121

غزل


ارشدعزیز
تیرے دیوانے کا ہوش میں آنا ٹھیک نہیں
لوگ وگرنہ سمجھیں گے مے خانہ ٹھیک نہیں

آنکھ ملاؤ خواب سے لیکن اتنا یاد رہے
اک پتھر کا شیشے سے ٹکرانا ٹھیک نہیں

“غَلْطی” کا کیا غَلْطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے
لیکن ایک ہی غَلْطی کا دہرانا ٹھیک نہیں

سر میں سودا ہے سودائی دشت کی حد میں رہ
اس حالت میں شہر کی جانب جانا ٹھیک نہیں

اس کی ہاتھ گھڑی نے وقت بتانا چھوڑ دیا
ثابت ہوتی ہے یہ بات زمانہ ٹھیک نہیں

دیواروں کا کھڑکی سے یارانہ ہوتا ہے
ان کو اپنے دل کی بات بتانا ٹھیک نہیں

اس کو ہلکے، بھاری کا بھی فرق نہیں معلوم
پیمانے کو ٹھیک کرو پیمانہ ٹھیک نہیں

ورنہ مشکل مشکل میں ہی ڈالے رکھے گی
مشکل ہے پرمشکل میں گھبرانا ٹھیک نہیں

ارشد آج وہ پوری تیاری سے آئے گا
دیکھو آج تمہارا باہر جانا ٹھیک نہیں

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں