100

قلم گویدکہ من شاہِ جہانم!

احمد بن نذر
صدی دو صدی نہیں،زمانے بیت گئے،تہذیبوں نے عروج کے مراحل طے کیے،پھر وقت گزرااورتہذیبیں ’’انقلاباتِ دہر‘‘کی زدمیں آئیں اور رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتی چلی گئیں،فتح مندیوں نے حکم رانیوں کے خلعتِ فاخرہ زیب تن کیے اور ہوتے ہوتے بس اپنانام چھوڑ گئیں؛ بلکہ بہت سوں کا نام بھی وقت کی بے رحمیوں اور خرد برد کاشکار ہوکے صفحۂ دہر سے نابود ہوگیا،مگر قلم کی افادیت ہردورمسلم رہی اور قرطاس کے ساتھ اس کے روابط کی ڈور مضبوطی سے بندھی تھی، مگر قلم کو اپنی ذات کا عرفان تب حاصل ہوا اوراسے اپنی اہمیت سے شناسائی تب ہوئی ،جب رب لم یزل ولایزال کی لازوال وبے مثال کتاب نے اس کو سندِ عزوکرامت عطاکرتے ہوئے کہیں اس کی قسم کھائی ،تو کہیں اسے ابدالآباد تک آنے،رہنے اور بسنے والی نسل انسانی کے آگے متعارف کراتے ہوئے اپنے بیانِ ذی شان میں اس کی مدح سرائی کرتے ہوئے بہ جا طور پرارشاد کیا:’’علم بالقلم‘‘(اقرأ:4)
اس کلامِ باسعادت نے قلم کو وہ وقار،افتخار اور اعتبار بخشا کہ اس نے بساطِ دہر پر اپنے علوِ شان اور رفعتِ مقام کا نہایت بے باکانہ لہجے میں برملااعلان کردیا کہ ’’…من شاہِ جہانم!‘‘
بلاترددیہ کہا جاسکتا ہے کہ قلم اپنے متعلق یہ کہنے میں حق بہ جانب ہے اور اسے یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ نیزوں کی انیاں اورتلواروں کی دھار کے لیے بھی ایک وقت معین ہواکرتا ہے، جب کہ نوک قلم کا اثروتاثراور اس کی رسائی کا حلقہ جہاں لامحدود ہے، وہیں اس سے مرتسم نقوش کا جہان بھی وسیع ترہے،سیفِ ہندی اور اسپِ عربی کے کار آمدومفید تر ہونے سے کسے جرأت انکار ہے ،مگر صاحبِ قلم کی نگارش کے سامنے گھوڑے کی رفتارسست اور تلوار کی چمک ماند پڑتی نظرآتی ہے،ابوحاتم بستی یوں نہیں کہہ اٹھتا ہے کہ:
اذا اقسم الابطال یوماََ بسیفہم
وعدوہ ممایکسب العز والکرم
کفی قلم الکتاب مجداورفعۃ
مدی الدہر ان اللہ اقسم بالقلم
(جب تلواروں کے دھنی جواں مرد اپنی تلواروں کی قسم کھائیں اور ان ذرائع کو شمار کریں ،جن سے بلندی و کرامت حاصل کی جاتی ہے،(ان کے مقابلے میں)لکھنے والوں کے قلم عظمت وبرتری کی خاطر کافی ہیں کہ خدائے علام نے ابدالآباد کے لیے اس کی قسم کھائی ہے۔)
بیسویں صدی کامفکر اسلام’’ سید ابوالحسن علی ندوی‘‘اپنے عالمانہ افکار ،فاضلانہ اسلوب اور قائدانہ لہجے میں ڈھلی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے جب صحافیوں کی کانفرنس سے مخاطِب ہوتا ہے تو’’محمد بن جمال الدین عرفی شیرازی‘‘ سے معذرت کرتاہے اور ’’قدم‘‘ کی دال کو ’’قلم‘‘ کے لام سے تبدیل کرکے اربابِ قلم کے سامنے یوں گویاہوتا ہے :
آہستہ خرام بلکہ مخرام
زیر ’’قلمت‘‘ہزار جان ست
(دھیرے دھیرے چلیے؛ بلکہ نہ چلیے کہ آپ کے قلم کے نیچے ہزاروں جانیں موجود ہیں)
اور شاعر کے اصل شعر کو اس یک حرفی تبدیلی کے ذریعے جہاں شہرت ومتعبریت بخشتاہے ،وہیں اپنی حقیقت بیانی کے باعث اسے زبان زدِخاص وعام کر جاتاہے۔
مگر ان سب خوبیوں کے باوجود تاریخ نویس وتاریخ ساز ہونااور تاریخ کاحصہ بنے رہناقرطاس وقلم کااوجِ کمال نہیں؛ بلکہ اس کی عظمت و شوکت کی معراج تب ہوتی ہے ،جب رب کائنات اپنے علم بے بہا کے خزینے سے پردۂ خفا سرکاتا ہے اور روح الامین جبریل(علیہ ا لصلوۃوالتسلیم)کے توسط سے رسولِ صادق وامین کے مجلی ومطہر قلب پر اس کا نزول فرماتا ہے،اِدھر پاکیزہ آیات کے اترنے کاسلسلہ جاری ہے ،اُدھر زبانِ حق ترجمان میں حرکت ہوتی ہے اور کاتبینِ وحی سمع و طاعت کی تصویر بنے توجہ کے ارتکاز اور تخیل کے انہماک کے ساتھ اسے عقیدت ومحبت سے صفحۂ قرطاس پرمنتقل کرتے چلے جاتے ہیں،یہی وہ موقع ہوتا ہے، جب اپنی رفعت وسطوت پر نازاں ہوتے ہوئے قلم کی اُور سے اس کی شاہ جہانی کی صدا بلند ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں