91

قضیہ بابری مسجد:ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے؟


عبدالعزیز
  بابری مسجد کے قضیہ اور پس منظر سے بہت حد تک مسلمانوں کی واقفیت ہے۔ اس وقت بابری مسجد کو شہید کرنے والے فتحیابی کے منتظر ہیں اور مسلمان انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب جبکہ چند دنوں کے بعد سپریم کورٹ سماعت کے بعد فیصلہ سنانے والی ہے تو مسلمانوں کے اندر بہت سے لوگ انفرادی طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ جو حقیقت میں انتشار کی علامت ہے۔ بابری مسجد کے انہدام سے پہلے اس کیلئے ’بابری مسجد رابطہ کمیٹی‘ مسجد کو بچانے کیلئے جدوجہد کر رہی تھی۔ اس کے کنوینر سید شہاب الدین مرحوم تھے۔ جدو جہد کے ایک پروگرام کے سلسلے میں اختلاف کی وجہ سے کچھ لوگوں نے ’بابری مسجد ایکشن کمیٹی‘ کی تشکیل کی۔ اس کے کنوینر ظفریاب جیلانی تھے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سید شہاب الدین صاحب نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اجلاس میں بورڈ کے ذمہ داروں سے گزارش کی کہ بابری مسجد کا معاملہ بورڈ اپنے ذمے لے لے۔ ظفریاب جیلانی نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا۔ بورڈ نے بابری مسجد کے مقدمے کی ذمہ داری پورے طور پر قبول کرلی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بورڈ بخوبی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ بورڈ کا فیصلہ مسلمانوں کے جذبات و احساسات کے مطابق پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ سپریم کورٹ سے جو فیصلہ ہوگا خواہ بابری مسجد کے حق میں ہو یا اس کے خلاف، مسلمان اس کو تسلیم کریں گے۔ اب جو لوگ خواہ وہ بڑے ہوں یاچھوٹے اپنی اپنی رایوں کا اظہار کر رہے ہیں دراصل وہ اختلاف کو ہوا دے رہے ہیں۔ دشمن کی چال بہت دنوں سے یہی ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کیلئے ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ اس کی ہر بات چوں چرا کئے بغیر مسلمان مانتے چلے جائیں۔ بابری مسجد کے سلسلے میں دشمنوں کی طرف سے ایک بار نہیں کئی بار کوشش کی گئی، ڈرایا دھمکایا گیا کہ مسلمانوں کیلئے یہی اچھا ہے وہ مسجد کی جگہ ہندوؤں کو مندر بنانے کیلئے سپرد کردیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں سے مخالفین یا صلح صفائی کرنے والوں کے ساتھ مشاورتی میٹنگیں بھی ہوئیں۔ ہر میٹنگ میں بورڈ نے اپنے موقف کو دہرایا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے پابند ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کا حریف بھی فیصلے کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرے۔
جو لوگ پہلے بابری مسجد کو حوالے کرنے کے حق میں تھے اور آج جو لوگ مسجد کی جگہ حوالے کرنے کی بات کہہ رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے وہ بابری مسجد کے مقدمے میں یا بری مسجد کی جدو جہد میں کبھی نہ فریق تھے اور نہ فریق رہے ہیں۔ ان کا طرز عمل انتہائی احمقانہ، غیر اخلاقی، غیر شرعی اور غیر قانونی ہے۔ غیر قانونی اس لئے ہے کہ مقدمہ زیر سماعت ہے اس طرح کی باتوں سے مقدمے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لئے جب بھی مقدمہ زیر سماعت ہو تو اس طرح کی باتیں Sub Judice ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہے، زیر سماعت ہے، عدالت کے زیر فیصلہ ہے اور ہندستان کی سب سے بڑی عدالت ہے اس کے فیصلے سے پہلے کسی فرد یا جماعت کو اپنا فیصلہ سنانا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ سوچنا چاہئے کہ بابری مسجد کی رابطہ کمیٹی سے لے کر بورڈ کے ذمہ داروں تک نے کیا پاپڑ بیلے ہوں گے، کتنے مصائب و مشکلات سے گزرے ہوں گے اور کس قدر رقوم کا خرچ ہوا ہوگا اور خرچ ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی مصالحت کیلئے دو بار کوشش کی۔ پہلی کوشش رسمی طور پر تھی لیکن دوسری کوشش باضابطہ کی گئی۔ لیکن کورٹ کی تشکیل کردہ مصالحت کمیٹی جب ناکام ہوگئی تو سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقدمے کی شنوائی Day to day (روزبروز) کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ قریب تر ہے۔ ہر ایک کو اس کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں جو لوگ غیر ضروری سرگرمیوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ در اصل غیر اخلاقی ہے۔ غیر اخلاقی اس لئے ہے کہ جو لوگ شروع سے لے کر آج تک جدوجہد میں مصروف ہیں ان کو بائی پاس کرکے اپنی رائے دینا یا اپنا فیصلہ سنانا بداخلاقی نہیں تو کیا ہے؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے توسط سے سارے مومنین کو ہدایت دیتا ہے کہ  فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہ، آل عمران، آیت 159۔ (پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پہ بھروسہ کرو)۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جب مشورے کے بعد آپ ﷺ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو پھر اللہ پر بھروسہ کریں، جس کام کا ارادہ کیا ہے اسے سرانجام دینے کا فیصلہ کرلیں اور عزم کی قوت کے ساتھ اسے بروئے کار لائیں۔ مشاورت میں یقینا موجودہ اسباب میں سے ایک ایک بات پر بحث ہوتی ہے۔ مثبت اور منفی پہلو سامنے آتے ہیں۔ تحفظات بھی طے کئے جاتے ہیں اور اقدامات کا بھی فیصلہ ہوتا ہے۔ اپنی قوت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور موانع مشکلات بھی۔ ان تمام باتوں کو سمجھ لینے کے بعد جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ اب اقدام کرنا ہے اور اس کام کو سر انجام دینا ہے تو پھر اسباب کی کمی کو دیکھتے ہوئے کسی کمزوری کو پاس نہ آنے دینا بلکہ اللہ کے بھروسے پر ایک ایک قدم اٹھانا توکل کا اصل مفہوم ہے۔ ہم نے بدقسمتی سے توکل کو تعطل کا ہم معنی سمجھ لیا ہے۔ جب کسی کام کو نہ کرنے کا ارادہ ہو، اس کیلئے جان مارنے کی ہمت نہ ہو تو ہم بے عمل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم اللہ کے بھروسے ہی پر حالات کو آگے بڑھنے دیں گے۔ توکل کیلئے اوّلین شرط موجود اسباب کی فراہمی ہے۔ اس کے بعد اللہ پہ بھروسہ ہے۔ اسی لئے حضورؐ نے فرمایا کہ ’اعقل ثم توکل‘  (اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو کہ اب یہ کہیں نہیں جائے گا)۔ اونٹ کو کھلا چھوڑ کر یعنی احتیاطی عمل کو ترک کرکے توکل کرنا یہ توکل نہیں ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کی تمام سرگرمیوں میں عزم و عمل کی بنیاد توکل ہے۔ اصل قوت توکل علی اللہ ہے۔ وسائل و اسباب کی حیثیت ثانوی ہے۔ توکل ایمان کا لازمی تقاضہ ہے۔ جو شخص خدا پر ایمان کا مدعی ہے لیکن اس کو خدا پر بھروسہ نہیں ہے اس کا ایمان بے معنی ہے۔
مسلمانوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سرکردگی میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے بابری مسجد کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا تھا وہ بالکل صحیح تھا اور صحیح ہے۔ اب جو لوگ فیصلے کے بعد کے حالات سے خوف زدہ نظر آتے ہیں ان کی خوفزدگی اور بزدلی سے کیا خدا پہ بھروسہ رکھنے والے اپنے فیصلے کو بدل دیں اور خدا پر بھروسہ نہ کریں۔ بزدلوں کو زندگی میں بار بار مرنا پڑتا ہے اور بہادر ایک بار مرتا ہے۔ مسلمان یہ بھی جانتا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔ آج جو حالات خراب ہیں یا خراب سے خراب تر ہورہے ہیں اس میں مسلمانوں کو اللہ کی طرف، قرآن کی طرف پورے رجوع کرنا چاہئے۔ جو لوگ رجوع الی اللہ کرلیں گے انشاء اللہ ان کے دل میں اللہ کے سوا کسی چیز کا خوف یا ڈر نہیں ہوگا۔ فیصلہ ایک ہی ہوسکتا ہے۔ اگر بابری مسجد کے شہید کرنے والوں کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو مکمل طور پر مسلمانوں نے جو کہا ہے وہ فیصلے کو مانیں گے بغیر چوں چرا کے فیصلے کو مان لینا چاہئے، لیکن بابری مسجد کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ فیصلے کو عملی جامہ پہنائے۔ اگر حکومت عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہوتی ہے تو اس میں بھی مسلمانوں کی کوئی غلطی نہیں ہوگی۔  حکومت رام مندر بنانے کے حق میں ہے اور بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان و لیڈران ہر حال میں بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر مسلمانوں کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو پارلیمنٹ سے قانون بناکر سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ جس کا پورا پورا امکان ہے۔ ایسے وقت میں بھی مسلمانوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ جب بابری مسجد کا انہدام ہوا تھا تو مسلمانوں پر آفت آئی تھی۔ کئی جگہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ خاص طور پر بمبئی میں بہت بڑا فساد ہوا تھا جس میں بہت سے مسلمان مارے گئے تھے۔ پھر اس کا رد عمل بھی ہوا تھا۔ اس وقت کانگریس کی حکومت تھی اور شرد پوار وزیر دفاع تھے۔ ایک ہفتے کے بعد فوج بھیجی گئی تھی۔ نائک شرد پوار کے آدمی تھے اورمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں کی ملی بھگت سے فساد برپا ہوا تھا۔ جسٹس کرشنا کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا اس کی سفارشات پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ فساد جب بھی ہوتا ہے وہ حکومت کی کمزوری اور اشارے پر ہوتا ہے۔ فیصلے کے بعد یا فیصلے سے پہلے اگر کہیں فساد ہوتا ہے تو وہ حکومت کی کمزوری اور اشارے پر ہوگا۔ جیسے ہجومی تشدد کے واقعات پے در پے ہورہے ہیں اور حکومت چشم پوشی سے کام لے رہی ہے۔ حکومت کی کمزوری اور فرقہ پرستی کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ فیصلے کا آنا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ ہندستان کی سب سے بڑی عدالت انصاف کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور دوسری بات یہ ہوگی کہ حکومت کا کیا طرزِ عمل ہوتا ہے؟ وہ بھی دنیا دیکھے گی۔ تیسری بات یہ ہوگی کہ ہندستان میں جمہوریت کے مستقبل کا بھی اسی سے فیصلہ ہوجائے گا۔ اب اگر فیصلے سے پہلے کوئی قدم کسی کی طرف سے بھی اٹھتا ہے تو انتہائی غلط اور ناقابل معافی ہوگا۔ ہندستان کا مشہور و معروف وکیل راجیو دھون جو ایک ہندو ہوتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ لڑ رہا ہے اس کو دھمکی پر دھمکی دی جارہی ہے پھر بھی وہ اپنی وکالت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ راجیو دھون مسلمان نہیں ہیں لیکن ان کا کردار و اطوار، ان کی بہادری و شجاعت مسلمانوں جیسی ہے۔ اور جو مسلمان بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کا کردار و اطوار غیر مسلموں جیسا ہے۔ ان کو اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے۔ راجیو دھون جیسے بہت سے غیر مسلم انصاف پسند جو حق و انصاف کیلئے لڑ رہے ہیں ان سے سبق لینا چاہئے  ؎
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے  ……  پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے    (مولانا ظفر علی خان)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں