46

غزل

ندیم بھابھہ
دکھا رہا ہوں یہ گھٹیا سمجھ میں آ جائے
کہ ایک بار اسے دنیا سمجھ میں آ جائے

یہ لوگ جا تو رہے ہیں نئے زمانے میں
دعا کرو انہیں رستہ سمجھ میں آ جائے

خدا کرے تجھے تہذیبِ مئے کشی ہو نصیب
خدا کرے تجھے پینا سمجھ میں آ جائے

غلط نہ جان کہ آنکھیں نہیں رہیں میری
سو چھو رہا ہوں کہ چہرہ سمجھ میں آ جائے

یہ لوگ جنگ کی باتیں نہیں کریں گے اگر
گلی میں کھیلتا بچہ سمجھ میں آ جائے

ندیم دوسرا ان کو دکھائی دیتا نہیں
ندیم جن کو بھی پہلا سمجھ میں آ جائے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں