30

غزل

چلے بھی آؤ کہ آیا بہار کا موسم
حسین دلکش وخوش رنگ پیارکاموسم

کہاں نصیب ہے وصل و قرار کا موسم
ہمارےحصےمیں آیا ہے انتظار کا موسم

غرور تم پہ خداؤ ! ذرا نہیں سجتا
بہت قریب ہے بچھڑےگااختیارکاموسم

چلی ہوائیں چمن میں، ٗگلوں کےچہرےپر
مگر نہ آیا کبھی بھی نکھار کا موسم

اگرچہ وعدےترےخوب ہیں بہت لیکن
“گزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم”

علم جو حق کا لئے پھر رہے ہیں، اب
حسیب ہم کو پکارے ہے دار کا موسم

حسیب الرحمٰن شائق قاسمی
یکہتہ، مدھوبنی
رابطہ: 9128543724

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں