63

عید الفطر کے روز ہم اللہ کے مہمان ہوتے ہیں


مسعود جاوید

کل رات یعنی ستائیس کی شب 20 رکعت والوں کی اور 8 رکعت والوں کی بهی قران مکمل ہوا. اس پورے ستائیس دن و رات میں روزہ داروں کا ماه صیام کا خاص اہتمام اور تقریباً جز وقتی طور پر دن بهر اس ماہ مبارک کے ایک ایک پل سے مستفیض ہونے کا شغف بلاشبہ قابل ستائش ہے. قیام اللیل تراویح کے لئے اس شدید گرمی میں مصلیوں کا مسجد میں پانی کی ٹهنڈی بوتلوں کے ساتھ آنا فجر ظہر عصر اور مغرب میں نمازیوں کا وقت سے قبل مسجد پہنچنا اور وہ بھی اتنی تعداد میں کہ جن مساجد میں دو تین صفیں لگتی تھیں وہاں اوپر نیچے فل دیر سے آنے والے دروازے سے باہر انتظار کریں . کیا پڑها کیا ان پڑھ کیا امیر یا تنگدست کیا ملازم کیا تاجر کیا بچے کیا بڑے اور بوڑهے ہر شخص کا دل مسجد کی طرف اٹکا ہوا ہے یر شخص کے منہ سوکهے ہوئے لیکن زبان ذکرِ الہی سے تر ہے..ہر طرف ایسی ہی کیفیت ہے . یہی تو بات ہے جو اللہ کو اس قدر پسند ہے کہ اس نے کہا روزہ داروں کا اجر میں خود اپنے ہاتھوں سے دوں گا. ذرا تصور کریں کسی کمپنی کا جہاں سینکڑوں ملازمین اپنی اپنی تنخواہ کیشیر سے یا محاسب سے مہینے کے آخر میں لیتے ہیں یا ان کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجاتا ہے لیکن اگر کمپنی کا چیئرمین کہے کہ فلاں اور فلاں کو میں خود اپنے ہاتھوں سے تنخواہ دوں گا اس وقت ایسے مقرب ملازمین کیسا محسوس کریں گے اور کس قدر فخر سے ان کا سر اونچا ہوجائے گا.
اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہر مسلمان عاقل بالغ تندرست مقیم (عاقل یعنی ذہنی طور پر غیر متوازن نہیں بالغ یعنی بچے نہیں تندرست یعنی بیمار نہیں اور مقیم یعنی مسافر نہیں) رمضان میں بلا ناغہ پورے مہینے روزے رکهتا ہے. یہ روزے امت محمدیہ سے پہلے کی امتوں پر بهی فرض تها جیسا کہ قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ..
جب امت مسلمہ کا ہر فرد روزے رکهتا ہے ایمانا و احتسابا تو اسے یہ امید بهی رہتی ہے کہ اس کے لئے وہ انعام و اکرام سے نوازا جائے گا. عید الفطر اسی انعام کی ایک شکل ہے اس دن ہر مسلمان اللہ کا مہمان ہوتا ہے اسی لئے تقوی اور فنا فی اللہ کے اعلی درجے کا بزرگ ہو یا عام آدمی اس کے لئے عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے اس لئے کہ اس دن روزہ رکهنا اللہ کی مہمان نوازی کو ٹھکرانے کے مترادف ہے. انکار نعمت و اکرام کی مانند ہے. اللہ نے اس دن جو سب سے اچهے کپڑے میسر ہو اسے پہننے اور اچهے کهانے کا حکم دیا ہے. ہہ دنیا دارالاسباب ہے اللہ کی طرف سے مہمان نوازی کا کام بهی ہم میں سے جو میسور ہیں ان کو سونپا گیا ہے. کسوة العید یعنی عیدی جوڑے نئے لباس اور صدقہ الفطر کا مقصد یہی ہے کہ جو تنگدست ہیں وہ بهی آج کے دن اچها پسندیدہ کهانا کهائے . اسی لئے صدقہ فطر عید سے تین روز قبل دینا درست نہیں ہے. اس لئے صدقہ فطر عید کے دن نماز سے قبل دے کر عید کے کهانے کا انتظام کرانا مقصد ہے. اسی لئے عید الفطر کی نماز تاخیر سے ادا کی جاتی ہے تاکہ اس روز پہلے مستحقین تک رقم یا اشیاء پہنچ جائے اس کے بعد نماز کے لئے عیدگاہ جایا جائے-
پچهلے دس دنوں سے کپڑوں کی دکانوں پر شو روم ، مال اور پلازہ میں خریداروں کا تانتا بندھا رہا ااسی طرح جوتے چپل اور عید کے لئے خاص اشیاء خوردنی و مصالحہ جات کی دکانوں میں بهیڑ دیکها تو ذہن میں ایک عجیب سا سوال کروٹ لینے لگا اور اس پر کچھ لکهنا چاہا مگر اس تذبذب میں رہا کہ کہیں کسی کی دل شکنی نہ ہوجائے یا اپنے اندر احساس تعلی نہ پیدا ہوجائے. وہ سوال یہ ہے کہ جو لوگ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہیں رکهتے تراویح اور تلاوت قرآن کا اہتمام نہیں کرتے اور اتنے پر ہی بس نہیں غیر مسلموں کی محفل میں بیٹھ کر اپنے آپ کو لبرل اور ” سیکولر ” ثابت کرنے کے روزے کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ‘ ہمیں بهوکا پیاسا رکھ کر اللہ کو کیا مل جائے گا’ (نعوذ باللہ) تو اس قبیل کے لوگ بهی تو نئے جوڑے خریدتے ہوں گے جسے زیب تن کر کے عیدگاہ جاتے ہوں گے عید کی خوشیاں مناتے ہوں گے ؟ ان کو ایسا نہیں محسوس ہوتا ہوگا کہ جب مزدوری کی ہی نہیں تو اجرت کیسی ! انعام و اکرام کیسا اور اللہ کی خاص ضیافت میں شرکت کس منہ سے کروں ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں