112

غزل

شعیب زماں


ہم فقیروں کا احترام نہیں
یہ کہانی کا اختتام نہیں

رائگانی کا دکھ سمجھتا ہوں
سو مجھے انتظار_شام نہیں

جس جگہ سانس لے رہا ہوں میں
اس جگہ زندگی کا نام نہیں

اپنے ہونٹوں سے کر ادا مجھ کو
میں کسی اور کا کلام نہیں

میری تصویر پوجنے والو
میرا تصویر میں قیام نہیں

کرنا پڑتی ہیں خرچ سانسیں روز
رائگانی کی روک تھام نہیں

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں