49

غزل

ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی

جو قا ئدین تھے وہ بے اِمان ہو تے ر یے
رہے جو پست ، وہ اہلِ مچان ہوتے رہے

کہاں شعور ، کہاں خو ئے و حد تِ ملت
بجا ئے تیر کے ہم سب کما ن ہو تے ر ہے

اُد ھر بہشت کا مژ دہ سنا یا واعظ نے
اِد ھر تھے ہم کہ جہنم نشان ہو تے ر ہے

ذرا سی عرضِ تمنا جو کی کبھی ان سے
بس اتنی بات پہ وہ بد گمان ہو تے ر ہے

ہمیں جو ہاتھ لگا نے کو بھی نہیں تیا ر
اسی کے سا منے ہم عطر دان ہو تے ر ہے

کبھی تو امن کی خوشبو ملے گی ہم کو بھی
یہ آرزو لئے بچے جو ان ہو تے ر ہے

جہاں میں بت شکن ہونا تھا قاسمی جن کو
صنم کدوں کے و ہی سا ئبا ن ہو تے ر ہے

نورنگ دوا خانہ ،بنگلور *

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں