121

قومی اردو کونسل کے صدر دفترمیں مذہب وثقافت پینل میٹنگ کا انعقاد

نئی دہلی:10/جولائ(پریس ریلیز)

مذہب اور ثقافت کی تفہیم آج کے ہندوستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔اسی مناسبت سے کونسل کچھ ایسی کلاسیکی کتابوں کا ترجمہ اردومیں کرانا چاہتی ہے جن کے ذریعے ملک کی مختلف ثقافتوں اور مذاہب کو سمجھا جاسکے۔اس حوالے سے دارا شکوہ کی ’مجمع البحرین‘، ’سکینۃ الاولیا‘اور ’سراکبر‘ خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔دارا شکوہ برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔انھوں نے سنسکرت کے باون اپنشدوں کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے صدر دفترمیں منعقدہ مذہب وثقافت پینل کی میٹنگ میں کیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسی کتابوں کی اشاعت سے معاشرے کے اندر منافرت کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور دوریاں نزدیکی میں تبدیل ہوں گی۔آج کی میٹنگ کی صدارت معروف دانشور اور ماہر اسلامیات و مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کی۔ انھوں نے کہا کہ رواں سال گرونانک دیوجی کا 550واں یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں کونسل گرونانک دیو پر لکھی گئیں منظوم اور منثور کتابوں کو اردومیں ترجمہ کرکے مقدمہ کے ساتھ شائع کرے تو یہ ان کے لیے بہترین خراج عقیدت ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ آج کے معاشرے میں انسان جس جذباتی بحران کاشکار ہے اور دن بہ دن جو دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، انھیں دور کرنے کی یہ ایک اچھی پہل ہوگی۔
اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے وائس چیرمین پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ آج کے بدلتے حالات میں صوفی ازم کے تصور کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اس کی واضح مثال ملتی ہے کہ جب جب معاشرے میں اختلافات،تعصبات اور برائیوں کا دور دورہ ہوا، صوفیا نے اپنے کردار اور تعلیمات سے معاشرے کی اصلاح کا کام کیااور ا من وبھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار اداکیا۔
میٹنگ میں جن ادیبوں اور مصنفوں نے شرکت کی، ان میں پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر شاہداختر، پروفیسر زینت شوکت علی، پروفیسر رمیش بھاردواج، پروفیسر سید شاہ حسین، ڈاکٹر مفتی زاہد علی خاں، مولانا مبارک حسین مصباحی، ڈاکٹر مشتاق تجاروی، ڈاکٹر شبیر حسین، جناب اقبال انصاری کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمک ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر فیروز عالم، محترمہ آبگینہ عارف اورڈاکٹر شاہد اختر انصاری شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں