183

غالب اکیڈمی میں اردو ادب میں غیر مسلموں کی خدمات پرقومی سیمینار کا انعقاد


نئی دہلی :
قومی کونسل برائے فروغ اردو ذبان حکومت ہند کے اشتراک سے معروف سماجی تنظیم ایجوکیشن اینڈ سوشل کیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین میں یک روزہ قومی سیمینار بعنوان’’ اردو ادب میں غیر مسلموں کی خدمات ‘‘منعقد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر توقیر احمد خان (سابق صدر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ) نے کی ۔نظامت کے فرائض صحافی مبارک قاسمی نے انجام دئے ،مہمان خصوصی کی حیثیت سے دہلی ہائی کورٹ کے معروف وکیل مذکر ہاشمی نے شرکت کی ۔سیمینار کے کنوینر و ایجو کیشن اینڈ سوشل کیئر فاونڈیشن کے چیئر مین انجینئر محمد عزیر انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختلف موضوعات پر مسلسل سیمینار منعقد ہوتے رہتے ہیں مگر دور حاضر میں اردو سے متعلق ایک خاص طبقہ کی ذہنیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے اردو ادب میں غیر مسلموں کی خدمات پر سیمینار منعقد کیا تاکہ ان کو یہ بتایا جا سکے کہ اردو کسی خاص مذہب اور طبقے کی زبان نہیں ہے بلکہ اسکو بنانے سنوار نے اور پروان چڑھانے میں ہر مذہب ،ہر طبقے اور ہر قوم کے فرد نے اپنا کردار ادا کیا ہے میں شکر گزار ہوں یہاں شرکت کرنے والے قلم کاروں کاکہانہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی ۔اہم مقالہ نگاروں میں تنقید نگار صحافی حقانی القاسمی ،ڈاکٹر ابو بکر عباد (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی )ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی (اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ )ڈاکٹر شاذیہ عمیر (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی )ڈاکٹر اجمل (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو جواہر لال یونیورسٹی)داکٹر جسیم الدین (پی ڈی ایف ) ڈاکٹر علاء الدین ۔ان کے علاوہ مقالے پیش کرنے والے مختلف یونیور سٹیز کے ریسرچ اسکالروں میں عبدالباری قاسمی ،شاداب شمیم ،امیر حمزہ ،فاروق اعظم ،عظمت النساء،جویریہ خاتون ،راحت علی صدیقی قاسمی ،نایاب حسن ،نزہت فاطمہ ،عبدالسلام، اور احسن رضا کے نام قابل ذکر ہیں ۔
سیمینار میں منجملہ مقالہ نگاروں نے غیر مسلم ادباؤ شعرا کی ادبی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا ۔حقانی القاسمی نے کہا کہ جو لوگ اردو کو مذہب سے جوڑ کر کنٹرورسی پھیلاتے ہیں وہ صف اردو زبان کے ہی نہیں بلکہ پورے سماج کے دشمن ہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مقالہ نگار جب بھی غیر مسلم ادباء اور شعرا پر قلم اٹھائیں تو یہودی اور دیگر اقوام کے اردو ادیبوں کا بھی احاطہ کریں اسلئے کہ ہندوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور نسلوں سے وابسطہ افراد نے بھی اردو ادب میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ۔ پروفیسر توقیر احمد خان نے اپنے صدارتی خطاب میں پیش کئے گئے مقالات کے عیوب و محاسن پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دور حاضر میں اس طرح کے اور بھی پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پروپیکنڈہ کرنے والوں معلوم ہو کہ اردو ادب کی زلفیں سنوارنے میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو ادیبوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے !شاید یہی وجہ ہے کہ اردو تمام مذاہب کے درمیان یکساں طور پر مقبول ہے اور ہر کوئی اس کے مٹھاس کا اسیرہے ۔انہوں نے سیمینار کے آر گنائیزرس کوبھی مبارک باد پیش کی ۔تنظیم کی جانب سے تمام مقالہ نگاروں کو پروفیسر توقیر احمدکے ہاتھوں سرٹیفکیٹ دلوایا گیا ۔د یگر اہم شرکا میں عبد الباری (بی اے ، سکریٹری جنرل ایجوکیشن اینڈ سوشل کیئرفاونڈیشن ) محمد ثاقب ،ماسٹر مصلح الدین ،ایڈوکیٹ رخسار احمد ،ایڈوکیٹ ندیم الزماں وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں