126

قومی تعلیمی پالیسی2019: ایک مربوط نظام کی ضرورت


ڈاکٹر منور حسن کمال
ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کے پس منظر میں مولانا ابوالکلام آزاد جو ملک کے پہلے وزیرتعلیم تھے۔ ان کے کردار کی اہمیت مسلم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا: ”تعلیم کا واحد مقصد روزی روٹی کمانا نہیں ہونا چاہےے، بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جائے اور یہی تعلیم کا سب سے مفید پہلو ہے اور اسی سے معاشی و تمدنی نظام بھی بہتر ہوسکے گا۔“

نوع انسانی کے ہر دورمیں کسی بھی چیز کا علم جونسلیں گزرگئیں ان کی تمام کارگزاریوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں موجودہ نسل حتی المقدور اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ اس لیے نئی نسل پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے علم کے مطابق حاصل شدہ علم میں اضافہ کرے اور اس کو اس طرح مربوط کرے کہ وہ آئندہ نسلوں کے لیے سازگار ہو۔
آئین ہند میں درج ہے کہ ابتدائی سطح کے سبھی بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ لیکن یہ ہدف ہم آزادی کے 71برس بعد بھی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔بی جے پی کی مرکزیت والے این ڈی اے کے دوسرے دوراقتدار میں وزیراعظم مودی نے راشٹریہ شکشاآیوگ(قومی تعلیمی پالیسی) کو منظم اور ہر ہندوستانی طالب علم کے لیے مفید اور کارآمد بنانے کے ساتھ ساتھ طلبا کے مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے مرتب کرایا ہے۔ یہ اس سلسلے میں ایک اہم کوشش ہے، لیکن اس کے لیے ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم خود اس تعلیمی پالیسی کے سربراہ ہوں گے۔ مرکزی وزیر تعلیم اس کے وائس چیئرمین ہوں گے جو روزمرہ امور کے لیے راست طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2019ایک ایسے ہندوستان کو مرکوز نظام تعلیم کے تصور کے ساتھ قائم کی گئی ہے، جس میں سب کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرکے ملک کو پائیداری کے ساتھ مساویانہ اور علم دوست سماج کا روپ دینے میں براہ راست تعاون مل سکے۔ یہ پالیسی بچپن کی تعلیم کے ابتدائی برسوں کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ اس کا مقصد 2025تک 3سے 6برس کے تمام بچوں کے لیے بچپن کی غیرمعمولی نگہداشت اور ان کے لیے تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے میں حکومت نے خاطرخواہ سرمایہ کاری اور نئی پیش قدمی کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اس پالیسی میں یہ بات یقینی بنانے کے لیے ایسے ٹھوس اقدامات تجویز کرنے کا منصوبہ ہے جس میں بچہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کسی بھی موقع سے محروم نہ رہے۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کے لیے خصوصی تعلیمی زون بھی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک نیا ویژن اور ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت وسیع وسائل اور سرگرم کثیر شعبہ جاتی ادارے وجود میں آئیں گے۔ اس کے لیے ملک کی 800یونیورسٹیوں اور 40ہزار کالجوں کو تقریباً 1500 ممتاز اداروں سے جوڑا جائے گا۔ سب کے لیے تعلیم، سائنس، علم فن، انسانیات، ریاضیات اور پیشہ ورانہ شعبوں میں مربوط شکل میں ایک وسیع بنیادی لبرل آرٹ کی تعلیم کو شامل کیا جائے گا۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی میں یہ بھی التزام ہے کہ تمام تر پیشہ ورانہ تعلیم اعلیٰ تعلیمی نظام کا اٹوٹ حصہ ہوگی۔ اس کا مقصد2025 تک کم از کم پچاس فیصد طلبا کو صنعت و حرفت کے میدان میں منظم کرنا ہے۔ تعلیم بالغان بھی نئی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہوگی، جس کے تحت 2030تک نوجوانوں اور بالغوں کی 100فیصد خواندگی کے ہدف کو پورا کرنا ہے، تاکہ ہر طالب علم میں یہ صلاحیت پیدا ہوسکے اور وہ خواندہ افراد کی فہرست میں شامل ہوسکے۔
ابتدائی درجات سے 12ویں کلاس تک مفت اور لازمی تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ’حق تعلیم قانون‘ میں توسیع کرنا بھی اسی قومی تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے۔ ہر طالب علم کوکئی ضروری زبانوں میں مہارت حاصل کرنے، سائنسی مزاج پیدا کرنے، جمالیات اور فنون کو سمجھنے، ترسیل، ڈیجیٹل خواندگی، ہندوستان کے بارے میں معلومات، مقامی اور علاقائی معاشرہ کی سطح پر معلومات اور ملک اور دنیا کو درپیش سنجیدہ مسائل کی معلومات پر زور دیا جائے گا۔
قومی تعلیمی پالیسی میں ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ 2020کے آخر تک قومی درسیات کے خاکے پر نظرثانی کے کام کو مکمل کرلیا جائے گا اور یہ خاکہ تمام علاقائی زبانوں میں فراہم کرایا جائے گا۔ نئی نصابی کتب کی تیاری اور اعلیٰ درجے کے تراجم کا حصول بھی پالیسی کا اہم حصہ ہوگا۔
اعلیٰ تعلیم کے اس نئے ڈھانچے کی رو سے تدریس و تحقیق کے لےے وسیع وسائل سے بھرپور درخشاں اور خودمختار کثیر شعبوں والے اداروں کا قیام بھی پالیسی کا حصہ ہوگا۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کے تمام ادارے کثیر شعبہ جاتی ادارے بن جائیں گے جہاں تمام شعبوں اور میدانوں میں تدریسی پروگرام شامل ہوں گے۔ ایسے تمام ادارے یا تو یونیورسٹیاں ہوں گی یا پھر ڈگری دینے والے خودمختار کالج ہوں گے۔ اس کے لےے کثیر سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے تاکہ منصفانہ اور شفاف نظام کے لےے اعلیٰ تعلیم کے سرکاری اداروں کی توسیع ہوسکے اور وہ فروغ تعلیم کے لیے توانا اور مستحکم ہوں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نظم و نسق آزاد بورڈوں کے ذریعے چلایا جائے گا، جنہیں مکمل تعلیمی اور انتظامی خودمختاری حاصل ہوگی۔
ایک بہت ضروری مسئلہ قبائلی اور علاقائی زبانوں کے غیرمستحکم ہونے کا ہے اور بڑی حد تک ان کے ختم ہونے کے آثار نظر آتے ہیں، اس سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسی میں ہر علاقہ کی ثقافت اور روایات کی حقیقی شمولیت، تحفظ اور اسکولوں کے تمام طلبا میں حقیقی معنوں میں فہم کا مقصد صرف اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے، جب قبائلی زبانوں سمیت تمام ہندوستانی زبانوں کا احترام کیا جائے، اس لیے حقیقی طور پر ملک کی ثروت مند زبانوں اور ادب کاتحفظ بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کا تحفظ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ پورے ملک میں ہندوستانی زبان و ادب کے مستحکم پروگراموں، اساتذہ، فیکلٹی، تحقیقی مراکز اور کلاسیکی زبانوں کا فروغ ہندوستانی زبانوں میں ادب اور سائنسی لغات پر مرکوز ہوگا اور اس کی ترقیات میں معاون ومددگار ہوگا۔ کلاسیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے موجودہ قومی اداروں کو مستحکم کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پالی، فارسی اور پراکرت زبانوں کے لیے ایک الگ نیشنل یونیورسٹی قائم کی جائے۔
ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کے پس منظر میں مولانا ابوالکلام آزاد جو ملک کے پہلے وزیرتعلیم تھے۔ ان کے کردار کی اہمیت مسلم ہے۔ قومی نظام تعلیم کی تشکیل کو مستحکم اور مکمل کرنے کے لےے 1968میں ملک کی تعلیمی پالیسی کو مرتب کیا گیا، لیکن اس کو عملی شکل دینے کے لیے خاطرخواہ وسائل کا فقدان رہا، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ قومی نظام تعلیم ان توقعات پر پورا نہیں اترسکا، جنہیں اس سے وابستہ سمجھا گیا۔ سماجی انحطاط اور اخلاقی پستی جو تعلیم کے حصول میں آسانی کے سبب دورہوسکتی تھی، اس کے آثار موجود رہے۔ اگرچہ بہت حد تک ان پر قابو پایا گیا، لیکن پوری طرح ان کا سدباب نہ ہوسکا۔ اس کے بعد 1985 میں ایک نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اس کے تحت پہلی پالیسی کے جائزے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو رفتار وترقی دینے میں ناکامی کے اسباب بھی زیرغور آئے، جس میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ آزاد ہندوستان کے تعلیم کے معمار اول مولانا ابوالکلام آزاد کے خوابوں کو مکمل طور پر عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ پھر ملک کے سامنے 1986 میں نئی قومی تعلیمی پالیسی پیش کی گئی اور قومی تعلیمی نظام کے تصور کی نقش گری کے لیے مو ئثر اقدامات کیے گئے۔1992میں اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے وزارت تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے 18فروری 1948 کو پریس کانفرنس میں تعلیم کے تعلق سے اپنے بنیادی نظریے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ”صحیح طور پر آزادانہ اور انسانی قدروں سے بھرپور تعلیم ہی لوگوںمیں زبردست تبدیلی لاسکتی ہے اور انہیں ترقی کی جانب لے جاسکتی ہے۔“ ان کا خیال تھا کہ ”مشرقی اور مغربی علوم میں ہم آہنگی پیدا ہو۔“ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا: ”تعلیم کا واحد مقصد روزی روٹی کمانا نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جائے اور یہی تعلیم کا سب سے مفید پہلو ہے اور اسی سے معاشی و تمدنی نظام بھی بہتر ہوسکے گا۔“vr
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں