97

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار کا افتتاح


نئی دہلی (پریس ریلیز)غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار بعنوان ’دہلی کے آثار قدیمہ: ادبی و تاریخی وراثت‘ کے پہلے دن ملک کے مشہور ومعروف دانشوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سمینار کا افتتاحی اجلاس صبح ساڑھے دس بجے ایوان غالب میں منعقد ہوا۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف مورخ پروفیسر عزیز الدین حسین ہمدانی نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے سمینار کے لیے اس اہم ترین موضوع کا انتخاب کیا۔ بہادر شاہ ظفر نے غالب کو مغلیہ تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا ۷۵۸۱ کے معرکے کے سبب تاریخ تو مکمل نہ ہوسکی لیکن اس کی وجہ سے غالب کی شخصیت مورخ کی حیثیت سے بھی قائم ہوتی ہے لہٰذا غالب انسٹی ٹیوٹ میں تاریخ کے موضوع پر سمینار ہونا باعث تعجب نہیں۔ ادب کا تاریخ سے گہرا رشتہ ہوتا ہے لیکن جب میں نے دہلی کے آثار قدیمہ کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ بہت سی تاریخی عمارتیں جن کا ذکر آثار الصنادید میں ہے اب موجود نہیں۔ قدیم عمارتیں ہمارے تاریخی اور تہذیبی سفر کی دستاویز ہیں ان کے بغیر ہم اگلی نسل کو ان کی تاریخ کس طرح سمجھا سکیں گے یہ ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ممتاز مورخ پروفیسر ہربنس مکھیا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ غالب صرف ایک شاعر نہیں وہ ایک مورخ بھی ہیں ابوالفضل نے تاریخ کی تعریف میں کہا تھا کہ یہ حقائق کا معروضی بیان ہے لیکن حال ہی میں ایک نیا تصور سامنے آیا ہے کہ ادب تاریخ کا ماخذ نہیں بلکہ بذات خود تاریخ ہے۔ بھکتی تحریک کا لب لباب ادب بھی ہے تہذیب بھی اور تاریخ بھی۔ بھکتی تحریک عہد وسطیٰ کی تاریخ بھی ہے۔ تاریخی حقائق اگر غلط بھی ہوں تو ان میں ایک پیغام نہاں ہوتا ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میں نے ابتدائے عمر میں ایسا مورخ بننے کی کوشش کی تھی جو حقائق کا معروضی مطالعہ پیش کرے لیکن آخر عمر میں یہ احساس زیادہ گہرا ہو گیا ہے کہ معروضی حقیقت کے علاوہ ایک پوشیدہ پیغام بھی وجود رکھتا ہے جس کو دریافت کرنا زیادہ اہم اور مشکل ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ جب ہم غالب سے متعلق سمینار کرتے تھے تو لوگ ہم سے پوچھتے تھے کہ غالب کے تعلق سے اتنا لکھا جا چکا ہے کہ اب آپ نیا کیا پیش کر سکیں گے؟ تو ہم جواب دیتے تھے کہ غالب صرف اپنی ذات تک محدود نہیں وہ دہلی اور ہندستان کی ثقافت بھی ہے لیکن وہ ثقافت در اصل ہے کیا اس پہ ہم نے بہت کم گفتگو کی ہے مجھے خوشی ہے آج ایسا موقع آیا کہ ہم تاریخ و ثقافت سے متعلق اہم گوشوں پر نئے سرے سے گفتگو کرنے کے لیے جمع ہیں۔ غالب کے عہد میں ہی ’آثارالصنادید‘ لکھی گئی لیکن وقت کے ساتھ بہت سے نقش و نگار دھندلے ہو گئے ہیں مجھے امید ہے کہ اس سمینار سے یہ نقوش زیادہ روشن ہوں گے۔ معروف مورخ پروفیسر نارائنی گپتا نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی تاریخی عمارتوں میں دلچسپی تھی چنانچہ میں نے چار برس کی عمر میں دہلی کو قطب مینار کے اوپر سے دیکھا تھا۔ دہلی کی تاریخی عمارات خوشحالی اور بد حالی دونوں صورتوں میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔ تاریخ کی بہت سی غلطیاں ان عمارتوں کی بناوٹ اور ان پر لگے کتبوں کو بغور دیکھنے سے دور ہو سکتی ہیں۔ شعبہئ تاریخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر اور معروف تاریخ داں پروفیسر ایس۔ ایے۔ این۔ رضاوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آثار الصنادید قدیم عمارتوں کے متعلق ایک دستاویزی حیثیت کی حامل ہے یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ تاریخی عمارتوں کی زبوں حالی ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں بہت سی تاریخی عمارتوں کا ذکر تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے لیکن جب ہم انھیں تلاش کرتے ہیں تو مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم بے نشان عمارتوں کا سراغ تلاش کریں اور زبوں حال عمارتوں کے حالات بہتر کرنے کی کوشش کریں کیوں کہ ایسے ادارے عوامی بیداری میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عوامی بیداری سے ہی ان حالات کا سامنا ممکن ہے۔ تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضا حیدر نے کہاغالب انسٹی ٹیوٹ نے اپنے قیام کے روز سے آج تک علم و ادب کی جو خدمت کی ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے علمی دائرے کو مزید وسعت دیں چنانچہ گذشتہ چند برسوں میں ہم نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو روایتی موضوعات سے خاصے مختلف تھے آج کا سمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تخصیص کے اس دور میں ہمارا رشتہ چند ایسے موضوعات سے منقطع ہو گیا ہے جن کے بغیر ادب کا کوئی تصور قائم نہیں ہو سکتا تاریخ بھی ایسا ہی موضوع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس موضوع کے تعلق سے گفتگوکرنے کے لیے وہ ہستیاں جمع ہیں جن کی ہر بات اس موضوع کے تعلق سے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ ظہرانے کے بعد پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں پروفیسر ایس۔ اے۔ این۔ رضاوی نے’ہمایوں کے مقبرے کے تاریخی اور ثقافتی محرکات‘ ڈاکٹر سوپنا لیڈل نے ’دہلی کے آثار قدیمہ کے تحفظات کے مسائل‘، جناب انل نوریہ نے ’ثقافتی وراثت کے آثار قدیمہ: چند امکانات و لوازمات، محترمہ عمیمہ فاروقی نے ’شاہجہاں آباد کے آثار قدیمہ،‘ ڈاکٹر فیضان احمد نے ’دلی کی مساجد‘، ڈاکٹر علاؤالدین نے ’سیر المنازل ایک مطالعہ‘، کے عنوان سے مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر نارائنی گپتا نے کہا کہ اس اجلاس میں جو مقالات پیش کیے گئے وہ نہایت معلومات افزا تھے ہم نے نے اکثر تاریخ کو صرف ایک موضوع کی حیثیت سے پڑھا ہے لیکن آج خوش گوار موقع ہے کہ ہم ادب اور تاریخ کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر کن حیثیتوں سے اثر انداز ہوتے ہیں یہ دیکھنا بھی ایک خوش گوار تجربہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سمینار سے ادب اور تاریخ کے آزاد مطالعہ کرنے والوں کو ایک خوش گوار تجربے کا احساس ہوا ہوگا ساتھ ہی غالب انسٹی ٹیوٹ مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے سمینار کے لیے اس اہم ترین موضوع کا انتخاب کیا۔ اس موقع پر ادبی،سماجی اور سیاسی حلقوں کی کئی نامور ہستیاں اور ریسرچ سکالرس بڑی تعداد میں موجود تھے۔سمینار کے اگلے اجلاس ۲ مئی کو صبح دس بجے سے شروع ہوں گے۔ جس میں دہلی و بیرونِ دہلی کے اہم مؤرخین موضوع کے تعلق سے اپنے خیالات کااظہار کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں