100

غزل

ذکی احمد
نم فضا ہو، کہ یہ جہاں روئے
روؤں میں ساتھ آسماں روئے

ابر آئے، چڑھے و چھٹ جائے
جیسے الجھن میں ہو، کہاں روئے

بوند شبنم کی ٹپکے نرگس سے
آہِ سوسن پہ گلستاں روئے

مینہہ اب بھی، سسک کے گرتی ہے
اس جگہ، ہم جہاں جہاں روئے

بزم کا خیر پوچھیے مت حال
چھیڑوں جیسے ہی، داستاں روئے

اشک، آہیں، کراہیں، سب بکواس
لطف تو تب ہے جب نہاں روئے

شعر اک اک ہیں جاں گسل کہ بس
سر پٹک کر کے نغمہ خواں روئے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں