32

غزل

احمدعطاء اللہ
دو تھے، اور چائے کی لی ایک پیالی ہم نے
ٹل بھی سکتی تھی، محبت نہیں ٹالی ہم نے
ہم کو دنیا نے بہت بانٹا الگ خانوں میں
اور پھر بیچ کی دیوار گرالی ہم نے
جسم سے دل کو بھی رستے تو بہت جاتے تھے
پر محبت کی نئی راہ نکالی ہم نے
یار یہ عشق نہیں عشق نہیں آگ ہے آگ
سانولی کو بھی کیا ہجر سے کالی ہم نے
اتنی محنت سے محبت بھی تو بچ سکتی تھی
جتنی مشکل سے تری یاد بچالی ہم نے
بھیڑ اتنی تھی تکلف نہیں ہو سکتا تھا
بیچ رستے میں ملے اور دی گالی ہم نے
برف باری میں رہا کَھولتا ہنستا پانی
وہ تذبذب تھا عطا چائے بنالی ہم نے

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں