53

فکرتونسوی

ڈاکٹر منور حسن کمال
فکرتونسوی کا شمار ملک کی عظیم علمی و ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ بطور مزاحیہ نگار انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ فکرتونسوی 7اکتوبر 1918کو تونسہ شریف کے ایک گاؤں منگروٹھ میں پیداہوئے۔ ان کا اصل نام رام لال بھاٹیا تھا۔ان کے والد دھنپت رائے ایک زمین دار چوھردی نارائن سنگھ کے یہاں بطور منشی اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ فکرتونسوی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤںسے حاصل کی جب کہ میٹرک تونسہ شریف سے کیا۔ ہائی اسکول کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے ایمرسن کالج، ملتان میں داخلہ لیا، لیکن ایک سال بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس سے انہیں بڑا صدمہ پہنچا، وہیں مجبوراً انہیں تعلیم چھوڑنی پڑی اور روزی روٹی فکر میں لگ گئے۔ ابتدا میں ہفتہ وار رسالے ’’کسان‘‘ میں کام شروع،لیکن کم معاوضہ کی وجہ سے ایک پرائمری اسکول میں مدرس کے فرائض انجام دینا شروع کردیے۔ حالات کے ساتھ نہ دینے کے سبب لاہور ہجرت کی اور ایک کتب خانہ میں ملازم ہوگئے۔ کتب خانہ میں ملازمت کے دوران انہیں مختلف موضوعات کی کتب سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہیں مضامین لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ سرداراللہ نوازخان کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’اصلاح‘‘ میں مضامین لکھنے کے دوران وہ سردار اللہ نواز کی مدیرانہ صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے۔ سرداراللہ نواز خان کی سحرانگیز شخصیت اور ان کی بدیہہ گو شاعرانہ خوبیوں سے متاثر ہوکر فکرتونسوی ان کی شاگردی میں آگئے اور اپنے کلام کی اصلاح کراتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’’من کی موج‘‘ رسالہ کی ادارت بھی سنبھالی۔ پھر 1942میں کیلاش وتی سے شادی کرلی، جس سے ان کے تین بچے رانی، پھول کمار اور سمن ہوئے۔ تقسیم وطن کے بعد انہوں نے دہلی میں سکونت اختیار کرلی۔ آزاد ہندوستان میں روزنامہ ’’نیازمانہ‘‘ میں طنزیہ کالم ’’آج کی خبر‘‘ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا۔ 1955میں دہلی کے اردو روزنامہ ’’ملاپ‘‘ میں ’’پیاز کے چھلکے‘‘ کے عنوان سے سیاسی وسماجی مسائل پر طنزیہ کالم لکھا، جسے قارئین نے بے حد پسند کیا۔ اس کالم کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کالم متواتر32سال تک شائع ہوتا رہا۔ فکرتونسوی نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ انہوں نے اردو میں 20اور ہندی زبان میں 8کتابیں لکھیں۔ ’’ہیولے‘‘، ’’چھٹادریا‘‘، ’’پیازکے چھلکے‘‘، ’’چوپٹ راجا‘‘، ’’گھات‘‘، ’’گھر میں چور‘‘، ’’میں، میری بیوی وارنٹ گرفتاری‘‘، ’’ماڈرن الٰہ دین ماؤزے تنگ‘‘، ’’تیرنیم کش‘‘، ’’ہم ہندوستانی‘‘، ’’راجا راج کرے‘‘، ’’ڈارلنگ‘‘، ’’گمشدہ کی تلاش‘‘ ان کی اہم تصانیف ہیں۔
فکرتونسوی کو ان کی ادبی خذمات کے لیے اعزاز سے بھی نواز گیا، جس میں سوویت لینڈ نہروایوارڈ(1969)

آخری عمر میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اور 12ستمبر1987کو وہ اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں