139

غزل

منصورقاسمی
لطف دیتا ہی نہیں سایۂ دیوار مجھے
عشق نے ایسا کیا ہے ترا بیمار مجھے

کہدوواعظ سےکہ حوروں کی طلب تجھ کوہے
لذتِ دیدِ صنم نے کیا سرشار مجھے

میں ابھی زندہ ہوں اس قتل گہہِ عالم میں
روز دیتا ہے خبر صبح دم اخبار مجھے

دفعتاً چونک کے اٹھتا تھا کسی آہٹ سے
شور اب کیوں نہیں کرپاتا ہے بیدار مجھے

ایک دن پھرسےکریں گےمہ و انجم سجدے
مرے دشمن یوں نہ سمجھیں ابھی بیکارمجھے

اب قبیلہ تجھے سردار نہیں مانتا ہے
مانتا ہے بسر و چشم وہ سردارمجھے

دیکھ کر صاحب دستار کی ادا کاری
اس صدی کا بڑا لگتا ہے اداکار مجھے

تاکہ منصور کو ہو علم مرے ہونے کا
نقش پا چھوڑ کے جانا ہے لگاتار مجھے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں