151

عہد تمیمی:حقاہم اِک دن جیتیں گے!

نایاب حسن
اپنی بیٹی عہد تمیمی کے ساتھ آٹھ ماہ اسرائیلی جیل میں گزار کر آزاد ہونے والی ناریمان تمیمی اپنی اسارت کے تجربے کو مختصراًیوں بیان کرتی ہیں’’مجھے عہدکی اس تصویر پر کوئی ندامت نہیں ہے،جس میں وہ میرے گھر پر حملہ آورہونے والے اسرائیلیوں کا مقابلہ کررہی ہے…اور میں اپنے گھر یا گاؤں پر ہونے والے کسی بھی ظلم کادستاویزی ویڈیو بناؤں گی‘‘۔ان کا کہناہے کہ انھیں سزااس لیے ہوئی کہ انھوں نے اسرائیلی تسلط کی حقیقت کو ریکارڈکرکے دنیاکے سامنے دکھادیاتھا۔

اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال دسمبر کی19؍تاریخ کوعہد تمیمی کو مغربی رام اللہ کے گاؤں نبی صالح سے گرفتار کیاتھا،اس پر یہ الزام لگایاتھا کہ اس نے دواسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیااور ایک کومکابھی رسید کیا،پھراس کی والدہ نے ایک ویڈیوبھی نشر کردیا،جس میں وہ اسرائیلی فوجیوں کو اپنے گھر میں گھسنے سے روک رہی تھی۔سترہ سالہ عہدکاکہناہے کہ اس ویڈیوکے عام ہونے کے بعد اسرائیلی فوجی اس کے گھر والوں کوقید میں ڈالنے کی دھمکیاں دیتے ،انھیں ڈراتے ؛ چنانچہ وہ اپنی تعلیم پر دھیان دینے کی بجاے روزانہ رات کواپنی گرفتاری کا انتظار کرنے لگی،حتی کہ اسے گرفتار کرلیاگیا۔

قید سے رہائی کے بعد سیکڑوں لوگ اس کے استقبال کو گئے،اس وقت لوگوں سے بات کرتے ہوئے اس نے جیل کے اپنے بعض تجربات شیئر کیے، اس نے کہاکہ چوں کہ میں نے گاؤں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج میں شرکت کی تھی؛اس لیے مجھے تفتیش کا نشانہ بنایاگیا،اس نے بتایاکہ اسرائیلی فوجیوں نے اسے زبانی طورپر ہراساں کیا،وہ کہتے تھے کہ’’تمھارابال بہت خوب صورت ہے،تمھاری آنکھیں بڑی خوب صورت ہیں،جب تم سمندرمیں اترتی ہوگی، توتمھاراسراپابالکل سرخ نظرآتاہوگا ‘‘۔
عہدتمیمی پر12؍الزامات لگائے گئے تھے،ان میں سے ایک یہ بھی تھاکہ اس نے لوگوں کواسرائیل اور اسرائیلی افواج کے خلاف بھڑکایا اور ایک فوجی کوماراتھا،اس پر پتھر برسائے تھے۔عہدتمیمی کا کہناہے کہ اسرائیلی فوج کو مارنے یا اسے گھر سے بھگانے کی وجہ سے اسے گرفتار نہیں کیاگیا؛بلکہ اس کی ویڈیوبناکروسیع پیمانے پر پھیلانے کی وجہ سے اسرائیلی فوج اور حکومت کو زیادہ پریشانی ہوئی،حالاں کہ حقیقت تو اس سے بھی زیادہ ہے، جس سے وہ لوگ ڈرتے ہیں۔عہدتمیمی کوجب گرفتار کیاگیا اور تفتیش کے لیے جنوبی رام اللہ میں واقع تحقیقاتی سینٹر لے جایاگیا،توکچھ دیر بعد اس کی والدہ بھی اپنی بیٹی کی خبر گیری کے لیے وہاں پہنچ گئیں،مگر اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف عہد تمیمی کی والدہ کو ان کی بیٹی سے نہیں ملنے دیا؛بلکہ انھیں بھی گرفتار کرلیا۔ناریمان تمیمی کہتی ہیں’’میری بیٹی کے لیے سب سے مشکل لمحہ وہ تھا،جب اس نے مجھے قید کی حالت میں دیکھا،وہ دیکھتے ہی صدمے کاشکارہوگئی اور چیخنے لگی’’انھوں نے آپ کوبھی گرفتار کرلیا؟‘‘ اسرائیلی فوجیوں نے ہمیں ملنے نہیں دیا‘‘۔پھر اسی رات دونوں ماں بیٹی کو شمالی اسرائیل میں واقع خواتین کی جیل بھیج دیاگیا، جاتے ہوئے بس میں بھی ماں بیٹی کو بات چیت کی اجازت نہیں دی گئی۔ان دونوں کی گرفتاری سے قبل ہی ان کے خاندان کے ایک بچے کو اسرائیلی گولی نے شدید طورپر زخمی کردیاتھا،اس کا زخم نہایت گہرا تھا،عہدتمیمی کہتی ہے کہ’’ہم سب اس کی زندگی و موت کے اندیشے میں گھرے ہوئے تھے‘‘، پھر جلد ہی اس سے بھی زیادہ غمناک خبر ملی،اس کے بڑے بھائی وعدتمیمی کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کرلیا،جبکہ چچازادبھائی عزالدین تمیمی اسرائیلی گولی کی زد میں آکر شہید ہوگیا۔عہد تمیمی نے دورانِ قید ایک کنگن تیار کیااوراس پراپنے بھائی کانام نقش کرکے اسے پہنتی اوربھائی کویادکرتی تھی۔اس کا بھائی ایک بیس سالہ نوجوان ہے،جسے اس گاؤں کے دیگر کئی نوجوانوں کے ساتھ گرفتار کیاگیااور ان کے خلاف مقدمے چلائے جارہے ہیں۔
عہدتمیمی کو احساس ہے کہ اس کی گرفتاری و بہادری کے واقعے کو عالمی میڈیامیں غیر معمولی کوریج حاصل ہوئی اور اسرائیلی حکومت نے اسے جو آزادی دی ہے، اس میں کچھ نہ کچھ اس کابھی دخل ہے،مگروہ چاہتی ہے کہ اس موقع کوایک سیاسی سمبل بننے کی بجاے اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینیوں کے دکھ اور پریشانیوں سے دنیا کو آگاہ کرانے کے لیے استعمال کرے،خاص طورپر اسرائیلی جیلوں میں جو کم عمرفلسطینی لڑکے لڑکیاں ہیں ،ان کی پریشانیوں کووہ دنیاکے سامنے اجاگرکرنا چاہتی ہے،اس کا سکنڈری اسکول کا ریزلٹ ابھی نہیں آیاہے،امتحان اس نے جیل میں رہتے ہوئے ہی دیاتھا،عہدتمیمی کا خواب یہ ہے کہ وہ پسِ دیوارِزنداں مصائب جھیل رہے فلسطینیوں کے لیے رہائی وخلاصی کی سفیر بنے ،جس کے لیے وہ قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرناچاہتی ہے،وہ چاہتی ہے کہ قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے ملک کا مقدمہ پوری قوت سے عالمی عدالتوں میں لڑے اور ارضِ قدس سے اسرائیلی تسلط کا خاتمہ کرے!
ویسے عہد تمیمی کو اس دھمکی کے ساتھ جیل سے خلاصی دی گئی ہے کہ اگراس نے اسرائیلی حکومت کے خلاف کسی سرگرمی میں حصہ لیا،تومزید تین ماہ کے لیے قید کیاجاسکتاہے،مگر اس لڑکی نے جیل سے نکلتے ہی اس کے دروازے پر شدت سے دھکادے کر اپنے ارادے واضح کردیے کہ وہ اسرائیلی جیل سے ڈرتی نہیں ہے اور اپنے احتجاج و مزاحمت سے بازنہیں آنے والی ہے ۔اس کی والدہ ناریمان تمیمی کواپنی بیٹی کے اسرائیلی فوجی سے بھڑجانے والی تصویر پر کوئی ندامت نہیں ہے،ان کا کہناہے’’جب بھی مجھے اپنے کسی بچے یا رشتے دارپر اسرائیلی غاصبوں کے ظلم کی خبر ملے گی،میں ان کی درندگی کو بے نقاب کروں گی‘‘۔ ان کا خیال ہے کہ اسرائیل کے جرائم کی تصویریں بنانا، انھیں محفوظ رکھنااور جدید وسائلِ مواصلات کے ذریعے پھیلانا ضروری ہے؛تاکہ اسرائیلی تسلط و مظالم کی حقیقت دنیاکے سامنے آئے اور علمبردارانِ عدل وانصاف کواپنی چپیاں توڑنی پڑیں،انھوں نے اپنے گاؤں کے بچوں کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ جس کے پاس بھی موبائل فون ہے،وہ اسرائیلی مظالم کوبلا خوف و خطر ضرور ریکارڈ کرے۔قابل ذکرہے کہ عہدتمیمی کی بے مثال جرأت و بسالت اس کے اہل خانہ کی مشترکہ میراث ہے،اس کے والد نوباراوراس کی والدہ اب تک اسرائیل کی جانب سے اب تک پانچ بارباقاعدہ زنداں رسید کی جاچکی ہیں ،ایک سے زائد بار انھیں گولیاں بھی لگی ہیں،اس کا بڑااور چھوٹابھائی بھی اسرائیل کے خلاف احتجاجات میں شرکت کی وجہ سے ایک سے زائد بار جیل رسید ہوچکے ہیں،اب بھی یہ دونوں ماں بیٹی اسرائیلی جیل سے اس عہد کے ساتھ نکلی ہیں کہ جب تک فلسطین پر اسرائیل کاناجائز قبضہ باقی ہے،تب تک ان کا جہدوجہاد جاری رہے گا،کوئی سی طاقت ان کے اس جذبے کوسردنہیں کرسکتی ۔
ویسے یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے،رام اللہ کے اس گاؤں کا تقریباً ہر بچہ،نوجوان اور بوڑھااسرائیلی جیلوں سے گزرچکاہے اوراس کا سلسلہ جاری ہے، اسی طرح عہد تمیمی جیسے اور بھی بچے اور بچیاں ہیں،جو اسرائیلی جبر کی علامتوں پر مکے رسید کرتے ہوئے اپنی آزادی اور جذبۂ آزادی کو بیداروشرربار رکھے ہوئے ہیں ، سترہ سالہ لڑکی کی فکری اڑان اور ذہنی براقی کودیکھ کر عام ذہنوں کوحیرانی ہوتی ہے ،اس نے جیل سے رہائی کے بعد میڈیا کوخطاب کرتے ہوئے فلسطین کے تئیں رائج عالمی تصور کی تردیدکرتے ہوئے کہاکہ ’’میں حصولِ آزادی کے لیے لڑررہی ہوں؛لہذامیں نہ مجبورہوں اور نہ متاثرہ ہوں، متاثرین تو اسرائیلی فوجی ہیں،جن کا برین واش کرکے ناجائز سرگرمیوں میں استعمال کیاجارہاہے‘‘۔اس کاکہناہے کہ’’ہمیں اپنے نبی محمدﷺکی زوجۂ مطہرہ حضرت خدیجہؓجیسی مضبوط خاتون بنناہے‘‘۔فیض احمد فیض نے جون 1983ء میں لکھی گئی اپنی اس نظم کوجن فلسطینی مجاہدین کی نذرکیاہے،ان میں عہدتمیمی ہی جیسی جرأت مند و بے خوف فلسطینی نسل شامل ہے:
ہم جیتیں گے
حقا ہم اِک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے
کیا خوف ز یلغار اعدا
ہے سینہ سپر ہر غازی کا
کیا خوف ز یورش جیش قضا
صف بستہ ہیں ارواح الشہدا
ڈر کاہے کا
ہم جیتیں گے
حقا ہم اِک دن جیتیں گے
’’قد جاء الحق و زھق الباطل ‘‘
فرمودۂ رب اکبر
ہے جنت اپنے پاؤں تلے
اور سایۂ رحمت سر پر ہے
پھر کیا ڈر ہے
ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں