152

قرآن کریم مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت:مولانا معاذکاندھلوی

دعوت الایمان اکیڈمی پٹیالہ کے زیر اہتمام جلسۂ دستاربندی و پیغام انسانیت کانفرنس کا انعقاد
پٹیالہ:آج یہاں دعوت الایمان اکیڈ می قلعہ راجپورہ ضلع پٹیالہ کایک روزہ عظیم الشان جلسۂ دستاربندی و پیغام انسانیت کا نفرنس کا انعقاد عمل میں آیاجس میں مدرسہ کے طلباء و اساتذہ کے علاوہ ملک کے جید علماء کرام نے شرکت کی۔اس موقع پر حفظ قرآن کی تکمیل کرنے والے دس طلباء کی دستار بندی بھی عمل میں آئی۔مولانا معاذ کاندھلوی نے اپنے خطاب میں کہاکہ قرآن کریم جیسی نعمت مسلمانوں کے علاوہ دنیاکی کسی قوم کو حاصل نہیں ،اس کے پڑھنے سننے اوردیکھنے والے کو بھی ثواب اور بے شمار نیکیوں سے نوازا جاتا ہے،دنیا کی دیگر قومیں ایسی عظیم نعمت سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ قرآن کریم ایک علمی معجزہ ہے اوراس کے معجزہ ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی اپنے سینوں میں محفوظ کرلیتے ہیں اور یہ سلسلہ انشا ء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔انہوں نے عام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور میں اپنے دین و ایمان کا تحفظ ہمارے لئے ہر دور سے زیادہ اہم اور ضروری ہے کیوں کہ اس وقت ہر طرف فتنے سر ابھاررہے ہیں اور ایمان کے تحفظ کے لیے ہمیں قرآن کریم کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اتارنا لازم ہے۔اس جلسے میں دیگر کئی اکابر علماء نے بھی خطاب کیااور اپنی قیمتی نصیحتوں سے فیضیاب کیا۔دیگر معززمقررین و مہمانوں میں مولانا رزین اشرف،مولانا وصی سلیمان ندوی،مولانا عمران ندوی وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔قبل ازاں جلسے کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت اور نعت نبیﷺسے ہوااور جلسے کے کنوینر و دعوت الایمان اکیڈمی کے مہتمم مولانا فیضان احمد مظاہری ندوی نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ادارے کی تعلیمی و تربیتی کارکردگی پر اپنی رپورٹ بھی پیش کی۔اجلاس کی نظامت مولانا محمد عاشق ندوی نے کی۔قابل ذکر ہے کہ تقسیم کے دردناک سانحے میں پنجاب کی سرزمین پر جو قیا مت گزری اس میں بڑی بڑی تاریخی مسلم بستیاں، خانقاہیں مساجد اور مدارس تباہ وبربادہوگئے اور اب بھی بہت سی ایسی مسجدیں ہیں جو بند پڑی ہیں اوراذانوں سے محروم ہیں۔الحمدللہ داعی اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کی نگرانی وسرپرستی میں سرہند کے قریب راجپورہ شہر میں شیر شاہ سوریؒ کے بنائے ہوئے قلعہ سے متصل ایک وسیع قطعۂ ا راضی حاصل کرکے دعوت الایمان اکیڈ می کے نام سے یہ ادارہ چل رہاہے اور اس میں ایک بڑی تعداد میں مقامی و بیرونی بچے دینی تعلیم و تربیت حاصل کررہے ہیں۔اس کے علاوہ اس ادارے کے تحت مختلف اصلاحی ودعوتی سرگرمیاں بھی انجام دی جارہی ہیں اور مقامی آبادی پر ان کے خوشگوار اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں