161

غزل


رحمان فارس
ہمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے
مگر ہمیں ایسا بُت مِلا ھے کہ بے وقوفی نہیں کریں گے

مزارِ غالب کی ساری اینٹوں سے اِس قدر ہے ھمیں عقیدت
کہ جنگ چِھڑ بھی گئی تو دِلّی پہ گولہ باری نہیں کریں گے

اگر حکومت تُمہاری تصویر چھاپ دے نوٹ پر، مِری دوست !
تو دیکھنا تُم کہ لوگ بالکل فضول خرچی نہیں کریں گے

ہمارے سالار کو بھی فرماں روائی کا شوق ہے، لہٰذا
ہم اصل حقدار شاہزادے کی تاج پوشی نہیں کریں گے

ہمارے چند اچھے دوستوں نے یہ وعدہ خود سے کیا ھوا ہے
کہ شکل اللّہ نے اچھی دی ہے سو بات اچھی نہیں کریں گے

دکھا کے آیا ہوں اپنے یاروں کو اپنے بٹوے میں تیری تصویر
سو آج کے بعد تیری آنکھوں میں تانکا جھانکی نہیں کریں گے

تُو شاہزادی سہی مگر ہم غریب پکّے ہیں اپنی دُھن کے
اگرچہ کچّے گھروں سے آئے ہیں، بات کچّی نہیں کریں گے

ہم ایسے شدّت پسند لوگوں کو مت محبت کا مشورہ دو
ہمیں خبر ہے کہ جب محبت کریں گے، تھوڑی نہیں کریں گے

عجیب مَے کش ہیں، خوب پی کر یہ روز کرتے ہیں خود سے وعدہ
کہ آج گر بچ گئے تو کل سے شراب نوشی نہیں کریں گے

جنہوں نے اُس سانولی کے نمکین خال و خد کو چکھا ے فارس
نمک کی حُرمت کو جانتے ہیں، نمک حرامی نہیں کریں گے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں