66

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام،شام شہر یاراں میں سید شاہ نوازاحمد قادری اور کرشن کلکی کی کتاب پر مذاکرہ

ہندستان کی آزادی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے : سنجے سنگھ

غالب انسٹی ٹیوٹ میں شام شہر یاراں کے زیر عنوان شاہ نواز احمد قادری اور کرشن کلکی کی کتاب ’لہو بھی بولتا ہے‘ پر مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر راجیہ سبھا ممبر جناب سنجے سنگھ نے زور دے کر کہا کہ آج تاریخ کو عجیب و غریب انداز سے پیش کیا جا رہا ہے اور اس خیال کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں نے جنگ آزادی میں کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا لہٰذا یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حقائق کو دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ہندستان کی آزادی کسی ایک قوم یا ذات کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ سبھی کے خون کی لالی اس کے ترنگے میں شامل ہے۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ میں بارہا ایسے جلسوں میں شریک ہوا ہوں لیکن جیسی تازگی اور حوصلہ مندی مجھے آج کے جلسے میں محسوس ہو رہی ہے بہت عرصے سے ذہن و دل اسے تلاش کر رہا تھا۔ ۱۸۵۷ پر بہت سارا لٹریچر شائع ہو چکا ہے لیکن بعض پہلو ہمیشہ تشنہ ہی رہے جن کے اوپر خاطر خواہ مواد سامنے نہیں آیا اس میں ہماری کوتاہیوں کو بھی دخل ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ شاہ نواز احمد قادری اور کرشن کلکی نے اس پہلو کو موضوع بنایا جس پر مواد نا کے برابر ہے۔ ڈاکٹر آنند کمار نے کہا کہ آج ہم جس جلسے میں موجود ہیں یہ سچ میں یقین رکھنے والوں کا مجمع ہے۔ شاہ نواز احمد قادری سے میرے پرانے مراسم ہیں میں نے ان کو ہر کام دل سے اور لگن سے کرتے دیکھا ہے لیکن میں نے ان کو قلم کا سپاہی کبھی نہیں سمجھالہٰذا جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو مجھے اس کتاب کے سلسلے میںشک تھا، لیکن جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو دو تین دن تک اس کے اثر سے باہر نہیں آسکا۔ہماری تاریخوں میں ۱۹۰۵ سے لے کر آزادی تک کا ذکر کافی ہوتا ہے لیکن ۱۸۵۷ سے لے کے ۱۹۰۵ کے درمیانی عرصے پر گفتگو نہیں ہوتی۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ اس درمیانی وقفے پر بھی بات کرتی ہے اور وہ ہماری تاریخ آزادی کا اہم ترین وقفہ ہے۔ اس پہلو کے سامنے نہ آنے کی وجہ سے مسلم قوم کی بہت سی قربانیاں تاریخ میں گم ہو گئیں۔ راج کمار جین نے کہا کہ میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور جنگ آزادی میرے خصوصی مطالعے کا حصہ ہے اس کے باوجود جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ کہاں ہے آزادی کی اصلی تاریخ؟ ہم نے تو تاریخ آزادی کے بار بار دہرائے جانے والے پہلووں پر ہی زیادہ بات کی ہے لیکن جن پہلووں پر کسی نے بات نہیں کی یہ کتاب ان پہلووں کو سامنے لاتی ہے۔ تاریخ کو دبایا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر بدلا نہیں جا سکتا۔ اس کو جتنا دبایا جائے گا وہ اتنی ہی طاقت کے ساتھ ابھرتی ہے۔ عورتوں کے بارے میں ہمارا تصور ہے کہ وہ تو پردہ نشین ہیں ان کا جہد آزادی میں کوئی کردار نہیں لیکن شاہ نواز قادری نے اس کتاب میں ۴۱ خواتین کا ذکر کیا ہے جنھوں نے آزادی کے لیے انپی جان کی بازی لگا دی۔ اس کتاب کی تصنیف میں قادری صاحب نے ملک کی تمام اہم لائبریریوں سے استفادہ کیا۔اس موقع پر کتاب کے مصنف شاہ نواز قادری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بے انتہا خوشی ہورہی ہے کہ علمی حلقوں میں اس کتاب کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر رضا حیدر نے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’شام شہر یاراں‘غالب انسٹی ٹیوٹ کی اہم ترین سر گرمی ہے اس کے ذریعے اردو میں علوم و فنون کے متعلق نئی مطبوعات سے ہم متعارف ہوتے ہیں۔ آج ہم لوگ نہایت اہم کتاب پر مذاکرے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اس کو ہماری تن آسانی ہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے ۱۹۴۷ کو تو یاد رکھا لیکن ۱۸۵۷ کو فراموش کر دیا۔ یہ کتاب اہم ترین دستاویز ہی نہیں وقت کی ضرورت بھی ہے۔ جس دور میں ہم لوگ رہ رہے ہیں اس میں کٹ پیسٹ نے بعض مصنفین کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں لیکن اس کتاب نے تلاش و تحقیق کی جو مثال قائم کی ہے وہ علمی کام کرنے والوں کے لیے نمونہ ہے اور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم اس پر وقار جلسے کے گواہ بن رہے ہیں۔ ایم۔ جے۔ خالد نے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے عہد کا المیہ ہے کہ جس شخص کو موضوع سے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا وہ گفتگو میںسب سے زیادحصہ لیتا ہے۔ نفاست کا تصور ہماری تہذیب سے غائب ہوتا جا رہا ہے ہمیں چیخ کے بات کرنے کی عادت پڑ چکی ہے کیونکہ اس طرح ہم آسانی سے زیادہ لوگوں کو متوجہ کر سکتے ہیں۔ لیکن شاہ نواز قادری اور کرشن کلکی کی یہ کتاب بتاتی ہے کہ آج بھی سنجیدگی اور خاموشی سے کام کرنے والے افراد کم سہی لیکن موجود ہیں۔ اس موقعے پر ادب، سیاست، سماج تاریخ اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین کے علاوہ سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تصویر میں: کرشن کلکی،پروفیسر راجکمار جین،سنجے سنگھ،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،ڈاکٹر آنند کمار، سید شاہ نواز قادری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں