135

غزل

احمدفرہاد
ازل سے جس کا تھا اسی کا وقت ہے
خدا کے بعد آدمی کا وقت ہے

نکھر رہے ہیں زخم بھی حروف بھی
یہ کیا عجیب سر خوشی کا وقت ہے

لگی رہیں گی اس گلی میں رونقیں
ہمارے بعد بھی کسی کا وقت ہے

وہ گھر سے آج آ رہی ہے سیر کو
یہ باغ کے لیے خوشی کا وقت ہے

تمہارے پاس زخم ہے تو کھول دو
ہمارے پاس بے حسی کا وقت ہے

ڈھلے جو دن تو آنے لگتا ہے خیال
کہیں سے میری واپسی کا وقت ہے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں