26

غزل


دلاورعلی آزر
چلے بھی آؤ کہ حجت تمام ہو چکی ہے
دِیا جلانے کا مطلَب ہے شام ہو چکی ہے

ہوس سے کام چلاتے ہیں یعنی ہر دو فریق
کریں بھی کیا کہ محبت تو خام ہوچکی ہے

گزر چکی ہے اذّیت سے چشمِ خواب آثار
سکوتِ شب سے نظر ہم کلام ہو چکی ہے

جھکائے رکھّیں گے ہم یوں ہی اپنی گردن کو
وہ تیغِ تیز اگر بے نیام ہو چکی ہے

نفس نفس ہے سبک رو قدم قدم ہے مثال
حیاتِ دہر بہت تیز گام ہو چکی ہے

پیمبروں کے تسلسل کے بعد آخرِ کار
زمیں پہ فقر کی دولت بھی عام ہو چکی ہے

ہمارے خواب ہوا میں اُڑائے جائیں گے
ہماری نیند پرندوں کے نام ہو چکی ہے

وہ داستاں جو تہِ خاک و خوں لکھی گئی تھی
شروع ہونے سے قبل اختتام ہو چکی ہے

زمیں پہ حشر بپا ہونے والا ہو جیسے
تمام خلق ہوس کی غلام ہو چکی ہے

نئی زمین سے مصرع اُٹھائیے اپنا
کہ یہ تراش زمانے میں عام ہو چکی ہے

بتاؤں کیا کہ مکمل مری حیات آزر
بغیرِ عشق بہ صد اہتمام ہو چکی ہے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں