55

قلعۂ روہتاس میں !


محمد عرفان ندیم
فتح پور سیکری سے مغرب کی جانب دس میل کے فاصلے پرکنواہہ کے مقام پر 17مارچ 1527کو ظہیر الدین بابر اورہندو راجہ رانا سانگا کے درمیان خوفناک جنگ ہوئی ،رانا سانگا بھرپور تیاری کے ساتھ جنگ کے لیے نکلا ، بابر نے روایتی طریقوں کی بجائے عثمانیوں کی جنگی تکنیکس کو آزمانے کا فیصلہ کیا ، یہ فیصلہ درست ثابت ہوا اور رانا سانگا کو بدترین شکست ہوئی۔ ظہیر الدین بابر نے اس خوشی میں ضیافت کا اہتمام کیا ، ضیافت میں فوج کے اہم جرنیل شامل تھے ، ظہیر الدین بابر نے بھنا ہوا گوشت چینی کی طشتریوں میں رکھ کرمہمانو ں کو پیش کیا ،مہمانوں میں فرید خان نامی جرنیل بھی شامل تھا ،فرید خان نے گوشت کو ہاتھ سے توڑ نا چاہا مگر ناکامی ہوئی، اس نے کمر سے بندھا خنجر نکالااور اس سے گوشت کاٹ کر کھانا شروع کر دیا ، ظہیر الدین بابر کے سامنے یہ بہت بڑی جسارت تھی ، وہ سب دیکھتا اور نوٹ کرتا رہا ، ضیافت برخاست ہوئی، بابر نے اپنے مصاحبوں سے کہا ” میں نے اپنی زندگی میں بہت بہادر اور نڈر جرنیل دیکھے ہیں مگر میں نے اس نوجوان جیسا جری اور بہادر جرنیل نہیں دیکھا ، مجھے خدشہ ہے کل یہ مغلیہ سلطنت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، آ ج سے اس کی کڑی نگرانی کی جائے اور اسے کہیں جانے نہ دیا جائے “ فرید خان کو بھی بابر کے خطرناک عزائم کا اندازہ ہو چکاتھا چناچہ وہ موقعہ ملتے ہی وہاں سے فرار ہو گیا اور یہی فرید خان بعد میں شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہوا۔
مستقبل میں بابر کے خدشات درست ثابت ہوئے، شیر شاہ سوری اور ہمایوں کے درمیان چوسہ کے مقام پر زبردست جنگ ہوئی ، ہمایوں میدان جنگ سے بھاگ نکلا، شیر شاہ سوری نے سپاہیوں کو اس کے تعاقب میں بھیجا ، ہمایوں گنگا پار کر کے وارانسی کے ایک چھوٹے سے گاوٴں کالوپور میں بھیس بدل کر ایک بوڑھیا کے گھر میں چھپ گیا ،بعد میں اس کی فوج بھی ساتھ آملی ۔اس کے بعد قنوج کی جنگ میں بھی ہمایوں کو شکست ہوئی اور وہ دربدر ہوتا ہوا لاہور ، ملتان اور عمر کوٹ سے ہوتا ہوا ایران میں پنا ہ گزین ہوا اور ہندوستان اگلے کچھ سالوں کے لیے شیر شاہ سوری کی جھولی میں آگرا ۔شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا ، سلطان بہلول نے اپنے دور حکومت میں افغانوں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان میں آکر آباد ہوں،انہیں جائیداد ، سہولیات اور مناصب عطا کیے جائیں گے۔
اس پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر شاہ سوری کے دادا ابراہیم خان سوری بھی ہندوستان میں آکر آباد ہوئے۔ ابراہیم خان اور اس کے بیٹے حسن خان کو سلطان بہلول کی طرف سے سہسرا م کا پرگنہ عطا ہوا۔انہی دنوں حسن خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام فرید خان رکھا گیا ۔ فرید خان بڑا ہوا تو اس کے جوہر کھل کر سامنے آنے لگے ، حسن خان کی دوسری بیوی اور فرید خان کی سوتیلی ماں ہمیشہ اس سے خائف رہتی ، اس کو خدشہ تھا کہ فرید خان اپنی صلاحیتوں کی بدولت ساری جائیداد کا مالک بن جائے گا ، فرید خان نے تنگ آ کر گھر چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا ۔
فرید خان مغلوں کے حاکم اعلیٰ جنید برلاس سے ملااور 1527ء میں آگرہ جا کر ظہیر الدین بابر کی فوج میں ملازمت اختیار کر لی ۔ ہمایوں کی شکست اور اس کے ایران بھاگ جانے کے بعد ہندوستان شیر شاہ سوری کے قبضے میں آ گیا اور شیر شاہ نے صرف پانچ سالوں میں ہندوستان کا نقشہ بدل دیا ، شیر شاہ سوری ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے پورے ہندوستان میں سڑکوں کا جال بچھا دیا تھا ،جرنیلی سڑک جسے آج جی ٹی روڈ کہا جاتا ہے یہ شیر شاہ سوری کی ہی تعمیر کر دہ تھی ، یہ کابل سے کلکتہ تک جاتی تھی ۔
شیر شاہ سوری نے مسافروں کی راہنمائی کے لیے ہر دو کلو میٹر پر کوس بنوادیے تھے ، انگریز اس خطے پر قابض ہوا توا س نے اسی جرنیلی سڑک کے ساتھ ریلوے ٹریک بچھایا اور آج بھی یہ روڈ اور ٹریک اسی جگہ پر موجود ہیں ۔ بروقت ڈاک پہنچانے کے لیے جگہ جگہ چھاوٴنیاں قائم کیں جہاں ہر وقت تازہ دم گھوڑے موجود رہتے تھے ۔ ایک اہم کارنامہ ذرعی اصلاحات تھیں ، پورے ہندوستان کی زمینوں کی پیمائش کی گئی اور ان پر ٹیکس عائد کیا گیا ۔فصل کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ٹیکس معاف اور حکومت کی طرف سے معاوضہ دیا جاتا تھا ،نچلے طبقے تک رسائی کے لیے ریاست کو صوبوں ، ضلعوں اور پرگنوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ان مناصب پر ایماندار عامل مقرر کیے گئے تھے۔
قلعہ روہتاس بھی شیر شاہ سوری کی اہم یاد گار ہے ، میں ہفتے کے دن قلعہ روہتاس گیا اور پہاڑوں اور جنگل کے بیچ اس عظیم الشان قلعے کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔یہ ہندوستان کا دوسرا بڑا قلعہ ہے اور چار کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔یہ قلعہ1547 میں مکمل ہواور یہ پوٹھوہار اور کوہستان نمک کے وسط میں تعمیر کیا گیاہے۔ اس کے ایک طرف نالہ کس، دوسری طرف نالہ گھان اور تیسری طرف گہری کھائیاں اور گھنا جنگل ہے۔ شیر شاہ سوری نے یہ قلعہ گکھڑ قبائل کی سرکوبی کے لیے تعمیر کرایا تھا۔ گکھڑقبائل شیر شاہ سوری کے خلاف مغلوں کو بروقت کمک اورامدادپہنچاتے تھے جو شیر شاہ سوری کو کسی طور قبول نہیں تھا،جب قلعہ مکمل ہو گیا تو شیر شاہ سوری نے کہا آج میں نے گکھڑوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔
اس قلعے پر 34 لاکھ 25 ہزار اشرفیاں خرچ ہوئیں اور اس کی تعمیر میں 3 لاکھ مزدوروں نے بیک وقت حصہ لیا جو 4 سال، 7 ماہ اور 21 دن میں مکمل ہوا۔قلعہ اندرونی طور پر دو حصوں میں تقسیم تھا جس کے لیے ایک 1750 فٹ طویل دیوار تعمیر کی گئی تھی جو قلعے کے دفاعی حصے کو عام حصے سے جدا کرتی تھی، اس میں توپ خانے کے علاوہ 40 ہزار پیدل اور 30 ہزار سوار مع ساز و سامان قیام کرسکتے تھے۔
قلعے میں 86 بڑے برج تعمیر کیے گئے تھے۔ پانی کی فراہمی کے لیے تین باوٴلیاں بنائی گئیں تھیں۔قلعے کے بارہ دروازے ہیں جن کی تعمیر جنگی حکمت علمی کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔اس قلعے کا قابلِ دیداور ناقابل شکست حصہ اس کی فصیل ہے، اس پر 86 برج، 184 برجیاں، 6881 کگرے اور 8556 سیڑھیاں ہیں۔ فصیل کی چوڑائی سب سے زیادہ ہے۔ فصیل کے چبوترے سیڑھیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں جن کی چوڑائی تین فٹ سے بھی زیادہے اور یہ تیر اندازوں اور توپچیوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ان کی بلندی 8 سے 11 فٹ کے درمیان تھی۔ یہ کنگرے صرف شاہی فوجوں کو دشمن سے تحفظ ہی فراہم نہیں کرتے تھے بلکہ ان سے دشمنوں پر پگھلا ہوا سیسہ اور کھولتا ہوا پانی بھی انڈیلا جاتا تھا۔ درمیانی چبوترے فوجیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ تھے اور ان کی چوڑائی ساڑھے چار فٹ سے 7 فٹ کے درمیان تھی۔قلعہ روہتاس کی تباہی کا آغاز اس وقت ہوا جب ہمایوں دوبارہ ہندوستان آیا، وہ اس قلعے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اور جب اسے معلوم ہوا کہ یہ قلعہ اس کے دشمن شیر شاہ نے بنوایاہے تو اس نے غصے کی حالت میں اسے مسمار کا حکم دے دیا۔
بادشاہ کے معتمد خاص بیرم خاں نے بادشاہ کواس کام سے منع کیا۔ رنجیت سنگھ بھی طویل عرصہ یہاں مقیم رہا لیکن اس نے قلعے کے بنیادی ڈھانچے اور عمارت کو نقصان نہیں پہنچایا۔قلعہ روہتاس جی ٹی روڈ دینہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نومبر 1544میں ایک مہم سے واپسی کے دوران شیر شاہ نے مشہور قلعہ لالنجر کا محاصرہ کیا، محاصرہ طویل ہونے پر شیر شاہ نے ایک بلند ٹیلہ تیار کروایااور اس ٹیلے پر توپیں نصب کروا دیں، 22 مئی 1545 کو قلعے پر حملہ کیا گیا جو ناکام رہا، دوسرے دن شیر شاہ نے خود کمان سنبھالی، گھمسان کی جنگ ہوئی، ایک بارودی گولہ جو قلعے کے اندر پھینکا جارہا تھا قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر واپس بارود کے ڈھیر پر آگرا،ایک قیامت خیز دھماکہ ہوا اور بارود کا سارا ذخیرہ اس کی زد میں آ گیا ، شیر شاہ بری طرح جھلس گیا مگر وہ اس حالت میں بھی کمان کرتا رہا،فتح کی خبر ملنے پر شیر شاہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اوراس کے ساتھ ہی اس نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
22 مئی 1545 کو اس کاانتقال ہوا اورسہسرام میں ہی تدفین ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں