47

غالب انسٹی ٹیوٹ کے پُروقار غالب انعامات کا اعلان

غالب انسٹی ٹیوٹ کی ایوارڈسب کمیٹی کی ایک میٹنگ۷؍نومبرکوایوانِ غالب میں ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین جسٹس آفتاب عالم کی صدارت میں ہوئی۔جسٹس آفتاب عالم کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ، ڈاکٹر اطہرفاروقی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرمیٹنگ میں موجود تھے۔
اس اہم موقع پر تمام ممبران نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے پُروقارغالب انعامات ۲۰۱۹ کے ۶؍اہم انعامات پر فیصلہ کیا۔

پروفیسرعلیم اللہ حالی

اردو کے ممتاز ناقد ودانشور،کئی اہم کتابوں کے مصنف اورشعبۂ اردو مگدھ یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسرعلیم اللہ حالی کو اُن کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے اردو تحقیق و تنقید سے سرفراز کیا جائے گا۔

پروفیسربلقیس حسینی

فارسی کی نامور اسکالر اوردہلی یونیورسٹی شعبہ فارسی کی سابق صدر پروفیسربلقیس حسینی کو فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید کے لئے منتخب کیا گیا۔

پروفیسرخالد محمو د

معروف نثر نگار اورجامعہ ملیہ اسلامیہ،شعبہ اردو کے سابق صدرِ شعبہ پروفیسرخالد محمودکا نام غالب ایوارڈ برائے اردو نثر کے لئے طے کیا گیا۔

پروفیسرشہپر رسول

عہدِ حاضرکے نامور شاعر اور بین الاقوامی شہرت کے حامل پروفیسرشہپر رسول کا نام غالب انعام برائے اردو شاعری کے لئے تجویز کیا گیا۔

مظفر علی

ہم سب غالب انعام برائے اردو ڈرامہ کے لئے مشہور ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور اپنی فلموں کے ذریعے عالمی سطح پر اردو زبان و ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے والے اہم فلم ساز مظفر علی کے نام پر اتفاق ہوا

ڈاکٹرنریش

اورمجموعی علمی خدمات کے لئے ممتاز دانشور اورچنڈی گڈھ ساہتیہ اکادمی کے سابق چیرمین ڈاکٹرنریش کے نام پرمیٹنگ میں بیٹھے تمام لوگوں نے اتفاق کیا۔یہ تمام ایوارڈ بین الاقوامی غالب تقریبات کے افتتاحی اجلاس میں ۲۰دسمبر۲۰۱۹ کو شام ساڑھے پانچ بجے سرٹیفیکٹ،مومنٹو اور ۷۵ہزار روپیہ نقدکے ساتھ ایوانِ غالب میں عطا کئے جائیں گے۔واضح ہو کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اپنے علمی و ادبی سفر کے ۵۰سال پورے کرچکاہے۔ ۱۹۶۹ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ موجودہ سال غالب انسٹی ٹیوٹ کی گولڈن جبلی کا سال ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی غالب انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ جلسہ اس دفعہ ۲۰،۲۱،۲۲؍دسمبر کو منعقد ہوگا۔ ۲۰ دسمبرکو افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی سمینار کا افتتاح،تقسیمِ انعامات اور شامِ غزل کا اہتمام کیا جارہاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں