56

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار کا اختتام

نئ دہلی(پریس ریلیز)غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار بعنوان ’دہلی کے آثار قدیمہ: ادبی وثقافتی وراثت‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔ دوسرے دن کے سمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ڈاکٹر ناصررضاخاں نے کی۔ اس اجلاس کا پہلا مقالہ ڈاکٹر حسین حیدر نے ”بی بی جلینا کی سرائے“ کے عنوان سے پیش کیا جس میں انہوں نے بی بی جلینا کی سرائے اور اس سے متعلق معلومات پیش کیں۔ دوسرا مقالہ جناب پرویز نذیرنے انیسویں صدی کے اردو اخبارات: دہلی کاایک ادبی و ثقافتی ورثہ“ کے عنوان سے پیش کیا۔آپ نے اپنے مقالے میں دہلی اخبارات کے ادبی و ثقافتی منظرنامے کا احاطہ بھی کیا۔سمینار کا تیسرا مقالہ پروفیسر عراق رضازیدی نے ”دہلی کے چند آثار قدیمہ اپنے کتبوں کے حوالے سے“ پیش کیا۔ آپ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کتبوں کا رواج محمد غوری کے حملے کے بعد شروع ہوا۔ اس سے قبل کتبوں کی باضابطہ روایت نہیں تھی۔ اس اجلاس کا چوتھا مقالہ طیبہ منورکاتھا۔طیبہ منور نے ”دہلی کی باؤلی“کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اپنے مقالے میں مقالہ نگار نے دہلی کی مختلف باولیوں کے صاف رکھنے اور تحفظات کے حوالے سے بھی چندنکات کااظہار کیا۔اس اجلاس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہئ تاریخ سے وابستہ اہم مؤرخ ڈاکٹر گلفشان خاں نے اپنے مقالہ میں دہلی کے آثار قدیمہ پرروشنی ڈالی۔ اس اجلاس کی آخری مقالہ نگار رعنا صفوی نے سرسید کی اہم تصنیف آثار الصنادید کی روشنی میں قلعہ مبارک (لال قلعے) کے اندر سے انگریزوں کے ذریعے تبدیل کئے گئے مغلوں کے دور کے محلّات، فواروں اور دیگر عمارتوں و آثارقدیمہ پر روشنی ڈالی۔سمینار کے دوسرے دن کے تیسرے اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر نارائنی گپتا نے دہلی کی عمارتوں کی تاریخی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے دہلی اور اس کے مضافات کے شہروں کے عروج و احتشام کے ساتھ ساتھ اس کے زوال کوبھی موضوع بحث بنایا۔اس اجلاس کی دوسری مقالہ نگارپروفیسر نشاط منظر نے دہلی کے آثار کی اہم ترین کتاب ”واقعات دارالحکومت دہلی“ پر گفتگو کی۔ پروفیسر ایس۔ایم۔ اختر نے تغلق آباد اور محمد بن تغلق کی حکومت کے دوران ہونے والی بازیافت کااحوال اپنے مقالے میں پیش کیا۔اسی اجلاس میں ڈاکٹر ناصر رضاخاں نے اپنے مقالے میں عبدالرحیم خان خاناں کے مقبرے اور اس دور کی تاریخی و ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالی۔اس اجلاس کی چوتھی مقالہ نگارڈاکٹر میناکشی کھنّہ نے بھی موضوع کے تعلق سے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ اس اجلاس کے صدارتی کلمات میں پروفیسر عزیزالدین حسین ہمدانی نے تمام مقالہ نگاروں کی پذیرائی کرتے ہوئے کہاکہ تمام مقالے نہایت ہی محنت اور تحقیق کے ساتھ لکھے گئے ہیں اور اس اجلاس کی خوبی یہ تھی کہ اس میں کئی اہم سوالات بھی قائم کیے گئے۔اس سمینار کے آخری اجلاس میں پردیپ شرماخسرو نے امیر خسرو کی تحریروں میں دہلی کے جن آثار کے تذکرے ہیں اُن کا احاطہ کیا۔ اجلاس کی دوسری مقالہ نگار شائستہ پروین نے دہلی کے آثار قدیمہ کے حوالے سے ظفر حسن کی لکھی ہوئی کتاب کا بھرپور جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر مظفرحسن سید نے ”آثار النصادید“ کے حوالے سے کہا کہ سرسیدکی یہ کتاب دہلی کی ادبی،تہذیبی،ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے تعلق سے لکھی ہوئی ایسی کتاب ہے جو ہماری تاریخ میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس اجلاس میں شعبہ تاریخ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر،فرحت نسرین نے بھی اپنے خیالات کااظہارکیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدارتی کلمات میں پروفیسرنشاط منظرنے تمام مقالہ نگاروں کے مقالوں پراپنی رائے پیش کی اور اس سمینار کی اہمیت و افادیت اور غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔سمینارکے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ ہمیں بے انتہاخوشی ہورہی ہے کہ آج ہم نے ایسے موضوع پر سمینار کا انعقاد کیاجس پربہت کم گفتگو ہوتی ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ سمینار میں پڑھے گئے تمام مقالات جب کتابی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گے تو ہمیں دہلی کے آثار قدیمہ کوسمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔رضالائبریری رامپورکے سابق ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین ہمدانی نے بھی اپنے اختتامی کلمات میں اس سمینارکے انعقاد پر غالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ غالب کی ایک سو پچاسویں برسی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کی گولڈن جبلی تقریبات کے موقع پر یہ سمینار یقینا غالب انسٹی ٹیوٹ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا۔اور جب بھی غالب انسٹی ٹیوٹ تاریخ لکھی جائے گی اس میں اس سمینار کوہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ تمام مہمانوں اورمقالہ نگاروں کاشکریہ ادا کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹر سید رضاحیدر نے فرمایاکہ اس سمینار کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ ہم نے دہلی کے آثارِ قدیمہ میں ادبی اور ثقافتی رشتوں کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی، سمینار میں بڑی تعداد میں مختلف یونیورسٹیوں کے تاریخ کے طالب علم، ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں