83

غزل

شعیب زماں


ہم فقیروں کا احترام نہیں
یہ کہانی کا اختتام نہیں

رائگانی کا دکھ سمجھتا ہوں
سو مجھے انتظار_شام نہیں

جس جگہ سانس لے رہا ہوں میں
اس جگہ زندگی کا نام نہیں

اپنے ہونٹوں سے کر ادا مجھ کو
میں کسی اور کا کلام نہیں

میری تصویر پوجنے والو
میرا تصویر میں قیام نہیں

کرنا پڑتی ہیں خرچ سانسیں روز
رائگانی کی روک تھام نہیں

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں