179

غزل


انجیل صحیفہ

میں کوئی دھن لے کے آؤں، تُو اسے الفاظ دے
انگلیاں تھرکا لبوں پر ،گیت گا اور ساز دے

اتفاقاً میں بچھڑ جاؤں کسی شب خواب میں
ہڑبڑا کر آنکھ کھولے، تُو مجھے آواز دے

رنگ میرا گندمی سا، بال گھنگرالے سے ہوں
پھول لہجہ ، دیپ آنکھیں ،مشرقی انداز دے

ہائی فائی ہوٹلوں میں کیوں کوئی لیوش ڈنر؟
گاؤں لے کر چل مجھے اور دعوتِ شیراز دے

رات میں چھت پر کھڑی یہ چاند سے کہنے لگی
آ مجھے دل سے لگا، تنہائیوں کے راز دے

نیلےسیّارے پہ آ ،کافی پئیں ،باتیں کریں
روبرو اک شام, ملنے کا مجھے اعزاز دے

آسماں،مریخ، تارے، کہکشاں،بادل، ہوا
سارے مجھ سے کہہ رہے ہیں روح کو پرواز دے

ہے عجب خواہش کہ میں انجام پہلے دیکھ لوں
تُو کہانی ختم کر اور پھر اِسے آغاز دے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

غزل” ایک تبصرہ

  1. اردو ادب کو ہماری نئی نسل نے پتہ نہیں ایک الگ ہی رخ دینا شروع کر دیا ہے.

    لہذا اب ادب کے رخ کو ذرا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے..

اپنا تبصرہ بھیجیں