116

فقہ کی اہمیت و ضرورت اورافادیت

صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات
جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد
موبائل:8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

فقہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ، قرآن کریم کا خلاصہ، شریعت کا ترجمان اور اسلامی زندگی کے لیے مشعل راہ ہے، زندگی کا ایک ایک حصہ فقہ سے مربوط ہے، حتیٰ کہ اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری اور نامکمل سمجھی جائے گی، اسی وجہ سے زمانہ نبوت سے فقہ و فتاویٰ کی ضرورت مسلم ہے، فقہ کا اطلاق تفصیلی دلائل سے منتخب کردہ جزئیات کو جان لینے پر ہوتا ہے، اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ فقیہ وہ ہے جسکے علم و عمل میں مطابقت ہو،حضرت حسن بصری فقیہ وہ شخص ہے جو اللہ کو راضی کرتے ہوئے آخرت کی طرف راغب ہو کر اپنے عیوب سے باخبر ہو، فقہ ایک انفع اور بے پناہ خصوصیات کا حامل فن ہے، اس کے حاملین ہر دور میں معزز سمجھے جاتے رہے ہیں، اسے قرآن کریم میں خیر کثیر سے تعبیر کیا گیا ہے، اور فقہ اپنی تمام تر امتیازی خصوصیات کی بدولت تمام علوم سے فائق رہا ہے، اسلیے کہ زندگی صحیح طور پر گزارنے کے لئے اس علم کی سخت ضرورت درپیش ہوا کرتی ہے، علم فقہ دیگر علوم تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہو جو دین کی صحیح سمجھ حاصل کرے ، بریں بناء اس فن کا حاصل کرنا فرض کفایہ کا درجہ رکھتا ہے-
نیز حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرماتے ہیں، فقہ سراپا خیر ہے، اس میں اشتغال افضل ترین عبادت ہے، اور فقہی مجالس میں شرکت کا ثواب ساٹھ سال عبادت سے بڑھ کر ہے، نیز ایک فقیہ ہزار جاہل عابدوں پر بھاری ہے، فقہ صرف اپنے حاملین کے لیے ہی نہیں بلکہ ان سے منسلک تمام افراد کے لئے نفع بخش ہوتا ہے،اور فقیہ معالج اور طبیب ہو تے ہیں اور شریعت کے ترجمان بھی، کیونکہ وہ امت کی دستگیری کرنے کے ساتھ ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرکے ان کو صحیح صورتحال سے واقف کراتے ہیں، مزید برآں فقہ اس وجہ سے بھی زیادہ مفید اور نفع بخش ہے چونکہ مستفتی جو بھی سوالات کرتے ہیں وہ عمل کرنے کی غرض سے ہی ہوتا ہے، جو کہ مفتیان کرام اور فقہاء عظام کے لئے صدقہ جاریہ کا باعث بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جو مسائل درپیش ہوا کرتے تھے بذریعہ وحی اسکے حل کی شکل سے مطلع کردیا جاتا تھا، اور آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان بیان فرمادیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوگیا، اب صحابہ کرام نے احادیث اور تعلیمات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ کر رکھا تھا، لہٰذا انھیں کے روشنی میں مسائل کا حل تلاش کر لیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء مدینہ میں سات صحابی کے نام آتے ہیں، ۱)حضرت سعید بن مسیب۲) حضرت عروہ بن زبیر ۳)حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر۴) حضرت خارجہ بن زید بن ثابت۵) حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبۃ بن مسعود ۶)حضرت سلیمان بن یاسر ۷)حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام-
ان کے بعد تابعین عظام تبع تابعین ائمہ مجتہدین کا دور آیا، انہوں نے ان تعلیمات کو سامنے رکھ کر تمام مسائل کو حل کیا، اخیر میں ائمئہ اربعہ کا دور آیا، اور چار مسلک پر تمام حضرات متفق ہوگئے، لہٰذا فقہی مسائل کو یکجا جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کو اس وقت کے بڑے بڑے نامور علماء نے انجام دیا، اور آئمئہ اربعہ کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کو سامنے رکھ کر جدید مسائل کا حل تلاش کیا ، اور امت کی صحیح رہنمائ کی ، کیونکہ اس فن کی ضرورت زندگی کے ہر موڑ پر پڑتی ہے، اس لئے وہی حضرات مرجع خلائق بن گئے، اور اس عظیم منصب کے حاملین اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت تمام عالم کو ہر آن ہر لمحہ شریعت کے مسائل سے روشناس کراتے رہے، اور الحمدللہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا، ان کے صحیح رہنمائ کی بدولت صرف ان ہی کی نہیں بلکہ ایک جم غفیر کی زندگی سنورتی ہے، اور تمام تر کاوشیں اور محنتیں ان کے لیے ذخیرہ آخرت بنتی رہتی ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ فقیہ اخلاص و علوم ومعارف میں تعمق وگہرائ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے موقف میں ثابت قدم رہتے ہوئے حق سے ذرہ برابر بھی انحراف نہ کرے ، اور اپنے دامن کوغلط مسائل اور بےجا تأویلات سے داغدار نہ کرے –
خلاصہ یہ ہے کہ فقہ انسانی زندگی کو شریعت کے اصول و قوانین کے مطابق گزارنے کے لئے نہایت ہی ضروری فن ہے ، جس کے بغیر راہ راست پر چل کر منزل مقصود تک پہنچنا ناممکن سا نظر آتا ہے ، اور پیدائش سے لے کر موت تک کا وقت اس سے مربوط ہے، اس لیے اس کی ضرورت تمام زمانے میں مسلم رہی ہے، اور اس کے افادیت کا کوئی منکر نہیں ہوسکتا ، نیز اس کے فضائل بھی بے شمار ہیں، لیکن یہ تمام تر چیزیں فائدہ مند اور کارگر اسی وقت ہوں گی جب کہ اخلاص و للہیت کے ساتھ شرعی وفقہی اصول و ضوابط کو سامنے رکھ کر قرآن و حدیث سے صحیح صحیح مسائل مستنبط کر کے بیان کیا جائے ، خود بھی عامل ہو اور دوسروں کی بھی دستگیری کرے، اگر خدانخواستہ انجانے میں اجتھاد میں غلطی ہوجائے تب بھی محنت کی وجہ سے ایک اجر ملے گا، اور صحیح اجتھاد پر تو دوگنا اجر ہے، لہٰذاشرعی مسائل کو بیان کرنے میں نہایت ہی احتیاط سے کام لے، ورنہ بے پناہ صلاحیت کے باوجود سوائے حسرت و ندامت اور افسوس کی کچھ نہیں باقی رہےگا- آخر میں میں دست بدعاءہوں کہ اللہ تعالی دین کی صحیح سمجھ بوجھ عطاء فرمائے، اور امت کوبہترین قائد عطاء فرمائے، اور ہم سب کو امت کی ہدایت کا ذریعہ بنا کر دینی و ملی خدمات کے لئے قبول فرمائے آمین-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں