72

غزل

عمیرنجمی
برسوں پرانا دوست ملا، جیسے غیر ہو
دیکھا، رکا، جھجک کے کہا: “تم.. عمیر ہو؟”
کمرے میں سگرٹوں کا دھواں اور تری مہک
جیسے شدید دھند میں باغوں کی سیر ہو
ملتے ہیں مشکلوں سے یہاں، ہم خیال لوگ
تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو
پیروں میں اس کے سر کو دھریں، التجا کریں
اک التجا کہ جس کا نہ سر ہو نہ پیر ہو
ہم مطمئن بہت ہیں اگر خوش نہیں بھی ہیں
تم خوش ہو، کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو
اک حادثہ ہو اور اچانک اٹھائے جائیں
جب بھی ہو اختتام ہمارا، بخیر ہو
کچھ تو ہو درمیان، بچھڑنے کے بعد بھی
کچھ بھی، بھلے قلق ہو، شکایت ہو، بیر ہو

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں