42

غزل


عمیرنجمی
تمہارے بعد، بہت تھے جنہوں نے کم نہیں کی
مگر، قسم سے، دوبارہ یہ آنکھ نم نہیں کی

ہمیں یہ ڈر تھا کہ اکتا نہ جائیں کچھ دن میں
سو قسط وار محبت کی ،ایک دم نہیں کی

وہ کیسا عشق تھا، ماتھے پہ اک شکن بھی نہیں
یہ کیسا ہجر ہے جس نے کمر بھی خم نہیں کی

جنوں کے داغ، ہمیشہ دماغ پر چھوڑے
کسی بدن پہ کوئی داستاں رقم نہیں کی

جو مجھ سے ربط کا خواہاں تھا، اس سے دور رہا
کسی کی روشنی، اس تیرگی میں ضم نہیں کی

جب اختلاف کیا اس نے ضمنی باتوں پر
تو پھر وہ بات، جو کرنے گئے تھے ہم، نہیں کی

تجھے یہ دکھ ہے کہ کیوں بات کاٹ دی تیری؟
وہ جس کی بات تھی، خوش ہو، زباں قلم نہیں کی

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں