113

فنِ ترجمہ: بعض بہترین تراجم


مرادعلوی
ترجمہ دراصل فن ہے، اس میں صرف اوسط درجے کی زبان دانی نہیں چلتی۔ عربی سے اردو میں کیے گئے تراجم میں معدودے چند تراجم فنی معیار پر اترتے ہیں۔ مثال کے طور پر “ہدایہ” کا جو ترجمہ سید امیر علی نے ”عین الہدایہ” کے نام سے کیا ہے، ”ہدایہ” کا صرف یہی ترجمہ، ترجمہ کہلانے کا مستحق ہے۔ مولانا غازی احمد نے بھی بعض حصوں کا ترجمہ کیا ہے وہ بھی بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ”ہدایہ” کے کافی ترجمے ہوچکے ہیں لیکن کسی کام کے نہیں ہیں۔ اسلامی کلاسیکی متون کے انگزیزی تراجم کا معیار کافی بہتر ہے۔ ”سہیل اکیڈمی” سے تصوف کے کلاسیکی لٹریچر کی بعض کتابوں کے بہت عمدہ تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ مغربی دنیا میں تراجم پر پی ایچ ڈی ڈگریاں بھی دی جاتی ہیں، ان کا معیار اردو تراجم کے مقابلے میں بہت بہتر ہوتا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق کلاسیکی متون کے انگریزی تراجم میں سب سے بڑا کام پروفیسر عمران احسن خان نیازی نے کیا ہے۔ ابھی تک انھوں نے ان کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے: ہدایہ اولین، الموافقات، کتاب الاموال از ابو عبید، بدائع الصنائع کی کتاب ادب القاضی، بدایتہ المجتہد، امام سرخسی کی المبسوط کی کتاب الصرف۔ نیازی صاحب کو اللہ نے قانونی مسائل کےآسان اور دل نشیں پرایے میں بیان کا عمدہ سلیقہ عطا کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں انگریزی اور فارسی سے اردو تراجم کا فن محمد حسن عسکری کے مکتب کے حصے میں آیا ہے۔ فن ترجمہ میں اس مکتب کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ عسکری صاحب نے مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ”الانتباہات المفیدہ” کو اردو کے قالب میں ڈھالا، جو “An Answer to Modernism” کے نام سے مطبوع ہے۔ عسکری صاحب کی مولانا تھانوی کے ساتھ والہانہ عقیدت پیدا ہونے کے بعد مفتی محمد شفیع سے تعلقِ خاطر پیدا ہوا۔ جب مفتی صاحب کی تفسیر ”معارف القرآن” کے انگریزی ترجمے کا خیال پیدا ہوا تو عسکری صاحب اپنے خاص مزاج کی وجہ سے اس کے لیے تیار نہ تھے کہ میں دین کا علم نھیں رکھتا اور یہ کام میرے بس کا نھیں ہے۔ بہرحال جب ترجمہ شروع ہوا تو اسی دوران ڈاکٹر حمید اللہ (جو اس وقت پیرس میں مقیم تھے) سے وقتاََ فوقتاََ راہنمائی لیتے رہے اور آخر کار پروفیسر کرار حسین کی نظر ثانی کے بعد”معارفُ القرآن” کی پہلی جلد کا ترجمہ شائع ہوا۔ عسکری صاحب کے شاگردوں میں سلیم احمد کا نام بہت نمایاں ہے لیکن مجھے ان کے کسی ترجمے کا علم نھیں ہے۔ انتظار حسین کے بھی ایک آدھ ترجمے موجود ہیں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی عسکری صاحب کے بعد اس فن میں شاید بڑا نام ہے۔ نمونے کے طور پر آپ کی کتاب ”فکریات” پیش کی جاسکتی ہے، جس میں انھوں نے مخلتف ترجمہ شدہ مضامین کوجمع کیا ہے، سیّد حسین نصر، گائٹن، شوا وغیرہم کے مضامین پر مشتمل ہے۔ تاہم ڈاکٹر فراقی کا ترجمہ سہل اور دلکش ہوتا ہے، پڑھنے میں ترجمہ پن محسوس نھیں ہوتا۔ علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے ”زندہ رود” میں اقبال کے فارسی اشعار کا ترجمہ کیا تھا ان پر فراقی صاحب کی تنقید دیکھنے کے لائق ہے۔ تاہم فراقی صاحب کے بعد ڈاکٹر محمد سہیل عمر آتے ہیں، یہ ترتیب میں نے بنائی ہے، اس لیے کہ مجھے فراقی صاحب کا اسلوب پسند ہے ورنہ ترجمہ کے باب میں سہیل عمر صاحب کا کام بہت وسیع ہے۔ نمونے کے طورپر آپ کی کتاب ”حرف بہ حرف” بہت عمدہ ہے، جو رینے گینوں، حسین نصر، گائٹن، جارج مقدسی وغیرہ کے مضامین کے تراجم پر مشتمل ہے۔ سہیل عمر صاحب کا ابتدائی کام ادق ہے، جیسے ”حرف بہ حرف” اور گائیٹن کی “King of the Castle: Choice and Responsibility in the Modern World” کا “میر سامان وجود” کے نام سے ترجمہ کیا ہے جس میں تھوڑی سی مشکل پسندی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن سہیل عمر صاحب کے آخری دور کے تراجم بہت عمدہ اور سہل ہیں۔ اس کی مثال ساجیکو مراتا اور ویلیم سی چیٹک کی کتاب “The Vision of Islam’’ کا اردو ترجمہ ہے جو ”اسلام اپنی نگاہ میں” کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عزیز ابن الحسن نے ظفر آفاق انصاری کی مرتب کردہ ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو تحسین فراقی صاحب کی نظر ثانی کے بعد شائع ہوئی ہے، وہ بھی عمدہ ہے۔ نادر عقیل انصاری کے تراجم بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں، انصاری صاحب خالص علمی موضوعات پر مشتمل مضامین کو خصوصی توجہ دیتے ہیں ـ آپ کے تراجم سہ ماہی ”جی” میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سائنسی اور فلسفیانہ موضوعات پر ”اردو سائنس بورڈ” سے شائع ہونے والے تراجم بہت عمدہ ہیں۔ یہ فہرست کافی طویل ہے؛ لیکن مختصراََ یہ کہ ترجمہ ہر کَہ و مہ کے بس کی بات نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں