59

غزل

رفیق سندیلوی
برہنہ کر کے سَحَر ، شب کو بے ردا کر کے
مَیں کوہِ جسم سے اُترا ہُوں یاترا کر کے

یہ شش جہات ، سمندر ،مظاہر و اشیا
تو کیا مَیں بیٹھا رہوں اِن پہ اکتفا کر کے

غروبِ مہر کی ساعت یہ آبِ بے تحریم
بہت ہی خُوش ہے مرے عکس کو فنا کر کے

کہاں یہ جسم کہاں الف لیل کا رستہ
مَیں تھک گیا ہُوں سفر ایک رات کا کر کے

قریب تر ہے وہ ساعت کہ مَیں بھی دیکھوں گا
یہ جسم و جان کے حصّے جُدا جُدا کر کے

بس ایک آن میں دروازہ کُھل گیا تو ٹھیک
فقیر رُکتا نہیں ہے کبھی صدا کر کے

اِسی کے گِرد لگاؤں گا اِک بڑا چکّر
یہیں پہ ختم کروں گا مَیں ابتدا کر کے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں