199

لاتخف کی چارحقانی تختیاں


ابوذر ہاشمی
دورڑپیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو۔ تقریباً چالیس پینتالیس برسوں قبل کا وقت نگاہوں کے سامنے ہے۔تختی‘ قلم‘ جلے چاول سے بنائی گئی روشنائی‘ اور حکمِ حاکم: لکھ حیص بیص‘فی الفور“ فی الحقیقت‘ قسطنطنیہ‘ مغضوب الغضب‘ رقیقُ القلب‘شقی القلب‘ قلم گوید کہ من شاہِ جہانم اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ الفاظ سخت‘‘ ادائیگی سخت اور غلطی پرپکڑ اس سے بھی سخت۔ا س لئے تختی سے ہمیں اس وقت بھی ڈر لگتا تھا اور لکھنے سے آج بھی خوف آتا ہے کہ لکھا اور پکڑے گئے کہ لکھنا نہیں آتا۔ لیکن کاہ یا کھڑ سے موتی کی لڑ بنا لینے والے حقانی القاسمی آج پھر تختی بلکہ تختیاں لئے سامنے کھڑے ہیں۔پوری چار تختیاں! لیکن شکر ہے کہ یہ تختیاں لاتخف کی ہیں‘ حقانی ادب کی ہیں۔ حقانی ”طوافِ دشتِ جنوں“ کے قائل ہیں اور ان کی تحریریں اسی طوافِ دشتِ جنوں کی تفسیرہوا کرتی ہیں۔ حقانی کے دشتِ جنوں کا دوسرا نام طلسم خانہئ ادب بھی ہے اور اس طلسم خانہ کے طواف نے ان کے قلم کو جب بھی رقص پہ آمادہ کیا ہے‘ ایک نیا منظر نامہ سامنے آیا ہے۔حالانکہ آج ادب کے نام پر لکھی جانے والی اکثر تحریریں محض جگالی ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس لئے حقانی کے انداز جنوں کا ہم احترام کرتے ہیں۔ مضامین کا مجموعہ ’لاتخف‘ کی پیش کردہ چار تختیاں مختلف شیڈس کی حامل ہیں۔ پہلی تختی اسم با مسمیٰ ا ور لاتخف کی تفسیر اور تو ضیح ہے۔ ایک ایسی تفسیر جو تخریبی قوتوں سے بلا خوف مقابل ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ تفسیر حقانی نے خون دل سے لکھی ہے۔ اس تختی کے دو نقوش”ادب‘ امن اور احتجاج“اور ”زمینوں پر عذاب ایسا“تخریب کی خوں چکا داستان پر ادب کے احتجاج کا شناس نامہ بن گئے ہیں۔ مضمون ادب‘ امن اور احتجاج نینوا کے قدیم شہر سبارہ کے مندرکے احاطے میں نصب ایک ستون پرامن کے قانون کے نفاذ کے لئے کندہ عظیم اشان تحریر کے اقتباس سے شروع ہوا ہے اور پوکھران اور چاغ کے نیوکلیائی تجربوں کے بیان تک آیا ہے۔ گیارہ‘دسمبر سقوط بغداد‘ افغانستان وغیرہ کے مسئلے‘اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے تجربے نے کس طرح انسانیت کو سسکنے پر مجبور کیاہے اس کا ہولناک منطرنامہ بھی پیش کیا گیاہے۔حقانی کے خیال میں: ”مذاہب اور قائد کے مابین برتری اور بالا دستی کا جذبہ ہی جنگ کا سبب ہے۔…… دنیا کے عظیم نابغہ ذہنوں نے اپنی باطنی کائنات میں ایک الوہی اضطراب کے ساتھ خارجی کائنات کے امن کو برقرار رکھا اور خطہئ ارض میں امن کے قیام کی کوششیں کیں -مصلحین نے تنازعات سے اجتناب برتا اور انسانی وحدت کی بات کی …… اسی امن کے لئے انہوں نے احتجاج بھی کیا اور پوری قوت سے امن عالم کے لئے تبلیغ بھی کی۔ ……جو داخلی توانائی سے معمور ہوتے ہیں وہی امن کی راہ بھی اختیار کرتے ہیں بزدل کبھی عدم تشدد کی راہ اختیار نہیں کرسکتے۔ بے خوف اور نڈر ہی اہنسا اور امن کے داعی اور پیغامبر ہوتے ہیں۔ ……آج جب کہ دنیا تشدد کی لپیٹ میں ہے‘ کائنات ارضی کے مستقبل کو خطرہ درپیش ہے تو ذہنی قوتوں اور توانائیوں سے بھرپور حضرات امن کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔ ان کے احتجاج کا طریق کار مختلف ہے۔ وہ محاذجنگ میں سپاہی بن کر تو نہیں ہاں لفظوں کے سپاہی بن کر ضرور محاز ذجنگ پہ کمر بستہ ہیں ……شبدوں سے احتجاج بھی آج کے سفاک‘ بے حس دور میں کسی جہاد سے کم نہیں“ یہ واقعہ ہے کہ جبر کے اس ماحول میں ضمیر کی آوازوں کا برملا اعلان فنکار‘ قلمکار اور بالخصوص تخلیقی فنکار ہی کرسکتے ہیں۔ بلا شبہہ آج کے اس پر فتن اورد ہشت گر د دور میں قلم ہی نیوکلیائی ہتھیاروں اور دہشت گردوں کے خودکش بموں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ اہلِ قلم اور اہلِ ہنربے خوف ہوکر ان دجالوں کے سامنے آجائیں اور یہ کہنے کی جرأت رکھیں کہ تم غلط اور انسانیت کا داغ ہو‘ تمہاری نیوکلیائی طاقت انسانیت کی بھلائی اور فروغ کے لئے نہیں، بلکہ اس کی تباہی کے لئے ہے۔ اسی لئے حقانی نے لاتخف کا نعرہ بلند کرنے والے قلمکاروں کی تحریروں کی قدر شناسی کی ہے۔تخلیقی اذہان کس کرب سے دوچار ہیں اور ان کا ردِ عمل کیا ہے؟ عالمی دہشت گردی کے تناظر میں تخلیقی اظہار نے اردو زبان میں کون سی کروٹ لی ہے؟ اس کا جائزہ شعری‘ افسانوی اور دیگر مختلف ہیتوں میں سامنے آنے والی تحریروں کے حوالوں کے ساتھ پیش کیاہے‘ اور اس بیش قیمت نکتے تک پہنچے ہیں کہ نیوکلائی ہتھیاروں سے لیس ان دجالوں کی تخریب کاری سے صرف انسانیت ہی نہیں بلبلا رہی ہے‘ بلکہ تخیل‘جو ارتقا اور ترقی کا سرچشمہ ہے اور جس کی موت کائنات کی موت ہوگی‘ بھی خطرے سے دوچار ہے۔ اس لئے بھی فنکاراور قلم کار بے خوف ہوکر الفاظ کی پوری طاقت کے ساتھ ان استبدادی نیوکلیائی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں۔ ممکن ہے اس مطالعے میں کچھ تخلیقی فنکاروں کے حوالے نہ آ پا ئے ہوں اور حقانی اپنے مطالعے کے حدود کے قیدی بن گئے ہوں۔ یقیناً دوسرے اہم قلم کاروں کی تحریریں بھی اس آواز کو بلند کرتی ہیں‘ جن کا ذکر اس مطالعے میں نہ ہوسکا۔ لیکن اس سے مصنف کے مطمحِ نظر پر حرف نہیں آتا۔ حقانی سے یہ شکایت بھی کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اس مطالعے میں ہزاروں ہزار برسوں قبل کی تاریخ کے حوالے سے تواستفادہ کیا‘ لیکن فسادات اور عالمی جنگوں کے پس منظرمیں امن کے موضوع پر لکھی جانے اردوتحریروں کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔ عرض ہو چکاکہ اس تختی کی دوسری شق بھی دہشت گردی کے حوالے سے ہے‘ جس کا پس منظر گجرات کا شرمناک سانحہ ہے۔ گجرات کی خوں چکا اور انسانیت سوزداستان نے بھی انسانیت کو اسی طرح جھنجھوڑا ہے۔حقانی نے اس شق میں بھی بہت سے قلم کاروں کے تخلیقی ابال کا حوالہ پیش کیا ہے۔ بلا شبہہ وحشت کے اس رقص پر ہمارے قلم کاروں نے جس تخلیقی ابال کا مظاہرہ کیا‘اس میں آنسو نہیں انگارے شامل تھے۔ حقانی کا خیال ہے کہ: ”پہلی بار مسلمان ادیبوں نے بغیر کسی خوف و خطر کے اس سچ کا اظہار کیا‘ جو سچ برسوں سے ان کی آنکھوں میں زندہ تو تھامگر وہ سچ باطن سے باہر نہیں آرہا تھا“۔ لیکن اس سلسلے میں یہ بھی ایک بین حقیقت اور بڑی سچائی ہے کہ غیر مسلم قلم کاروں نے جس بے خوفی کے ساتھ اس گھناونے فعل کی نندا کی ہے‘ وہ اگر مسلم قلمکار کرتے تو شاید انہیں ٹاڈا کا شکار ہوجانا پرتا۔ لیکن حقانی کی مجبوری یہ رہی ہے کہ انہیں صرف اردو کے حوالے سے گفتگو کرنی تھی‘ ورنہ بائیں بازو کے قلم کاروں نے اس سلسلے میں جس جی داری کا ثبوت فراہم کیااور قدمے سخنے اپنا احتجاج درج کرایا‘ وہ قلم کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ لیکن اصل میں ہمیں اس تختی کی تیسری شق پہ یہ کہنا ہے کہ حنیف ترین تخلیقی انتقاضہ کی تمثیل ضرور ہوں گے‘لیکن دہشت گردی‘اور انہدام انسانیت پر اجتماعی ردِ عمل کے مطالعے کی اس تختی میں ایک فرد خاص کا خصوصی مطالعہ نظر کولگتا ہے۔حقانی کے سامنے اس کا جوا ز شاید یہ ہوکہ حنیف ترین کے تخلیقی رویے میں فلسطین‘ بوسنیا‘ چیچنا‘ بغداد وغیرہ کی وحشت اور بربریت پر بے خوف احتجاج ملتا ہے‘ نیز ان کی شاعری ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار اور احتجاج بھی بن گئی ہے۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ تختی کا مقدر ہے کہ مغضوب الغضب اور رقیق القلب ایک ساتھ لکھ دیاجائے۔ دوسری تختی کی تین شقیں مولانا اشرف علی تھانوی اور تاجور نجیب آبادی کی تنقیدی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں تو ناطق گلاوٹھی کی لفظ شناسی اور تخلیقی اظہار سے روشناس کراتی ہیں۔ مولانا تھانوی کو عظیم نقاد قرار دیتے ہوئے حقانی نے شمس الرحمٰن فاروقی اور حسن عسکری کی آنکھیں مستعار لی ہیں اور ان کے حوالے سے انہیں بڑا نقاد بتایاہے۔انہوں نے تاجور نجیب آبادی کی فکرو نظر اور تنقید کی اہمیت بتائی اور ناطق گلاؤٹھی کی شعری کاوشوں کی قدر شناسی بھی کی ہے۔ تاہم خود حقانی کے مطابق یہ مضامین ابتدائی دور کے ہیں‘ اس لئے حقانی اسلوب سے کسی قدر الگ بھی ہیں۔اشرف علی تھانوی تاجور نجیب آبادی یا دیگر علما کی تحریروں میں ادب کی قدر شناسی کوئی حیرت کی بات نہیں۔ خاکسار کے خیال میں اردو تنقید نے استدلال کا ہنر تو مذہبی علماکی تحریروں سے ہی اخذ کیاہے۔ جن ناقدوں نے مذہبی علما کی تحریروں سے استفادہ نہیں کیا ان کی تحریریں فلسفہ اور نفسیات کا بیان اورمستعار معلومات کابہتر اظہار تو ہیں‘ لیکن ان میں اپنا استدلالی انداز نہیں اس لئے اثرآفرینی کی وہ کیفیت بھی نہیں۔ مذہبی علما کے نزدیک ادب کی حیثیت دجلہ کے ایک قطرے کی تھی‘ اس لئے انہوں نے کبھی بھی نقادیا شاعر ہونے کا سدعویٰ نہیں کیا۔حالانکہ تخلیقی عمل اور قدر شناسی کے اعلیٰ شعور کا اظہار ان کی تحریروں میں ہوتا رہا ہے۔
تیسری تختی میں چار شقیں ہیں۔پہلی شق میں کیفی اعظمی کی شاعری کا مطالعہ ہے۔ دوسری میں صنفِ غزل کا مطالعہ جبکہ تیسری اور چوتھی شق میں ارشد عبدالحمید اور پروین کمار اشک کی تخلیقی تگ و تاز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔’بقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل‘ میں حقانی نے شاعری کی موت سے گفتگو کی ابتدا کی ہے اور بہت سے سوالات بھی اٹھائے ہیں‘ مثلاً ”آج جو شاعری ککر متا کی طرح ہو رہی ہے‘ کیا اس شاعری سے ہمارے عوام کا ذہنی یا جذباتی رشتہ برقرار رہ سکتاہے؟ شاعری پڑھتے ہوئے اکثر توارد کا خیال کیوں جنم لیتا ہے؟کیا فکر کے سوتے خشک ہوگئے؟ کیا خیال کے چشمے سوکھ ہوگئے ہیں؟ کیا شاعری بھی مشین زدہ ہوگئی ہے؟ کیا غزل زندہ رہے گی یا مر جائے گی؟ وغیرہ سوالات کے بعد اپنے مطالعے کے حوالے‘ سے مختلف غزل گویوں کے متعلق اپنا ردِ عمل پیش کیا ہے۔تاہم ردِ عمل کو پیش کرتے ہوئے خود اپنے اٹھائے ہوئے سوالوں سے صرفِ نظر کر بیٹھے ہیں۔اس سلسلے میں ہمیں ان سے یہ ضرور عرض کرنا ہے کہ وہ آج کی غزل پر سوالیہ نشان لگانے کے باوجود جب فرد کے ذکر اذکار پر آتے ہیں تو ’العمدہ‘ کا نعرہئ مستانہ بھی بے تکلف بلند کرجاتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے‘ لیکن بھائی ’نقدا لشعر‘کی بھی تو اپنی اہمیت ہے۔ ’ککر متا‘ شاعری پربھی ”العمدہ‘ کا انطباق بے تکلف کردیا جائے تو اس میں زیاں ان قلمکاروں کا ہی ہوگا، جن پر ایسے مضامین لکھے جائں گے۔ کیا ایسے نئے قلم کار جوعلوئے تخیل یا ندرتِ خیال اور شعری معیار کی بجائے صرف اپنی شناخت کے آرزومندی کے اسیر ہیں ایسی توصیف کو سہار پائیں گے؟ اور اپنے فن اور امکانات کو بہتر بنانے کی بجائے نازِستائش کے مقتول نہ بن جائیں گے؟ نقاد کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ایسے قلم کاروں کو جن کے امکانات روشن ہوں ضایع ہونے سے بچائے رکھے اور فکری اور فنی لغزشوں کی طرف اشارے بھی کردے۔
چوتھی اور آخری تختی کی پہلی شق ایک بڑے تخلیق کار پر ایک بڑے قلمکار کے رد عمل کی تحسین شناسی ہے۔ مولانا روم کی شاعری میں اس کائنات کی دھرکنیں نغمہ بن کر شامل ہوگئی ہیں تو شکیل الرحمٰن نے ان نغموں کی جمالیات کو لفظوں کے گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔ بقول حقانی”شکیل الرحمٰن تخلیق کی ظاہری سطحوں کو مس نہیں کرتے بلکہ اس کی تمام ممکنہ سطحوں کو اپنے اکتشافی‘ جمالیاتی زاویہئ نگاہ سے دیکھتے اورپرکھتے ہیں“اس تختی کی دوسری شق اوراقِ مصور (مستقبل بعید کے تناطر میں) ہے۔ اوراق ِمصور رضوان اللہ کی لکھی ایک کتاب ہے۔اس کتاب میں کلکتہ اور دلی شہر سے متعلق تاثرات پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن حقانی اسے آج کے پس منظر میں دیکھنے کی بجائے مستقبل بعید کے پس منظرمیں دیکھ کر تنقید کی حدودسے بہت آگے نکل گئے ہیں اور تخلیق مکرر کی مثال قائم کی ہے۔ حقانی یوں بھی تنقید کوصرف تخلیق کی قدر شناسی نہیں مانتے، بلکہ تخلیق کا درجہ دیتے ہیں اور تخلیقی تنقید کے موید ہیں۔ اس لئے ہمیں اوراقِ مصور پر کچھ زیادہ نہیں کہناکہ اس کی توصیف تو مستقبل بعید کے نقاد ہی کریں گے یعنی اس وقت کے نقاد، جب ساری دنیا تو ختم ہوچکی ہو گی، لیکن یہ کتاب بچ رہے گی۔ہمیں اس تختی کی آخری شق”منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ (تحسین منور کی کہانیوں پر ایک ڈیمی ڈاٹ) پر بھی حقانی کے ہی یہ الفاظ نقل کردینے ہیں کہ”کہانی بھی مہر میں اعتبار مانگتی ہے۔سو اعتبار کا نور ان کہانیوں کے قلاوے میں چمک رہا ہے“۔ لیکن قارئین یقین کریں کہ تخلیقات سے تحسین یا توصیف کے عقد اور اعتبار کے مہر کی ادائگی میں ”العمدہ“ نے ہی قاضی کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ یعنی موجودہ ادیبوں کی طرف حقانی کا بنیادی رویہ قدر شناسی کی بجائے توصیف کا رہا ہے۔حالانکہ انہوں نے صنفِ غزل پر اپنی شکایت درج کرائی ہے‘ جس کا بیان اوپر آیا۔ وہ آج کی غزل گوئی سے شاکی توہیں، لیکن غزل گویوں کی توصیف کرنے میں کسی حد کے پابند نہیں۔یہ متضاد اوصاف ان کی تحریروں میں بانہوں میں بانہیں ڈالے رقصاں نظر آتے ہیں۔ انہیں اردو زبان کی تنگ دامانی سے بھی کچھ شکایت ہے۔یہ بے چاری زبان کرتی بھی کیا۔ارضِ ہندی کی اپنی خو بو ہے۔ عرب کی ریگستانی خطے کی خوشبو کتنا سمیٹتی۔ اپنی حد سے گذرتی تو ہندی نزاد کاہے کو رہتی۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ان کی شکایت کسی قدر ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر یہ شکایت انہیں کہیں کہیں خود ان کے الفاظ میں ”مغلق“بھی بنا دیتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اختراعی اور باکرہ تجربہ کرنامترادف الفاظ کی کمی کے سبب اردومیں ممکن نہیں۔ ”فکری اور نظری سطح پر نئے نئے کامیاب تجربے تو ضرور ہورہے ہیں‘ لیکن لفظیاتی سطح پر تجربوں کی بے حد کمی ہے۔ کوئی تجربہ کرے بھی تو خوابیدہ معاشرے کو قبول نہیں‘ ثقالت کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔“ اس سلسلے میں انہوں نے اس اصولی حقیقت پر غور نہیں کیا کہ خوابیدہ معاشرے کو جگانا کسی ایک فرد کے بس کی بات بھی نہیں‘ اور حقانی ہزار کوششوں کے بعد بھی اسے بدل نہیں سکتے۔ نیز یہ کہ ایسی کسی کاوش کو معاشرتی اور تہذیبی پس منظر اور ذہنی رویے سے دور نہیں دیکھنا چاہئے۔اہمیت الفاظ کی نہیں فکروخیالات اور محسوسات کی ہوا کرتی ہے۔الفاظ تو خیالات کا پیراہن ہوا کرتے ہیں۔ کاش کہ حقانی اس پر بھی نظر رکھتے کہ صوفیا کے اقوال و ملفوظات توایسے الفاظ میں ہیں جو عوام کی زبان پر رائج تھے‘ لیکن وہ الفاظ معنیٰ کے اعتبار سے عوام کے علم و خبر کے پابند نہ تھے‘بلکہ صوفیا کے ما فی الضمیرسے بندھے تھے۔ ان کی ترسیل بھی عوام تک اپنے توسیعی معنیٰ کے ساتھ خوب خوب ہوئی۔ یعنی وہ الفاظ معنیٰ کے اعتبار سے اپنے مروج یا لغوی معنیٰ سے الگ ہوکرصوفیا کے ضمیر میں محفوظ معنیٰ کے پابند ہوگئے۔ ادب میں پرانے الفاظ کونئے معنیٰ کا پابند کرنا ہی تخلیق کی معراج ہے۔باکرہ اور نئے خیالات کے تجربے کی کنجی بھی در اصل مترادفات یا الفاظ کی قلابازیوں میں پوشیدہ نہیں۔ بلا شبہ مترادفات تحریر کو خوبصورتی عطا کرتے ہیں،، فکرو نظر کی بہتر ترسیل کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت بنیادی نہیں۔ اصل الاصل توجذبے کی صداقت اوراحساس کی شدت ہے۔جذبے کی صداقت میں اور احساس کی شدت فکر و عمل سے متحد ہوجائے توعین ایمان بن جاتا ہے اور لفظوں کا روپ دھارلت تو اعلیٰ ادب ٹھہرتا ہے۔ جذبہ اپنی احساس کی شدت کے ساتھ پیش ہوجائے تو الفاظ مروجہ لغات اوربتائے ہوئے قدیم معنیٰ سے بلند ہوکرنئے معنی کے امین بن جاتے ہیں۔ الفاظ اپنے استعاراتی استعمال اور ترکیبی اظہارکے جامہ میں اپنی تقلیب کرتے ہیں۔ایسے میں مروج الفاظ میں پیش کردہ تجربات بھی باکرہ ہوسکتے ہیں۔
عرض ہو چکا کہ حقانی صاحبِ جنوں قلمکار ہیں۔ ان کے پاس اپنی فکر، اپناقلم اور اپنا انداز ہے‘ جو خوب، بلکہ بہت خوب ہے۔وہ جب عالمِ جذب میں اپنے شبدا ولی کو گنگا جمنی تہذیب سے مس کرکے گومتی ندی میں نہلاتے ہیں تو ان کے شبدوں سے گنگا جمنی تہذیب کی شوخ الھڑ اور کسے بدن کی حسینہ باہر آکر قاری کا دل موہ لیتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اس الھڑ حسینہ کو ”عرب کی’غمیزہ“ (خوبصورت عورت) کے روپ میں پیش کرتے ہیں اور عجمی قاری کو بھی امراؤالقیس اور ابولقاسم حریری کے تپتے ہوئے صحراوں میں امتحان لینے کے لئے چھوڑدیتے ہیں۔ ایسے میں بے چارا قار ی حقانی کے توغل‘ (وغل – Excellence) کو کیا سمجھے اور”اغلاق“و”غموض“ کا شکار ہوکر کم فہم‘ بلکہ نا فہم نہ بن جائے تو کیا کرے۔ ان کی نثر میں ایک نوع کی جذبی کیفیت ہے، اس کیفیت کی بنا پر عدم فہمی کے باوجود ان کی تحریریں قاری کو بھاتی ہیں۔ اورخواہی نہ خواہی تختی سے شغف رکھنے والے ایسے لوگ‘جو متن پڑھنے سے ز یادہ ہجّے کرکے پڑھنے کے عادی ہیں ’(’تغضیب‘ کو غضب اور’تجمیلی‘ کو جمالیاتی (علیٰ ہذ القیاس) پڑھ لیں‘ لیکن ادب کے ایسے’علامہ‘ جو یونیورسیٹیوں سے متعلق ہیں یا مغرب کی نقالی اور فیشن زدگی میں آنکھیں بند کئے بین المتونیت‘ ساختیات اور ردتشکیل کا نقارہ بجا رہے ہیں‘ (ہمیں علم ہے کہ حقانی خود بھی اسے پسند کرتے ہیں لیکن اس کی فہم کے ساتھ)‘ انہیں تو حقانی کی تختیاں مرعوب بھی کریں گی اور ڈرائیں گی بھی۔

Mob. 9330057962
Email: abuzarhashmi@gmail.c

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں