80

غزل

جوادشیخ

ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا
لیکن وہ ایک داغ نہ لگ کر لگا ہوا

دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے آئینہ دیکھ کر
جانے یہ کیسا روگ ہے بھیتر لگا ہوا

ایسے ہی بات بات پہ روتا نہیں ہوں میں
اِک زخم ہے کہیں مرے اندر لگا ہوا

ہوتا نہیں جوان لڑکپن کے بعد بھی
لگتا نہیں غریب کا نمبر لگا ہوا

اندر بچھا ہوا ہے کوئی جال اور ہی
دام اور ہے دکان کے باہر لگا ہوا

ڈرتا بھی ہوں کہ ہو ہی نہ جائے کہیں وہ کام
اِک عمر سے ہوں جس میں برابر لگا ہوا

وہ اتفاق سے مرا محبوب ہے تو کیا
جچتا ہے ایک شخص ہی افسر لگا ہوا

جواد زندگی کی طرح تھی کوئی سڑک
دونوں طرف قطار میں کیکر لگا ہوا

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں