53

قسمت (افسانہ)

فریدہ انجم پٹنہ
ان کی حسرت کومیرے دل میں لکھنے والے
کاش ان کو ہی میری تقدیر میں لکھ دیا ہوتا (نامعلوم)
ٹھہرو۔۔۔۔۔۔ کسی نے پیچھے سے آواز دی تو میرے قدم رک گئے ۔میں نے مڑ کر دیکھا پکارنے والے کوجس کی آواز کی کشش میں روک لینے کی طاقت تھی۔وہ سفید کرتا پاءجامہ میں ملبوس اس کے بکھرے ہوئے بال بھڑے ہوئے شیو اور چہرے پر غم کی گھٹائیں چھائی اپنی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہوا میرے قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے پاؤں کی طاقت نے جواب دے دیا اور وہ لڑکھڑا کر گرنے لگا تو نہ جانے کیوں اسے دیکھ کر میرا دل پگھلنے لگا جلدی سے بڑھ کر میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ بت بنا اپنی پیاسی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگا۔وہ بولتا کیااس وقت اس کا دل بھر آیا تھا۔لیکن اسے اس حال میں دیکھ کر میری آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کے وہ ضرار ہے۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔وہی ضرار ۔۔۔۔۔جو خاندان بھر میں سب سے زہین ہنس مکھ نہایت وجیہ اور خوبصورت نوجوان تھا۔تبھی تو ابو نے اس کے عہد لڑکپن ہی میں اس کی ذہانت کی پیشیں گوئی انکی تھیں کہیں ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے گا۔تبھی ابو نے اسے اپنا داماد بنانے کا خیال ظاہر کر دیاتھا تو پھوپھی جان خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔اپنے لاڈلے بیٹے کی بلاءیں لیتی ہویء فخریہ انداز میں بولیں۔۔۔‌۔بھائی جان۔۔۔۔لاکھوں میں ایک داماد ڈھونڈا ہے۔۔۔۔بہن کے خلوص بھرے جملے سن کر بھائی بھی نہایت مسرورہوتے ہوئے فخرسے بولے۔۔۔۔۔زرینہ ۔۔۔۔میری بیٹی بھی کیا کسی سے کم ہے۔نازوں کی پلی ہے۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ایک سرد آہ بھر کر بولے۔۔۔۔۔نیرے چاوچونچلے نے ہی اس کی طبیعت میں نفاست نزاکت پیدا کر دی ہے۔بس کے لیے اس کےننھے سے دل کو کبھی ٹھیس نہ پہچانابلکہ اس کی ایسی دل آزاری کرنا کہ باپ کی محبتوں کو بھول جاےءیہ فقرہ کہتے کہتے ان کے لب تھر تھرا نے لگے اور آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو کی ٹپک پڑےجسے دیکھ کر زرینہ بے تاب ہو گئی بھائی کو تسلی دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔بھائی جان ۔۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔آخر وہ میری نیک بخت اوادہے اور وہ دیکھیے ۔۔۔۔۔ضرار میاں ابھی سےثوبیہ بی بی کی نازبرداریاں کرنے میں لگے ہیں۔دونو بچوں کو خوش و خرم ایک ساتھ کھیلتا دیکھ کر ذیشان صاحب مسکرانے گے۔
وقت اپنی محور پر گھومتا رہا۔بچپن کی محبت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی محبت کی شکل اختیار کرنے لگی تو مرادوں کے دن پہلو میں گدگدیاں کر نے لگے۔پہلے تو یہ دونوں بھائی اور بہن کے دو بچے سمجھے جاتے تھے اس لیے باہمی پردے کا دستور نہ تھا۔خاندان کے لوگ آپس میں ملا کرتے تھے ۔اس واسطے کےضرار میاں کی آمد ورفت بے روک ٹوک تھی لیکن ایک نئے رشتے نےان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیاگیا تھا۔اب دو جوان دلوں کی بے لوث محبت کبھی کبھی کی ملاقاتوں کے جھولے میں جھولتی مستی سے پروان چڑھ رہی تھی اب وہ آتا تواپنے نامہ جان سے باتیں کرتا لیکن کن آنکھوں سے اس کی طرف ضرور دیکھتا اور نظروں کا تصادم ہوتے ہی اس کی آنکھوں میں اپنی نشیلی آنکھیں ڈال کر نگاہوں کے زریعہ اپنے دھڑکتے دل اور مچلتے ارمانوں کا پیغام سنا کر اسے مست بنا دیتا تھا۔اب جدائی کے لمحات بھی بڑی تیزی سے قریب آرہے تھے۔ضرار اپنی اعلی تعلیم کے لےء امریکہ جا رہا تھا۔جدائی اس کربناک گھڑی میں جب ضرارنے رخصت طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو ثوبیہ نے بھی شکایت آمیز نظروں سے اس کی طرف تیر پھینکتے ہوے بڑے بھولے پن سے عرض کیا۔۔۔۔۔ضرار۔۔۔۔خدا کے لیے مجھے بھول مت جانا۔۔۔۔۔نیری نظریں تمہاری طرف لگی رہیں گی۔۔۔۔۔اس کے لب دل دہلا دینے فقرے سن کر ضرار پر ایک خاص کیفیت سی طاری ہونے لگی تو اس میں تاب وضبط نہ رہی اس نے بڑھ کر اس کا ہاتھ گرمجوشی سے دباتے ہوےء کہا۔۔۔۔یہ تم کیسے اندازہ کر رہی ہو کہ میں تمہیں بھول جاؤں گا۔۔۔۔تم دور رہتے ہوئے بھی میرے بالکل قریب رہو گی۔۔۔ضرار نے جزبات میں ڈوب کر جب اپنی لافانی محبت کا یقین دلایا تو ثوبیہ مسکرانے لگی۔اس نے جانے کی اجازت طلب کی تو ثوبیہ کےایک سوال نے اسے کرنے مجبور کر دیا۔۔۔۔جانے سے پہلے ایک اور وعدہ کروکہ۔۔۔۔‌‌تم۔۔۔۔میرے سوا کسی دوسری لڑکی سے محبت نہیں کرو گے۔۔۔۔۔نیں قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے سوا کسی دوسری لڑکی سے محبت کبھی نہیں کروں گا۔۔۔۔اب تو جانے کی اجازت دیں گی۔۔۔۔ہاں اب تم جاو۔۔۔۔۔۔خدا تمہارے ارادے میں کامیابی عطا فرماےء آمین اس نے اشکبار آنکھوں سے اپنے محبوب کی طرف دیکھا۔اس کے جاتے ہی اس کی مسکراہٹ آنکھوں کے اس خاموش سمندر میں ڈوب کر مر گیءاور اس کی لمبی لمبی پلکوں کے نیچے حسرت و مایوسی کی تاریکی چھا گئی ۔ایک انجانے خوف سے ایک بے نام سی خلش اور بیکلی نے اسے بےچین کر دیاتھا کہ امریکہ جیسے ماحول میں وہ کب تک چٹان بنا رہے گا۔
وقت پر لگا کر اڑتا گیا۔وہ آرہا تھا ۔اس نے پانچ سال کا کورس تین سال میں مکمل کر لیا تھا۔میں اپنی قسمت پر شاداں تھی کہ ضرارمیری زندگی کا ساتھی بنے گا۔اورضرار بھی اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھ رہا تھاکہ اب یہ بچپن کی ودست میری زندگی کی ساتھی بنے گی۔اس کی آمد سے گھر میں ہر طرف قوس وقزح کے رنگ ونور کا ایک دریا ساموجزن لگ رہا تھا۔لیکن رنگ و نور کے ان دھاروں کے پیچھے وہ طوفان تیزی سے کروٹیں بدل رہا تھاوہ میری نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔تب کیا تھا۔۔۔اپنوں کی چاہتوں نے دیےء اس طرح فریب
روتے رہے لپٹ کر ہم ہر اجنبی کے ساتھ(نامعلوم)
عرفان صاحب ابو کے معزز دوستوں میں سے ایک تھے ان کی دوستی صرف اچھے وقتوں کی ہی نہیں برے وقتوں کی بھی تھی۔اسواسطے کہ انہوں نے ابو کے برے وقتوں میں بڑے احسانات کیے تھے۔اس لیے انہوں نے اپنی دوستی کو ایک رشتے میں باندھنے کے لیے بپنے بیٹا کو مجھ سے منسوب کر دیا۔کاش ۔۔۔۔۔مجھے اس دن کی خبر ہوتی کہ ان کے کیے گئے احسان کے بدلے میں دو معصوم محبت کا خون کر دیا جاےء گا جسے پانے کے لئے میں نے اپنے تصور میں کتنے خواب سجاےءاسی امید کے سہارے دل بہلاتی رہی اور تخیل کی دنیا سجاتی رہی کہ ضرار میری حیات کا مدار ہےجس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔لیکن آج میری لافانی محبت کو شکست کا سامنا پلایا جا رہا تھااور جب میری امیدوں کے لہلہاتے چمن کو اجاڑ دیا گیاتو میرا دردوغم سے کلیجہ پھٹنے لگا۔۔۔۔۔جی چاہتا کے زہر کھا کر اپنی زندگی ختم کرلوں۔لیکن ایک کرف باپ کی شفقت ومحبت خاندان کی عزت ووقار کی خاطر ایک زندگی کو برباد تو دوسری زندگی کو آباد کرکے میں نے اپنی زندگی کو قربان کر دیا۔
‌کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے دل پر لگا زخم خواہ کتنا ہے گہرا کیوں نہ اس کی تکلیف کم کر دیتا ہےاور آخر میں بس یاد رہ جاتی ہےاور جب بیتے ہوے لمحوں کی یاد آتی تو طبیعت بے چین ہوجاتی دل میں جوش اٹھتا جی چاہتا کہ اس گھر کے تمام لوگوں سے انتقام لوں لیکن میرے رہیے کے برعکس گھر کا ہر فرد مجھے دل وجان سے چاہتا اور شادابکی فہم وفراست اورنیک فطرت اور والہانہ محبت اس کے اس نیک فال سے میں حیرت زدہ تھی تو دوسری طرف وہ اپنی بیوی کے حسن وجمال میں سحرزدہ تھےاور ہر وقت میری دلجوئی میں لگے رہتے چونکہ شاداب کی زندگی کو ایک نیا رنگ مل گیا تھا ایک نیا ساز مل گیا تھااس لیے وہ بہت خوش تھے مسرت و شادمانی کے سمندر میں ڈوبے تھےاس پیار بھرے ماحول نے میرے زخمی دل پر مرہم کا کام کیاتھا۔لیکن ضرار دنیا سے کنارہ کشی کیےء تنہایء کی زندگی گزار رہا تھا۔اس کی طبیعت میں نہ جوش تھا نہ دل میں امنگ اور نہ خیالات میں بلند پروازی اس کا دل بجھ گیا تھا۔اس کا ساز ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔اب اس کی زندگی میں غم وحسرت کے سوا کچھ باقی نہ رہاتھا۔اس کی ویران زندگی کا کرب مجھ سے برداشت نہ ہو سکا تو ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیااور میں اس کے شانے سے لگ کر رونے لگی تو اس نے بھربئی آواز میں کہا۔۔۔۔۔آخر کی تم بدل گئی ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔تو کیا میں بدل گیا۔۔۔۔۔اس کا طنزیہ جملہ سن کر میرا دل دکھنے لگا۔۔۔۔میں تڑپ گیء۔۔۔۔۔ نہیں ضرار۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہ تم بدلی ۔۔۔۔۔نہ میں بدلی۔۔۔۔۔ہبں۔۔۔۔۔میری” قسمت”بدل گیء۔۔۔۔انسان سب کچھ کر سکتا ہے لیکن اپنی قسمت سےجنگ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔آہ خدا!تو نے یہ کیا کر دیا۔۔۔۔۔۔وہ زمانہ کیا ہوا۔۔۔۔۔وہ خوشی کے دن کہاں چلے گےء۔محبت کے سرگرم جھونکوں نےاسے کیا سے کیا بنا دیا۔۔۔۔۔اس نے زندگی کے ان ہی چند خوشگوار دنوں کی یاد میں خود کو قربان کر دیا۔۔۔۔اپنی زندہ لاش کو اپنے ناتواں کندھوں پراٹھائے ہوے وہ اسی جگہ قیام پزیر ہوگیا جہاں سے اس کی محبت کا آغاز ہوا تھا۔میں شکستہ دل اور مایوسی کے عالم میں اپنی نیء راہ ہموار کرتی ہوئی چلی گئی ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں