158

قوسِ قزح

فیضان الحق
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ہماری زندگی سے رنگوں کو الگ کر دیا جائے، تو ہمارے پاس کیا بچے گا؟ کیا ہماری خوشیوں کی تقاریب یا ماتم کی محفلیں ان رنگوں سے بے نیاز ہو سکتی ہیں؟ اگر رنگ بذات خود کوئی اہمیت نہیں رکھتے،تو ایک گلشن کے سارے پھول ایک ہی طرح ہمیں اپنی طرف کیوں نہیں کھینچتے؟کیا ہمیں گلاب صرف اس لیے پسند ہے کہ اس کی پنکھڑیاں پرت دار ہوتی ہیں؟ کیا ہمیں چمپا،چمیلی،گڑہل،گیندا کے پھول محض اپنی ساخت کے سبب کم متوجہ کرتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے، تو پھر ہمیں غور کرنا چاہیے اپنی زندگی میں رنگوں کی اہمیت پر۔پیدائش سے لے کر وفات تک یہ رنگ ہمارا پیچھا کرتے ہیں؛بلکہ یہ ہماری مذہبی اور قومی شناخت کا بھی ذریعہ ہیں۔کہیں خوشیوں کا رنگ کالا،تو کہیں سفید ہے۔ کہیں غموں کا رنگ سفید،تو کہیں کالا ہے۔سوال یہ ہے کہ رنگوں کے مابین یہ امتیاز کیونکر؟ کیا خالقِ الوان نے بھی اپنے لیے کوئی رنگ مخصوص کیا ہے؟وہ تو جب اپنی تصویر میں رنگ بھرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو ایک باغ لگاتا ہے،جس میں سبز رنگ بھی ہوتا ہے اور سرخ رنگ بھی، نیز زرد، گلابی، بنفشی، زعفرانی، سیمابی، سنہرا، سیاہ، مٹمیلا، گندمی اور بھورا بھی؛لیکن اس کے بندے اپنی تصاویر کےلیے کسی ایک رنگ پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔آخر کیوں؟
حکیم مطلق کو اشرف المخلوقات پر ترس آیا۔ اس نے اپنے بندوں کو مصوری کے آداب سکھاناچاہے؛ چنانچہ آسمان پر گھٹاٹوپ بادل امنڈ آۓ۔ پورب سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلیں۔اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔کافی دیر تک بارش ہوتی رہی۔فضاؤں کی گرد زمیں بوس ہو گئی۔مکانات اور محلات دھل گئے۔ مسجد و مندر کے مناروں اور محرابوں پرچمک پیدا ہو گئی۔ اشجار کا رنگ دھانی اور دریاؤں کا سیمابی ہو گیا۔ رفتہ رفتہ بارش کی دھار میں ٹھہراؤ پیدا ہوا،بوندیں ہلکی ہو گئیں اور ایک پھوار کا سماں بن گیا آسمان سے زمین تک پگھلی ہوئی چاندی پھیل گئی۔ ادھر جنوب مغربی کنارے پر سورج نے ذرا سا سرابھارا اور ادھر شمال مشرقی آسمان پر ایک کمان بن کر تیار ہو گئی۔ رنگوں کا حسین امتزاج لیے۔ ترکی محبوب کے ابروؤں کی طرح گول، سات رنگوں کی پرت در پرت،جس سے ہزاروں رنگ پھوٹ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔سب سے نچلا حصہ بیگنی، پھر بنفشی،پھر نیلگوں،جس کی پشت پر سبز رنگ سوار،پھر زرد اور زرد پر نارنگی اور نارنگی پر سرخ، تہ در تہ، یکے بعد دیگرے، اف کیا عالم ہے! امتزاج کی یہ صورت کہ خطِ فاصل کھینچنا مشکل،ہر رنگ الگ ہو کر بھی ایک۔ سب نیلگوں،سب زعفرانی۔
بچوں کی نظر پڑی،اچھلتے ہوئے گھر سے باہر نکل آۓ۔لوگوں نے آسمان پر خوشیوں کی ایک لکیر دیکھی۔شاعروں کو خبر ہوئی۔ وہ بھی اپنے اپنے گوشوں سے باہر نکل آئے۔ کچھ منھ میں پان لیے،کچھ اپنی چھڑی ٹیکتے۔ کسی کو اس گولے میں اپنی خمیدہ کمر نظر آئی اور کسی کو اپنے محبوب کی ادائیں۔میر تقی میر صاحب کو تو یہ کسی بلوان کی کمان لگی،جس کا چلہ اٹھانے سے آفتاب بھی قاصر ہے:
کس زور کش کی قوس قزح ہے کمان پاک
جس کی اٹھا سکا نہ کبھی سیسر آفتاب
اسی بیچ خواجہ حیدر علی آتش صاحب بھی بچوں کو کنارے کرتے ہوئے میدان میں پہنچ گئے۔ انہیں تو اس میں اپنے محبوب کی ابرو نظر آئی۔داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور یوں گویا ہوئے:
قوس قزح سے ہم نے بھی تشبیہ دی اسے
چلہ نہ ہونے سے جو وہ ابرو کماں نہ تھی
دیکھتے ہی دیکھتے شاعروں کی تعداد بڑھنے لگی۔محسن نقوی صاحب کو اسے دیکھ کر محبوب کی انگڑائی یاد آ گئی۔فرمایا:
وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی
ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو
چندربھان کیفی دہلوی نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور تصدیق کرتے ہوئے فرمایا:
لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کا
عکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کا
اور پھر تو جیسے اشعار کی برسات ہونے لگی:
بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں
ساغر تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا
(ساغر صدیقی)
جھکنے لگی ہے قوس قزح صبح دم نوید
یہ ٹوکری گلاب کی سر پر لوں اور گاؤں
(افضال نوید)
آسمانوں میں لچکتی ہوئی یہ قوس قزح
بھیس بدلے ہوئے راون کی کماں ہے یارو
(اقبال ماہر)
پھر ایک روز مرے پاس آ کے اس نے کہا
یہ اوڑھنی ذرا قوس قزح سے رنگ مری
(دانیال طریر)
میں شعر سنتا رہا۔ واہ واہ کرتا رہا،قسم قسم کی تشبیہیں دیکھیں،بھانت بھانت کی بولیاں سنیں،دل جھوم اٹھااور من میں فرحت و انبساط کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد خیال آیا کہ اگر رنگوں کا یہ حسین امتزاج نہ ہوتا،تو کیا قوس قزح کی محض خمیدگی یا ایک دو رنگ یہ جاذبیت پیدا کر پاتے؟!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں