116

قوم وملت کا اک بہی خواہ رخصت ہوا

شعیب عالم قاسمی
9؍جنوری کوصبح پونے نو بجے پہلے گھنٹے کے اختتام پر حضرت مولانامفتی عمران اللہ صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند وناظم شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند کے ہمراہ شیخ الہند اکیڈمی کی درس گاہ سے کچھ کتابوں کی تلاش میں دارالعلوم کی لائبریری جارہا تھا کہ دفتر تنظیم وترقی کے سامنے پہنچتے ہی یہ دلدوز اور روح فرسا خبر سماعتوں سے ٹکرائی کہ حضرت مولانا حسیب صدیقی صاحب داعیِ اجل کو لبیک کہ گئے ،لائبریری میں پہنچ کر اس خبرکا ذکرکیا ،تووہاں پر موجود ایک ملازم نے فون سے رابطہ کرکے خبر کی تصدیق کی، تھوڑے وقفے کے بعد ہی مسجدقدیم کے میناروں سے’’ اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘ کی صداکے ساتھ موصوف کی وفات کا اعلان ہوااور پورے شہر میں غم کی لہر دوڑگئی۔
مناسب قامت معمولی درازی لیے ہوئے،سرخ وسفید رنگ ،جس پر گنجان، خوبصورت، سفیدداڑھی،باریک اور لمبی ناک اور اس پر خوبصورت چشمہ اور چشمے کے کنارے سے جھانکتی ہوئی بڑی بڑی روشن آنکھیں،شیروانی اور ٹوپی میں ملبوس ،چہرہ نہایت نفیس وپرنور،یہ تھے مولاناحسیب صدیقی صاحب مینیجر مسلم فنڈ دیوبندوخازن جمعیۃ علماے ہند۔
مرحوم ایک پرکشش شخصیت کے مالک تھے ،آپ کی زندگی ملکی وملی ،سیاسی وسماجی ،دینی واقتصادی اورمختلف النوع خدمات سے عبارت تھی،آپ شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کے تلمیذ اور فداے ملتؒ کے دست راست اور مشیرکارتھے،دیوبند کے لوگوں کی مالی حالت کی درستگی کے لیے حضرت فداے ملت نے شہر کے دیگر سماجی لوگوں کے ساتھ مل کر۱۹۶۱ء میں مسلم فنڈ کی بنیاد ڈالی ،مولانا مرحوم اس کے مینیجر بنائے گئے اور تاحیات اس منصب کے ذریعے کمزوراور بے سہارا عوام کی خدمات کرتے رہے۔اس ادارے کے اولین مقاصد میں عوام کی امانتیں جمع کرنااور اس جمع شدہ پونجی سے حاجت مندوں کو بلاسود قرض دینا ؛تاکہ ان کو روزگار مل سکے،مارکیٹ کے دکانداروں سے چھوٹی چھوٹی رقم وصول کرکے ان کے کھاتوں میں جمع کرنااور بوقت ضرورت امانت داروں کو ان کی رقم ادا کرنا شامل تھا۔مولانا مرحوم کی سوجھ بوجھ،تدبرودانائی اورکدوکاوش سے مسلم فنڈنے بڑی ترقی کی ، مولانامرحوم نے مسلم فنڈ کے ذریعے غریبوں کے زیورات، جو بوقتِ مجبوری سود میں بنیوں کے پاس چلے جاتے تھے،ان کو محفوظ کرکے معمولی قسطوں پر بلاسود ان کے مالکوں کے حوالے کیے۔اس ادارے کے ذریعے فلاحی کاموں میں عام ہنرمندوں کو اقتصادی مدد دینا بھی ایک قابل قدر کارنامہ ہے ،مارکیٹ میں دکانداروں کو خراد مشین،کافی مشین،جوسر مکسر،سلائی مشین،پیکو مشین،کمپیوٹر،رکشا،ریڑھی اور دیگر سامان خرید کردیاجاتا ہے اور مشینری کی قیمت دوسو دنوں پر تقسیم کرکے یومیہ آسان قسطوں میں وصول کی جاتی ہے ،یہ قسطیں بھی دفتر کا ملازم خود جاکر وصول کرتا ہے ،اس اسکیم سے کمزور تاجروں کو بھرپور فائدہ حاصل ہوااورالحمدللہ سیکڑوں افراد کو معیاری روزگار فراہم ہوا۔
مسلم فنڈ کے علاوہ اور بہت سے ادارے مولانا مرحوم نے قائم کیے، جن کے ذریعے عوام کو روزگار فراہم ہوا،۱۹۷۱ء میں پبلک نرسری اینڈجونیئر ہائی اسکول کا قیام،۱۹۸۰ء میں مسلم فنڈ کمرشیل انسٹی ٹیوٹ کا آغاز،۱۹۵۸ء میں مدنی آئی ٹی آئی اسپتال کی بنیاد،۱۹۹۱ء میں مدنی ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کی ابتدا۱۹۹۶ء میں مسلم فنڈ ناگل برانچ کا افتتاح،۲۰۰۲ء میں پبلک گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کی شروعات۲۰۰۸ء میں اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کا اسپیشل اسٹڈی سینٹراور موٹر ڈرائیونگ اسکول کاقیام عمل میں آیا(چند شخصیتیں ،ص:۱۲۷)آپ کی ہمہ جہت خدمات کو دیکھتے ہوئے دیوبند کے عوام نے ۲۰۰۶ء میں دیوبند میونسپل بورڈ الیکشن میں کامیاب کرکے چیئرمین کے عہدہ پر بھی فائز کیا،غریبوں کے روزگار کے لیے آپ ہمیشہ متفکر رہے، چیئرمین رہتے ہوئے آپ نے دیگر سماجی خدمات کے ساتھ دھوبیوں کے لیے حوض اورپانی کا نظم بھی کرایا۔
مذکورہ بالا سیاسی،سماجی،ملکی ملی اور اقتصادی خدمات کے ساتھ دارالعلوم دیوبندکی مالیاتی کمیٹی کے ممبررہے اور مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ علماے ہند کے آ پ خازن تھے،قوم وملت کی خدمت کا جذبہ آپ کو ورثے میں ملا تھا،آپ کے والد منشی محمد عزیز صدیقی دارالعلوم دیوبند کے دفتر تعلیمات کے محنتی اور مخلص خادم تھے،دارالعلوم دیوبند سے آپ کے تعلق اور عشق کو اس واقعے سے سمجھا جاسکتا ہے ،جس کو معروف قلم کار،دارالعلوم دیوبند کے عربی ماہنامہ ’’الداعی‘‘ کے ایڈیٹر مولانا نورعالم خلیل امینی صاحب نے رقم فرمایا ہے۔موصوف رقم طراز ہیں:
’’ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ مطابق اپریل ۱۹۹۷ء میں دارالعلوم کی طرف سے قانونی چھٹی کے موقع سے منشی محمد عزیز پر فالج کا حملہ ہوا،جس کی وجہ سے وہ نقل و حرکت سے محروم ہوگئے،بالآخر گھر بیٹھنا پڑا،اس بیماری اور اس سے رونما ہونے والی تکالیف میں بھی،اپنے پروردگار سے خوش،صابروشاکر اور اس کے فیصلے کو ذریعہۂثواب سمجھتے رہے؛لیکن ہمیشہ دارالعلوم کے مشتاق رہے،جہاں انہوں نے ایسی محبت واخلاص کے ساتھ اپنی عمر بتا دی،جس کی مثال کبار مشایخ کے علاوہ شاید وباید ہی ملتی ہے۔ان کے بڑے صاحبزادے جناب محمد حسیب صدیقی اور چھوٹے صاحبزادے محمد ایاز صدیقی نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ منشی جی ایام مرض میں بھی،ہم لوگوں سے اصرار کرتے رہے کہ میرے لیے کام فراہم کرو؛اس لیے کہ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتااور اگر تم لوگ مجھے کسی طرح دفتر تعلیمات پہنچا دو،تو میں وہاں بیٹھ کر کام انجام دے سکتا ہوں۔جب ایک روز ان کا اصرار طول پکڑ گیا،توانھیں ’’وہیل چیئر‘‘پر بٹھا کر دارلعلوم کے احاطے میں لے گیا اور احاطۂ مولسری سے ان کے دفتر کوجانے والے زینے کے پاس رکاکر پوچھا:ابوجان!آپ اس زینے پر کس طرح چڑھ سکتے ہیں،جب کہ آپ میں نقل وحرکت کی بھی طاقت نہیں؟ہم لوگ انھیں چند منٹ وہاں رکائے رہے،انھوں نے دارالعلوم کے وسیع وعریض احاطے اور درودیوار پر حسرت بھری نگاہ ڈالی،پھر ہم لوگ انھیں واپس لے آئے‘‘۔(پس مرگ زندہ ،ص:۵۱۱)
اپنے والد کی طرح مولانا حسیب صدیقی میں بھی ملک وملت اور قوم و سماج کی خدمت کا بے لوث جذبہ موجزن تھا،کبیرالسن اور انتہائی ضعیف ہونے کے باوجود وہ مصروفِ خدمت رہتے،روزنامہ ہمارا سماج کے نامہ نگار رضوان سلمانی نے بتایا کہ دودن قبل وہ آفس میں اچانک چکراکرگرگئے تھے۔مولانا مرحوم زندگی کے آخری لمحات تک قوم وملت کی نوع بنوع خدمات انجام دے کر ۸۲؍سال کی عمر میں دارفانی سے دارجاودانی کی طرف رحلت فرماگئے۔نماز جنازہ بعد عصر احاطۂ مولسری میں امیرالہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری استاد حدیث دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیۃ علماے ہند نے ادا کرائی،قبرستان قاسمی میں تدفین عمل میںآئی۔تغمد اللہ بغفرانہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں