86

قومی اردو کونسل کے زیراہتمام ’محمد داراشکوہ: حیات و خدمات‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد

نئی دہلی:  داراشکوہ میں غیرمعمولی صلاحیتیں تھی۔اس نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو وسیع تر تناظر میں سمجھنے اور پھیلانے کی کوشش کی۔ داراشکوہ نے تمام مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ مذہبی شخصیات کے درمیان وقت گزارا۔ مختلف امور اور مسائل پر گفتگو کی۔ اس نے ہندو مذہب کو سمجھنے کے لیے سنسکرت زبان بھی سیکھی اور کاشی کے برہمنوں کے ساتھ بھی وقت گزارا۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے زیراہتمام منعقدہ دو روزہ قومی سمینار ’محمد داراشکوہ: حیات و خدمات‘ کے افتتاحی اجلاس میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر کرشن گوپال (جوائنٹ سکریٹری، آر ایس ایس) نے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ داراشکوہ مسلمان تھا۔وہ اپنے گہرے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں مختلف نظریات ہیں اور رہیں گے لیکن دنیا محبت اور ہم آہنگی سے چلے گی۔
سمینار کے مہمانِ اعزازی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنے خطاب میں کہا کہ داراشکوہ ہماری مشترکہ تہذیب کی ایک روشن علامت تھا۔ وہ اس سلسلہئ فکر سے جڑا ہوا تھا جس میں اتحاد، یگانگت اور یکجہتی کا تصور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ وائس چانسلر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داراشکوہ چیئر کے قیام کا اعلان بھی کیا جس کے تحت داراشکوہ پر تحقیقی مطالعات کے سلسلے کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے دہلی میں داراشکوہ سینٹر کے قیام پر بھی زور دیا تاکہ داراشکوہ کے افکار و تصورات کی مکمل طور پر تشہیر کی جاسکے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے کہا کہ داراشکوہ پر سمینار ایک نئے باب کا آغاز ہے جس سے داراشکوہ پر مزید گفتگو کے دَر وا ہوں گے۔ انھوں نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داراشکوہ پر ایک وِنگ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔
استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ آج یہاں ہندوستان کے ایک ایسے شہزادے کی حیات و خدمات پر گفتگو ہورہی ہے جو ایک شہزادہ کم اور صوفی، یوگی اور سنیاسی زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے صوفی شہزادے پر یہ سمینار یقینا میل کا پتھر ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ داراشکوہ نے دنیا کے دوسرے ممالک میں ہندوستانی تہذیب اور کلچر کو متعارف کرایا۔
قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے داراشکوہ کی حیات و خدمات مبسوط گفتگو کی اور داراشکوہ پر سمینار کے انعقاد کو موجودہ وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ داراشکوہ ہندوستانیت کا مظہر اور بین مذاہب اتحاد اور یکجہتی کی ایک روشن علامت تھے۔ اگر وہ ہندوستان کے حکمراں ہوتے تو اس ملک کی تاریخ، تصویر اور تقدیر کچھ اور ہی ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ سَروْ دھرم سمبھاؤ کا تصور سب سے پہلے داراشکوہ نے ہی دیا تھا۔ اس کا وژن بہت وسیع تھا، وہ اس روحانیت پر یقین رکھتا تھا جو انسانوں سے نفرت نہیں بلکہ محبت سکھاتی ہے۔ خدمتِ خلق، احترامِ آدمیت اس کا منشور تھا۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے کہا کہ ِداراشکوہ کے افکاروتصورات کو آج کے عہد میں عام کرنے کی ضرورت ہے اور اسی مقصد کے تحت قومی اردو کونسل داراشکوہ کی تمام کتابو ں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اردو میں اس کے ترجمے بھی کرا رہی ہے۔ اس موقعے پر قومی اردوکونسل کی شائع کردہ کتاب ’مجمع البحرین‘ کے ترجمے کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت جناب تحسین منور نے کی اور شکریے کی رسم قومی اردوکونسل کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے ادا کی۔
پلینری سیشن میں محترمہ آذر می دخت صفوی نے اپنے کلیدی خطبے میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ داراشکوہ نے معاصر روایات کا رخ موڑ کر اسے سائنسی بنانے کا کام کیا۔ داراشکوہ منطقی ذہن رکھتا تھا، وہ فکر انسانی کا علمبردار تھا۔
پروفیسر محمد شبیر نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ داراشکوہ متعدد صلاحیتو ں کا حامل تھا۔ کئی اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود مطالعے کے لیے وقت نکالا اور بین المذاہب مکالمے میں دلچسپی لی۔ اس نے اپنشد کا مطالعہ کیا اور ہندو مت اور اسلام کے درمیان یکسانیت کو تلاش کیا۔ وہ سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پر یقین رکھتا تھا۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر علی اکبر شاہ نے کی۔
ظہرانے کے بعد تکنیکی سیشن کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر طلحہ رضوی برق نے کی۔ اس سیشن میں پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر سید محمد عزیز الدین ہمدانی او رپروفیسر سید عین الحسن نے پرمغز مقالے پیش کیے۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے انجام  دیے۔  
دوسرے سیشن کی صدارت شریف حسین قاسمی نے، جبکہ پروفیسر سید حسن عباس، پروفیسر سلمہ محفوظ، پروفیسر طلحہ رضوی برق نے اپنے مقالے پیش کیے۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں