59

فضلاے مدارس اور اردو صحافت

مسعود جاوید
بعض ایسی تحریریں سامنے آتی رہتی ہیں، جو سنتا تو سمع خراشی کہتا؛ لیکن پڑھنے کو ملتی ہیں؛ اس لیے اگر اردو زبان و ادب کے ماہرین اجازت دیں،تو نظر خراشی کہہ دوں۔صورتحال یہ ہے کہ آج ان تحریروں نے ذہن کے آس پاس کی فضا مکدر کر دی ہے۔اس حقیقت سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں ہے کہ دینی مدارس کے فارغین اردو زبان کی تلفظ کی حد تک آبرو رکھے ہوئے ہیں ؛اس لیے کہ اردو کے بیشتر مخارج و مصادر ،مشتقات کا تعلق عربی اور فارسی سے ہے، جن کی تعلیم مدرسوں میں دی جاتی ہے؛اسی لیے مدارس کے فارغین کی گرفت اردو زبان، صحیح تلفظ تذکیر و تانیث اور اصطلاحات پر اچھی ہوتی ہے، یہ اور بات ہے کہ اردو ادب سے عموماً نابلد ہوتے ہیں ؛اس لیے کہ اردو ادب ان کے نصابِ تعلیم کا حصہ نہیں ہے؛چنانچہ مراثیِ دبیر و انیس، کلیاتِ مرزا رفیع سودا، کلیاتِ میر تقی میر، کلیاتِ انشاء ، کلیاتِ نذیر ،گلزار داغ ،دیوان غالب، مضامین سر سید ،محمد حسین ازاد کی آب حیات، پریم چند اور سعادت حسن منٹو کے افسانے ان کے زیر مطالعہ نہیں رہتے۔
قاسمی ،ندوی، اصلاحی، فلاحی اورسنابلی حضرات ،جو اردو میں لکھتے ہیں یا مصنف ،مؤلف ،ناقد وشاعر گزرے ہیں یا جو موجود ہیں، وہ ان کے ادبی ذوق ،اردو کتابوں سے شغف اوردیرینہ شوق کا نتیجہ ہے،انہوں نے ذاتی رغبت کی بنا پر وسیع مطالعہ کیا اور یہ کمال حاصل کیایا وہ فارغین ہیں ،جنہوں نے فراغت کے بعد عصری درسگاہوں کا رخ کیا اور اردو، عربی یا فارسی زبان و ادب میں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی۔
اردو لکھنے والوں کا دوسرا طبقہ وہ ہے، جو انگلش یا ہندی میڈیم کا تعلیم یافتہ ہے،گھر اور آس پاس کا ماحول اور مادری زبان اردو ہونے کی وجہ سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھا،نصف صدی قبل تک مسلمانوں ؛بلکہ غیر مسلموں کی بھی ایک معتد بہ آبادی عربی فارسی مشتقات والے مفردات سے بخوبی واقف ہوا کرتی تھی۔رفتہ رفتہ یہ صورتحال بدلتی گئی اوراردو زبان و ادب میں بی اے ،بی ایڈ اور ایم ایم فل ،پی ایچ ڈی کرنے والے چونکہ بنیادی عربی اور فارسی سے مکمل نابلد تھے؛ اس لئے جب ایسے لوگوں نے اسکول میں ٹیچر اور کالج و یونیورسٹی میں لیکچرار اور پروفیسر کی ملازمت کی، تو ظاہر ہے ان کے طلبا کی اردو دانی ان سے کم رہی اور گرامر خاص طور پر ہر مفرد کے روٹ مصدر پر توجہ گھٹتی جا رہی ہے۔
تیسری قسم، جو ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہے، یہ ان مسلم اور غیر مسلم لڑکے اور لڑکیوں کا طبقہ ہے، جنہیں اردو زبان کی شیرینی ،نزاکت ،غنائیت، صوتی سماعت، حسن و عشق کے موضوعات نے اپنا گرویدہ بنایا ہے،یہ لوگ دیوناگری یا رومن میں اشعار لکھتے ہیں یا اپنے یا دیگر شعرا کے کلام پوسٹ کرتے ہیں،یہ بات اردو داں حلقہ کے لئے واقعی باعثِ فخر و مسرت ہے،تاہم ان کی زبان خاص طور پر تلفظ، تذکیر و تانیث اور جملوں کی ساخت میں سقم بہت نمایاں ہوتا ہے۔
مدارس کے فارغین کی ایک بڑی تعداد ان دنوں اردو صحافت سے منسلک ہے؛لیکن المیہ یہ ہے کہ صحافت کے میدان میں ان کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے فاش غلطیاں ان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ اخبارات میں تو غنیمت ہے کہ ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر ہوتے ہیں ،جو اصلاح کر دیتے ہیں؛لیکن سوشل میڈیا پر ہر شخص کی طرح وہ بھی آزاد ہیں، جو چاہیں لکھیں،تکلیف اس وقت ہوتی ہے، جب اس طبقے کے کچھ صاحبِ قلم ہر موضوع پر مضمون یا طویل تبصرے لکھتے ہیں اور وہ مضامین اور تبصرے کسی موضوع کے سیر حاصل مطالعے کا نتیجہ نہیں ہوتے ؛ بلکہ اپنی طرف سے قیاس لگا کر، فوری ردِعمل کے طور پر یا واٹس ایپ پروفیسروں کے بیانات کی بنیاد پر ہوتے ہیں، یہ ایک غلط روش ہے اور تمام لوگوں، خاص طور پر فارغینِ مدارس کو اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
صحافت کی صلاحیت صرف لکھنے کے شعور آنے سے نہیں آتی،یہ ایک بہت ہی ذمے داری کا کام ہے اور بہت حساس پیشہ ہے،ذرا سی بے توجہی سے اس پیشے سے منسلک انسان قانونی گرفت میں آسکتا ہے، اس پیشے کی حساسیت کا اندازہ ایک جملہ’’مبینہ طور پر‘‘، ’’ایسا کہا جاتا ہے‘‘اور it is alleged وغیرہ سے کیا جا سکتا ہے۔امرِ واقع جاننے کے باوجود صحافی ایسا نہیں لکھتا، جس سے اس واقعے کے یقینی ہونے کا تاثر ملے؛اسی لئے ایڈیٹر کی گہری نظر جملوں کی ساخت پر ہوتی ہے کہ کسی جملے سے کسی فریق کی عزت کو بٹہ نہ لگے، کسی کا وقار مجروح نہ ہو یا کسی کی تجارت کو نقصان نہ پہنچے اور اگر ایسی کوئی تحریر شائع ہو گئی، تو متاثر شخص اس اخبار کے خلاف مقدمہ درج کراتا ہے؛لیکن افسوس ایسی ہی ایک خبر ایک اخبار میں شائع ہوئی کہ فلاں مسلم شخص کو زہر کا انجکشن دے کر ہلاک کر دیا گیا۔یہ خبر توقیر بدر صاحب کے مطابق عوامی نیوز اور انقلاب پٹنہ ایڈیشن میں شائع ہوئی،اس کا تراشہ بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا،میں نے شیئر کرنے والے فارغینِ مدارس کو اس خطرے سے آگاہ کیا اور اس طرح کی خبروں کے متوقع منفی اثرات سے آگاہ کیا اور کہا کہ لاکھوں مسلمانوں کا علاج غیر مسلم ڈاکٹر ہی کرتے ہیں،کسی ایک حادثے کو ہندو مسلم رنگ دینا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے،دوسری بات یہ کہ یہ کس نے تحقیق کی کہ اسے زہر کا انجکشن دیا گیااور مصدق ہے ،تو کیا کسی نے اس ہسپتال یا ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر کیا ہے؟
الحمدللہ انہوں نے مسئلے کے متوقع منفی اثرات کو سمجھا اور پوسٹ ڈیلیٹ کر دیا،بعض پر جوش لکھاری لکھتے ہیں ’’ہندی ہیں ہم، وطن ہے سارامسلم جہاں ہمارا‘‘ میں نے کہا کبھی بغیر ویزا کسی مسلم ملک میں بھی گھس کر دکھا دو،سیاحت، ملازمت یا تجارت کا ویزا ہوتے ہوئے بھی اگر آپ نے بطاقہ آئی ڈی نہیں دکھائی ،تو آپ سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیئے جائیں گے اور کسی متعلق کو خبر بھی نہیں کی جائے گی،رشتہ دار اور دوست ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال چکر لگاتے رہیں گے اور ہفتوں سراغ نہیں ملے گا۔یہ ہے حقیقی تصویر ’’ سارا مسلم جہاں ہمارا‘‘ کی اور اتنی سختی کیوں نہ ہو، ہر حاکم اپنے ملک کی حفاظت کے لیے پابند ہے؛اس لئے پر جوش عالم دین ہوں یا غیر عالم دین، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ آپ کا اپنا وطن ہی آپ کا اپنا ہے؛اس لئے سنسنی خیز باتوں، افواہوں یا فوٹو شاپ والی تصاویر کو بغیر تحقیق نہ خود لکھیں ،نہ ان پر تبصرہ کریں اور نا ہی شیئر کریں، پان اسلام اور پان عرب pan Arab کھوکھلے نعرے ہیں، اس کے پیچھے نہ بھاگیں اور نہ ہجرت اور جہاد کی باتیں کریں۔ عملی سوچ کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دیں،حکومت کی یا کسی تنظیم کی تنقید کرنی ہو، تو بولنے ،لکھنے ،پوسٹ کرنے، لائک کرنے اور شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح پڑھ لیں، سمجھ لیں اور دوسرے بھیجنے والے کی معتبریت کی جانچ کر لیں،فرقہ واریت کو ہوا دینے والی تحریر و تقریر سے گریز کریں ،اسے بڑھاوا دینے میں معاون نہ بنیں،فیک آئی ڈی اور فیک سائٹس پر اعتماد کرتے ہوئے ردعمل کرنے سے گریز کریں، مسلکی اختلافات پر بحث و مباحثہ اور تکرار سے بچیں،لکل حدث حدیث،بعض مناقشات دورانِ تعلیم طلبہ کا ذہن کھولنے اور مسائل پر جرح و تمحیص کا طریقہ بتانے کے لیے سکھائے جاتے ہیں ،وہ درسگاہوں تک محدود رکھیں،عوامی پلیٹ فارم پر اسے موضوع بحث نہ بنائیں ،مسجد کے محراب و منبر سے فقہی موشگافیوں کے ذریعے ملت میں انتشار کا سبب نہ بنیں، بعض معاملات سلطنت اور حکومت کے ذمے ہیں، ان میں آپ اپنے آپ کو پولیس کا کردار بنا کر پیش نہ کریں، دین اصل ہے، مسلک ثانوی ہے؛اس لئے تکفیری لب و لہجہ نہ اپنائیں،کل قیامت کے روز آپ اپنے اچھے برے اعمال کے لئے جوابدہ ہوں گے۔
دوسری بات یہ کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص ہر موضوع کا ماہر ہواور جب ایسا ہے ،تو پھر لیرہ اور ڈالر، ریال اور درہم کے بارے میں رائے زنی نہ کریں،کسی بھی ملک کی کرنسی کی قیمت کس طرح گھٹتی یا بڑھتی ہے،انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کیا کام ہے، اس میں کرنسی باسکٹ کا کیا نظام ہے، ورلڈ بینک کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ ان سب کے بارے میں پوری معلومات حاصل کئے بغیر اپنی بات رکھنا اور اس میں تشدد اختیار کرنا قطعاً مناسب نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں