159

فحش کون: منٹویامعاشرہ؟

اخترحفیظ

(اردوکے نامورافسانہ نگارسعادت حسن منٹوکے یومِ وفات کی مناسبت سے منٹوکے فکروفن پرایک خوب صورت تجزیاتی وتنقیدی تحریر قارئین کی خدمت میں پیش ہے)
امریکی شاعرہ مرئیل رکائسر نے کہا ہے کہ یہ کائنات ایٹم سے نہیں بلکہ کہانیوں سے بنی ہوئی ہے۔کہانیاں یا افسانے ہمیں نہ صرف معاشرے میں رائج رجحانات کے بارے میں بتاتے ہیں، بلکہ یہ تاریخی واقعات اور حالات کو بیان کرنے کے لیے ایک ایسی بہترین صنف ہے جس کے ذریعے ایک افسانہ نگار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسی ایسی شاہکار تحریروں کو جنم دیتا ہے جن کا اثر صدیوں تک جاری رہتا ہے۔
کبھی یہی افسانے تمثیل میں لکھے جاتے ہیں تو کبھی تلخ حقائق کو نرم الفاظ کا لبادہ پہنا کر بیان کیا جاتا ہے، اور ایک شاہکار افسانہ قاری پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
آج کم و بیش دنیا کی ہر زبان کے ادب میں ہمیں شاہکار کہانیاں ملتی ہیں۔ اردو ادب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ اسے اپنی کہانیوں کے ذریعے ایک طلسم کدہ تعمیر کرنے والا کرشن چندر، امرتا پریتم جیسی حقیقت نگار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے بہترین افسانہ نگار بھی ملے۔
اسی ادب نے عصمت چغتائی کے دیوانے پیدا کیے اور احمد ندیم قاسمی سے لے کر ابدال بیلا تک ایسے معتبر افسانہ نگار دیے جنہیں آج بھی بڑے احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
مگر اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے، جن کی زندگی تو تمام ہوگئی مگر ان کے قلم کی سیاہی کبھی ختم نہ ہوئی اور وہ تک تب افسانے لکھتے رہے جب تک انہوں نے اپنے بستر پر ہی ہمشہ کے لیے آنکھیں بند نہ کیں۔
منٹو آج بھی بہت سے لوگوں کے ناپسندیدہ افسانہ نگار ہونے کے باوجود وہ بہت سوں کے پسندیدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔ لیکن ان حضرات کے بارے میں کیا کہا جائے جو ہمیشہ منٹو کے پڑھنے والوں کو یہی تاکید کرتے رہتے ہیں کہ “بچوں کو منٹو کی کہانیوں سے دور رکھیں”، مگر وہ خود ان کے افسانے چھپ چھپ کر پڑھتے رہتے ہیں، اور ان کے افسانوں میں جنسی لذت کا پہلو تلاش کرتے ہوئے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔
شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔
وہ شراب پیتے، پان چباتے اور سگریٹ سلگاتے تھے، مگر ان کے افسانے نہ تو پان چباتے ہیں اور نہ ہی شراب پیتے ہیں، بلکہ وہ ایسا سچ بیان کرتے ہیں جو ہم سے ہضم نہیں ہوتا۔
مگر انہیں کیا پڑی تھی ایسے ایسے کڑوے سچ لکھنے کی کہ جسے پڑھنے کے بعد لوگ اپنے دانت پیسنے لگیں اور منہ بسور کر منٹو پر گالیوں کی بوچھاڑ کردیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی لکھاری یا ادیب کا دل اس کے معاشرے میں ہونے والے ظلم و ستم، ناانصافی اور دوغلے رویوں پر بھی حرکت میں نہیں آتا تو اس سے بہتر ہے کہ وہ کوئی کاروبار کر لےـ
جو ادب لوگوں کو خوش کرنے کے لیے لکھا جائے، وہ ادب ادب نہیں بلکہ صرف لفاظی ہوتی ہے، جو کہ کوئی بھی الفاظ کا جادوگر آسانی سے کر سکتا ہے، لیکن معاشرے کو ناراض کر کے حقائق لکھنا ہی ایک حقیقی ادیب کا کام ہے۔
انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ “مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہا جاتا ہے، میرا مقام کیا ہے، میرا اپنا مصرف کیا ہے؟”
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو اپنے افسانوں میں عورتوں کے کپڑے اتارتا ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے ان ہی عورتوں کے بارے میں لکھا ہے جن کے کپڑے حالات اور ہمارے معاشرے نے اتارے ہیں۔ ‘ہتک’ کی سوگندھی ہو، ‘کھول دو’ کی سکینہ، ‘کالی شلوار’ کی سلطانہ، یا پھر ‘ٹھنڈا گوشت’افسانے کی کلونت کور ہو، یہ منٹو کے وہ کردار ہیں جو حالات کے مارے ہوئے ہیں۔
اگر انہوں نے ان تمام لوگوں کو اپنا کردار بنایا ہے تو کیا انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے؟ انہوں نے وہ لکھا ہے جو معاشرے نے انہیں دکھایا ہے۔ ان کے پاس خوبصورت الفاظ نہیں ہیں، نہ ہی ایسی تشبیہات اور استعارے جنہیں پڑھ کر ہم کھو سے جائیں۔ وہ ایسے افسانوں میں خوبصورت الفاظ کہاں سے لاتے جب ان کے کرداروں کی زندگی ہی زہر بھری تھی؟
اپنے ایک مضمون ‘بقلمِ خود’ میں انہوں نے اسی بات کا اعتراف کیا ہے کہ “اب لوگ کہتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو اردو کا بڑا ادیب ہے، اور میں یہ سن کر ہنستا ہوں، اس لیے کہ اردو اب بھی اسے نہیں آتی۔ وہ لفظوں کے پیچھے یوں بھاگتا ہے جیسے کوئی جال والا شکاری تتلیوں کے پیچھے، وہ اس کے ہاتھ نہ آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تحریروں میں خوبصورت الفاظ کی کمی ہے۔ وہ لٹھ مار ہے، لیکن جتنے لٹھ اس کی گردن پر پڑے ہیں، اس نے بڑی خوشی سے برداشت کیے ہیں۔”
ان کے افسانوں کو صرف فحاشی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر وہ درحقیقت انسان کے سماجی، نفسیاتی اور جنسیاتی مسائل کے بارے میں ہمیں بتانا چاہتے ہیں جو انسان کی پیدائش سے لے کر مرنے تک اس کے ساتھ لپٹے رہتے ہیں۔ یہ سب مسائل توجہ طلب ہونے کے ساتھ ساتھ حل طلب بھی ہیں، مگر ہمارا رویہ ان تمام مسائل کے حوالے سے منفی رہا ہے۔
ہمیں اس سماج میں عورت بحیثیت ایک طوائف تو قبول ہے، مگر اگر وہ کوئی ایماندارانہ پیشہ اپنا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتی ہے تو کتنے ہی لوگوں کے دلوں میں برسوں سے سوئی ہوئی غیرت جاگ جاتی ہے۔
اگر منٹو ایسے کرداروں پر افسانے لکھتے ہیں تو ہمارا معاشرہ اسے سازشی قرار دیتا ہے۔ مگر کیا ادب زندگی کی کوکھ سے جنم نہیں لیتا؟ کیا انسانی زندگی ان تمام مسائل میں گھری ہوئی نہیں جن کا سامنا کرتے کرتے عمر بیت جاتی ہے؟
منٹو کی تحریروں میں بھی وہی گرمی محسوس کی جاسکتی ہے جو فرانسیسی ادیب موپاساں کی تحریروں میں تھی۔ منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھے، جنہیں لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کو حسین کر کے پیش کرنے کا فن نہیں آتا تھا، بلکہ وہ اس کرب کو محسوس کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس ملک کی اشرافیہ بھی ان کے دکھوں کو محسوس کرے۔ مگر انہیں نفرت کے سوا کچھ نہیں ملا۔
کسی بھی فنکار کے فن پر تنقید کرنا، اس پر تبصرے کرنا اس حد تک تو جائز جب تک اس کا دائرہ کار صرف اس کی تحریروں تک محدود رہے، مگر جب اس کا دائرہ اس کی ذاتی زندگی تک پھیل جائے تو یہ کردار کشی بن جاتی ہے۔ منٹو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
ان کی کہانیوں میں بظاہر فحش الفاظ کے پیچھے موجود دل سوز پیغام کو سمجھے بغیر ہم نے ان پر بے ہودہ، فحش نگار اور سنکی ہونے کا الزام اس قدر شدت سے لگایا ہے کہ ان کی وفات کی سات دہائیوں بعد بھی منٹو کی کتاب ہاتھ میں دیکھنے پر لوگ ٹیڑھی اور مشکوک نظروں سے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کہ ہاتھ میں اردو ادب کے مایہ ناز افسانوں و مضامین کے بجائے پلے بوائے میگزین اٹھایا ہوا ہو۔
آج اگر منٹو زندہ ہوتے تب بھی وہ اسی سچ کو لکھنے کے لیے اپنے قلم کی سیاہی خرچ کرتے جسے ہمارے معاشرے کے نام نہاد پارسا برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ادب کی دنیا میں صرف خوبصورت الفاظ لکھ کر بھی ایک بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے، پر اگر کسی افسانہ نگار کو اس بات کا اندازہ ہو کہ اس کی لکھی ہوئی تحریر انہیں جیل کی ہوا کھلا سکتی ہے، عدالت کے کٹہرے میں بِنا وکیل کے مقدمہ لڑنے پر مجبور کرسکتی ہے، اور پھر بھی وہ لکھتا جائے، لکھتا جائے، تو کیا یہ بہادری نہیں ہے؟
یہی سب کچھ سعادت حسن منٹو نے کیا ہے۔ وہ سنگِ دشنام برداشت کرنے کے لیے تیار تھے، مگر انہوں نے معاشرے کی غلاظت کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھنا اور منہ موڑ لینا گوارا نہیں کیا۔ آج یورپ اردو کے کسی حقیقت نگار کو جانتا ہے اور پڑھتا ہے تو وہ منٹو ہے۔
ان کے افسانے آج بھی اس سماج کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ وہی سسکتی اور بلکتی صورتیں ہمارے ارد گرد گھومتی نظر آتیں ہیں، مگر پھر بھی ہم منٹو کو برا کہتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں ایک نشہ لگ چکا ہے، ہر چیز میں صرف حسین پہلو تلاش کرنے کا نشہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں