140

عید الفطر اور او،آئی، سی کانفرنس کا انجام

حسان جامی قاسمی

پوری ملت اسلامیہ کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکبادـ
عید کا یہ مبارک مو قع یقیناً پوری ملت اسلامیہ کیلئے خوشیوں کی نوید لیکر آتا ہے، لیکن اس عید سے پہلے خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جس سے ان لوگوں کو زبردست دھچکا لگاہے جو اس بات کے شدید خواہش مند ہیں کے پوری امت خصوصاً عرب ممالک صحت مند بنیادوں پر آپس میں ایک مضبوط اتحاد پیدا کریں ـ وہ خبر یہ ہے کہ قطر نے حال ہی میں مکة المكرمة میں ختم ہونے والی او، آئی، سی، کانفرنس کے ایران مخالف اعلامیہ کو یہ کہہ کر خارج کر دیا ہے کہ یہ اعلامیہ پہلے سے ہی تیار شدہ تھا، اس سلسلے میں دوحہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا اور یہ اعلامیہ دوحہ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہے. اور قطر نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ کچھ اور رکن ممالک مثلاً عراق، بھی اس اعلامیہ سے متفق نہیں ہیں.
عرب ممالک کے موجودہ حالات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قطر کا یہ اعلان کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ایسی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کی عربوں کو آپس میں لڑانے اور خطہ میں شیعوں اور سنیوں کے مابین ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کا سبب بن سکتا ہے تاکہ اسکی آڑ میں عظیم اسرائیل کے قیام کے منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے راہ ہموار کی جاسکے. ویسے اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ایران پر حملہ کی امریکی دھمکی دراصل ایک گیدڑ بھپکی سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ ایران اس خطہ میں امریکہ کا وہ مہرہ ہے جسے وہ ہمیشہ عربوں کو ڈرانے اور ان سے بے تحاشا پیسہ کمانے کیلئے استعمال کرتا ہےـ مشرق وسطٰی میں حالیہ دنوں میں امریکی طاقت میں اضافہ کا سبب چند ہفتوں بعد بحرین میں منعقد ہونے والی وہ کانفرنس ہو سکتی ہے جسمیں فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے ایک نام نہاد ڈیل ہونے کا امکان ہے جس ڈیل کو “صدی کی ڈیل”
“Deal of the Century”
کا نام دیا گیا ہے (اور اس ڈیل کو پہلے ہی فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے مسترد کیا جاچکاہے) تاکہ اگر اس کے نتیجے میں حالات خراب ہوں تو اس پر طاقت کے ذریعہ قابو پایا جا سکے اور اسرائیل کی حفاظت کی جاسکےـ
حال ہی میں مکہ میں ہونے والی ہنگامی کانفرنس دراصل بہت سارے اہم مسائل سے توجہ ہٹاکر ایران کے خلاف عربوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ایک سعودی کوشش تھی، جو اب ناکام ہوتی نظر آرہی ہے. مزید یہ کہ اس کانفرنس میں کویتی امیر کی شاہ سلمان اور قطری وزیراعظم کو ملانے کی انفرادی کوشش کے باوجود دونوں سربراہان کی بے رخی اور ترکی صدر کی عدم شرکت اس بات کا واضح پیغام ہے کہ رکن ممالک کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہےـ
عید سعید کے اس مبارک موقع پر یقیناً پوری ملت اسلامیہ اس بات کیلئے دعا گو ہے کہ اللہ رب العزت والجلال پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرمائے اور بدخواہوں کے مکرو فریب کو سمجھنے اور اسکے مقابلے کیلئے ایک جامع اور منصوبند حکمت عملی تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں