسی طرح ہے جس طرح خدا کو حیات اور موت کے معاملے میں اختیارات حاصل ہیں۔جمہوری نظام کے ہر حصے پر وقت کی کالی چھایانظر آتی رہتی ہے۔ جب قانون بنانے والے افراد میں پچاس فی صد سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو مشکل اور خطرناک مقدمات کے ملزم ہیں،ایسے میں ان قوانین پر عمل در آمد کرنے او ر کرانے والے افراد کے بارے میں کیا کہا جائے مگر یہ دیکھا گیا کہ جیسے جیسے ۹۱۰۲ کے انتخابات سامنے آئے، اس سے پہلے ہی ایک مخصوص جج صاحب نے امت شاہ کو با عزت بری کر دیا۔الیکشن اور قریب ہو ا تو توقع تھی کہ رافیل کی جانچ اور متعدد انداز کی بے ضابطگیوں پر عدالت کوئی سخت رویہ اپنائے گی مگر چیرا تو ایک قطرہئ خوں بھی نہ نکلا۔کہنے والے اسے سیاسی مداخلت بھی کہہ سکتے ہیں مگر ہندستان کا ایک عام شہری ان پیچیدگیوں پر حیران و پریشان رہنے کے علاوہ کیا کر سکتا ہے؟
یہ بات غور طلب ہے کہ لالویادو کی اس ضمانت میں آخر نیا کیا ہے؟وہ مختلف طرح کی مشکل بیماریوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ان کی عمر ستر برس سے زائد ہے۔ وہ اس بات کے لیے عدالت کے سامنے ہمیشہ تیار ہیں کہ وہ کہیں دوسری جگہ نہیں جائیں گے اور عدالت کے حکم کے مطابق اپنی چلت پھرت قائم رکھیں گے۔فروری اورر مارچ یا جولائی ۹۱۰۲ کے حالات کا موازنہ کریں تو کہیں کچھ بھی نہیں بدلامگر جن بنیادوں پر انھیں اب ضمانت ملی ہے، انھی بنیادوں پر انھیں پہلے بھی ضمانت مل سکتی تھی مگراس بات کا اندیشہ تو تھا کہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے لالو یادو کی ضمانت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے خطرہ ہو سکتی تھی۔لاکھ ای وی ایم کی میکا نیکی تیاریاں ہو ں مگر ہندستان کی فرقہ پرست سیاست کا قومی سطح پر کوئی ایک مخالف اگرہو سکتا تھا جس کی باتیں شمال سے جنوب تک سنی جاتی ہیں، وہ لالویادو کی ذات تھی۔اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمتِ عملی تیار کرنے والوں کا یہ طے شدہ فیصلہ ہو گا کہ لالو یادو کو جیل سے باہر نہیں نکلنے دینا ہے جب تک کہ دوسری بار نریندر مودی کی سرکار نہ بن جائے۔ ادھر سرکار بنی،ادھرضمانت دینے کی قانونی اڑچنیں بھی ختم ہوئیں۔
لالویادو کی عدم موجودگی میں بہار میں ان کی پارٹی بے اثر ہو گئی۔بیٹے کی ناتجربہ کا ری اور کانگریس کی بھی دیرینہ بے وقوفیوں سے بہار میں غیر فرقہ وارانہ جماعتوں کااتحاد الیکشن سے پہلے ہی بکھر گیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی تکنیکی بالا دستی تو آخری حربہ تھی مگرالیکشن سے پہلے ہی غیر فرقہ وارانہ اتحاد اپنی شکست کا اعلان کر چکا تھا۔اس بیچ بہار میں دو سیاسی سرگوشیاں سننے کو ملیں۔الیکشن کے فوراً بعد تیجسوی یادو ایک مہینے کے لیے سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے۔الیکشن کے بعد حسبِ توقع نیتش کمار اپنے نپے تلے بول کے ساتھ سامنے آنے لگے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی سے ذرا دور ہو کر جینے کی ان کے بارے میں قیاس آرائیں ہونے لگی ہیں۔ایسی خبریں بھی پھیلائی جارہی ہیں کہ نیتش کمار اور لالو یادو کی پارٹی کا پھر سے محاذ قائم ہو گا۔معاملات ٹھیک ہو ئے تو ابھی سرکار بھی بنا لیں گے اور غیر فرقہ پرست بن کر ۰۲۰۲ء کا انتخاب بھی لڑیں گے۔
اس کی کاٹ کے طور پر ایک خطرناک بات یہ بھی سامنے آنے لگی ہے کہ تیجسوی یادو جو مکمل طور سے ناتجربہ کارہیں اور ابھی تک کسی مشکل مرحلے میں فرقہ پرستی مخالف وابستگی کا کوئی امتحان بھی نہیں دے سکے ہیں، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ اسی سمجھوتے کا ایک حصہ لالو یادو کی موجودہ ضمانت بھی ہے۔یہ محض افواہ ہے یا اس میں لالو یادو اور تیجسوی یادو کی رضا مندی بھی ہے،اسے وقت سے پہلے کون قبو ل کر سکتا ہے۔بات یہ ہے کہ سیاست دان اپنے مفاد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اپنی وفاداریاں بدلنے کے لیے انھیں ایک لمحے کا بھی پردہ نہیں چاہیے۔ ایسے میں یہ اندیشے بے بنیاد کیوں مانے جائیں؟خاص طور سے اس لیے بھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا اگلا نشانہ نیتش کمار بھی ہوں گے۔ اگر وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو چھوڑ کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گے تو وقتی طور سے ان کے کھیل کو بگاڑنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی بالکل الٹے قدم اٹھا سکتی ہے۔ حبِ علی نہیں، یہاں بغضِ معاویہ کا معاملہ ہو گا۔ یوں بھی لالو یادو اپنی سیاسی اننگ ختم کر چکے ہیں جیسے اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو۔ تیجسوی یادو سابق نائب وزیرِ اعلا تو ہیں ہی؛ آگے اسمبلی کے رکن پھر ہو جائیں گے۔بہار میں کئی سابق وزرائے اعلا کے صاحب زادے کبھی اسمبلی کا رکن اور کبھی کسی پارٹی سے وزیر بن کر گزارا کرتے رہے ہیں۔تیجسوی یادو بھی اپنی سیاسی حیثیت سمجھتے ہیں، کون جانے اسی پر قناعت کر لیں گے مگر غیر فرقہ وارانہ سیا ست کی تابوت میں یہ آخری کیل ہو گی۔بھارتیہ جنتا پارٹی اس کھیل میں پھر بھی فاتح ہی ہو گی؛ باقی سب ہاریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں