138

عورتوں کی تعلیم:اسلامی نقطۂ نظر

مولانا انیس الرحمن قاسمی
ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ
اسلام نے مردوعورت کے درمیان تعلیم کے معاملہ میں کوئی امتیازنہیں رکھاہے؛بلکہ دونوں کوتعلیم حاصل کرنے کایکساں مواقع فراہم کیاہے،اسلامی نظریہ سے عورت کی تعلیم کا مطلب اس کواللہ اوراس کے رسول کا فرماں بردار بندی،دین کی داعیہ،خاندان کو سنبھالنے والی، فرماں برداربیوی،بہترین ماں اورمعاشرے کاایک ایسااہم فردبناناہے جوعلوم وفنون سے آراستہ ہو،اس تعلیم کی ضرورت سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاہے جواسے اچھے اخلاق واعمال سے آراستہ کرے۔اللہ رب العزت نے نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوپڑھنے کاحکم دیاہے؛ بلکہ اس کے ذریعہ عام انسانوں کوبھی پڑھنے کاحکم دیاگیاہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح مردوں کے لیے رسول بناکربھیجے گئے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی۔حکم الہی یہ ہے:
پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا،بنایاانسان کو جمے ہوئے لہوسے، پڑھ اور تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو جووہ نہ جانتاتھا۔(سورہ اقراء )
عورتیں ہماری آبادی کانصف حصہ ہیں، انہیں بھی رب العزت نے ذہانت، صلاحیت ودینی وروحانی ترقی کاجوہردیاہے،کہاجاتاہے کہ ماں کی گودہی وہ پہلامکتب ہے جہاں ہر انسان کی نشوونماہوتی ہے،یہیں سے شخصیت وکردارکی ڈھلائی ہوتی ہے،یہاں سے دماغ وذہن جورخ اختیارکرتاہے، انسان کی آخری زندگی پرہمیشہ حاوی رہتاہے۔
اسلام نے عورتوں کودینی ودنیوی تعلیم کی نہ صرف اجازت دی ہے؛بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کوبھی اتناہی اہم قراردیاہے،جتنامردوں کی تعلیم وتربیت کوضروری قراردیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح دین کی تعلیم مردحاصل کرتے تھے،اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں،آپ خواتین کی تعلیم کابڑاخیال کرتے تھے،اس کے لیے آپ نے الگ وقت متعین کررکھاتھا۔ابوسعیدخدری رضی اللہ فرماتے ہیں:عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے پاس مردوں کی بھیڑرہتی ہے اس لیے ہم عورتوں کے لیے ایک دن مختص فرمادیجئے،اس پر آپ نے ایک دن ان عورتوں کے لیے مقررکردیا،چنانچہ ایک دن آپ نے ان کو نصیحت اورحکم بتائے،’’راوی کہتے ہیں:‘‘چنانچہ آپ کی نصیحت میں سے ایک یہ نصیحت تھی کہ جس کسی عورت کے تین بچے انتقال کرگئے ہوں وہ بچے جہنم کی آگ سے خلاصی کاذریعہ ہوں گے،ایک عورت نے عرض کیاکہ اگرکسی کے دوبچے ،آپ نے فرمایاکہ دوبچے ۔(صحیح البخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں فرمایا ہے:جس کے پاس تین بیٹیاں،یابہنیں ہوں،یادو بیٹی یابہن ہو،اس نے ان کی تربیت کی،ان کے ساتھ اچھابرتاؤ کیااوران کی شادی کرادی تواس کے لیے جنت ہے۔(ابو داؤد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں اورخادماؤں کوعلم وادب سکھانے کی ترغیب دلائی ہے،ارشاد فرمایاہے:
جس شخص کے پاس کوئی باندی ہواوروہ اس کوعمدہ تہذیب وشائستگی سکھائے اوراچھی تعلیم دلائے اورپھراس کوآزادکرکے شادی کرلیاتو اس کے لیے دوہرااجرہے۔یہی وجہ تھی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا انصارکی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں:انصارکی عورتیں بھی خوب تھیں کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا وشرم ان کے لیے مانع نہیں بنتی تھی۔(بخاری شریف)
ان ارشادات کی وجہ سے قرون اولیٰ میں خواتین کے درمیان بے پناہ تعلیمی بیداری آئی اور خواتین نے بھی علمی میدانوں میں غیرمعمولی کارنامے انجام دئے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا نام قابل ذکرہے، حدیث، فقہ، شاعری، انساب،تاریخ وطب ہرفن میں ماہرتھیں بڑے بڑے صحابہ کرام آپ سے دینی علوم حاصل کرتے تھے۔ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی فقاہت کی وجہ سے صحابہ کرام کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں،اس کے علاوہ دیگر عورتوں کے بے شمارعلمی وفقہی کارنامے کی ایک تاریخ ہے۔
جہاں تک تعلق عورتوں کی اس طرح کی تعلیم،جس سے عورت کی حقیقت چھپ جائے، وہ تعلیم اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔واضح رہے کہ علم کی دوقسمیں ہیں:ایک علوم شرعیہ، دوسراعلوم عصریہ۔
علوم شرعیہ میں سے عورتوں کے لیے ان تمام چیزوں کاعلم حاصل کرناضروری ہے،جن کے ذریعہ عقائدوایمان ،عبادات ،پردہ،لباس غیرمحرموں اور محرموں کے ساتھ میل جول،حیض ونفاس وغیرہ کے احکام کوصحیح طورپرجان سکے،اسی طرح قرآن وحدیث اورفقہ میں کمال حاصل کرنابھی مستحسن عمل ہے۔
علوم عصریہ میں عورتوں کے لیے علوم کاجاننانہ صرف جائزہے؛بلکہ مسلم معاشرے میں ایسی خواتین کاموجود ہونا بھی ضروری ہے،جوعلم طب،یامیڈیکل سائنس کی ان مختلف فروعات میں ماہرہوں،جن کی عورتوں کی زندگی کے مختلف مراحل،مثلاً:ایام حمل،وضع حمل وغیرہ میں ضرورت پڑتی رہتی ہے؛تاکہ عورتوں کومردڈاکٹروں کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے اور مردوں کے سامنے بے پردگی کی نوعیت اورغیرمحرم کواس کے سترچھونے کی ضرورت پیش نہ آئے، اس طرح بعض اوقات عورتوں کوشوہروں کابوجھ ہلکاکرنے کے لیے اس کے مالی تعاون کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے،لہذاعورت مختلف ایسے فنون میں مہارت حاصل کرسکتی ہے (مثلاً دست کاری،کپڑابننے اور سلنے وغیرہ کاہنرسیکھ سکتی ہے)جوعورتوں کی طبیعت کے موافق ہو، رہے وہ علوم جوعورتوں کی طبیعت کے مناسب نہ ہوں،جیسے اداکاری وموسیقی کے علوم توان کا سیکھنا عورتوں کے لیے شرعی طورپردرست نہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل لحاظ رہے کہ عورتوں کوجوبھی تعلیم دی جائے،اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم مخلوط نہ ہواورپردے کی مکمل رعایت کرتے ہوئے عورتوں کوزنانہ تعلیم گاہوں میں عورتوں ہی سے تعلیم دلوائی جائے۔واضح رہے کہ عورتیں ہماری زندگی کاایک اہم حصہ ہیں،ان کودینی تعلیم سے محروم رکھنا ملت ومعاشرے کے لیے تباہی اورفتنہ وفسادکاذریعہ ہے۔موجودہ حالات میں معاشرے کی تعمیرکاکام صحیح طورپرخواتین انجام دے سکتی ہیں، لڑکیوں کی تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خاندان کی بنیاد ہوتی ہیں،ایک لڑکی کی تعلیم ایک خاندان کوتعلیم دینے کے برابر ہے؛کیوں کہ ماں ہی اصل بچے کی تربیت کرتی ہے اور دن ورات کے زیادہ حصے بچپن میں اولاد ماں کے پاس گزارتی ہے؛اس لیے کسی ماں کے لیے اپنے بچے سے الفت ومحبت کا نتیجہ یہ ہوناچاہیے کہ وہ ان کو بہتر تعلیم اوراچھی تربیت سے آراستہ کرے۔
مسلم معاشرہ کی خواتین کی خانگی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے باوجود روزانہ ان کے پاس وقت کااتناحصہ ہوتاہے،جس میں وہ چاہیں تواپنے علم میں مطالعہ کے ذریعہ اضافہ کرسکتی ہیں،مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گھریلوزندگی میں خواتین کتابوں سے بالکل شغف نہیں رکھتی ہیں،ان کوچاہیے کہ وہ طرززندگی میں تبدیلی لائیں اورعلم کوحاصل کریں اپنے مطالعہ کے ذریعہ معلومات میں اضافہ کریں اورخواتین میں دین کی دعوت کا کام کریں۔
موجودہ وقت اورضرورت متقاضی ہیں کہ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے مزید بیداری پیدا کی جائے اور اس کی جانب سنجیدگی سے غور کیا جائے؛ لیکن اس سلسلے میں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم کے لیے محفوظ مقامات اور تعلیم گاہیں ہوں، عورتوں کی تعلیم کے لیے سب سے محفوظ اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک جگہ خود اس کا گھر ہے، گھر میں ایسا انتظام اگر مشکل ہوتو غیراقامتی اسکول اور مدرسے قائم کئے جائیں، جہاں صرف لڑکیوں کو ہی تعلیم دی جاتی ہو اور تعلیم دینے والا تدریسی عملہ عورتوں پر ہی مشتمل ہواور مخلوط تعلیم سے پرہیز کیا جائے؛ کیوں کہ مخلوط تعلیم اسلامی روح کے منافی ہے اور ذہنی وفکری آسودگی اور اخلاقی پاکیزگی کے لیے سمِ قاتل ہے۔ہمیں اسلامی تعلیمات کی حدود میں رہ کر تعلیمِ نسواں کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا چاہیے؛ تاکہ نئی نسل اعلیٰ اخلاق وکردار کی مالک بن سکے؛ مگر معاشی اعانت کے لیے عورتوں کی تعلیم کو ذریعہ بنانا غیرفطری بھی ہے اور غیراسلامی بھی؛ کیوں کہ اللہ جل شانہ نے بیوی بچوں کی کفالت کا ذمہ دار مرد کو قرار دیاہے اور اسلامی تعلیمات کی رو سے عورت کی ذمہ داری شرعی فرائض ادا کرنے کے بعد تمام جائز اور مباح امور میں شوہر کی اطاعت کرنا، اس کی حوائج اور سامانِ راحت وآسائش کو مہیا کرنا ہے؛ تاکہ بچے اور شوہر تفریح کے لیے گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پرعمل کرنے توفیق دے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں