55

غزل

علی زریون
اندر اندر جلنے والو ! جیتے رہو
ہجر میں آپ سنبھلنے والو ! جیتے رہو
ہم دونوں کو دیکھ کے اک دوجے کے ساتھ
اے ہاتھوں کو ملنے والو ! جیتے رہو
کیمپس کی خالی سڑکوں پر شام کے وقت
تنہا پیدل چلنے والو ! جیتے رہو !
چپ کروا دینے کی قدرت رکھ کر بھی
خاموشی میں ڈھلنے والو ! جیتے رہو !
اپنے آپ سے ٹل جانا آسان نہیں !
اپنے آپ سے ٹلنے والو ! جیتے رہو !
اُس کی زباں سے علی کی غزلیں سن سن کر
اندر اندر جلنے والو ! جیتے رہو !

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں