43

غزل

احمدعطاء اللہ
وقت کافی ہے محبت کی فرازی کے لیے
کوئی لالچ ہی نہیں عمردرازی کے لیے

جان ہاری ہے تو آغاز محبت کی ہے
ابھی ایمان بھی ہے آخری بازی کے لیے

احترام اپنی جگہ زرد نقابوں والی
سرخ یہ پھول گنہ گار سے ماضی کے لیے

پاؤں سبزے پہ نہیں آنکھ کی دہلیز پہ رکھ
ہم تو مشہور ہیں مہمان نوازی کے لیے

میکدہ دل کی طرح جیسے کھلا رہتا ہے
مسجدیں کھولیے بے وقت نمازی کے لیے

چھین لوں تجھ سے ترا عشقِ حقیقی اک دن
وقف کرلوں میں تجھے عشقِ مجازی کے لیے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں