233

عمران خان کو یہودی ایجنٹ کیوں کہا جاتا ہے؟


تحریر: معوذ سید
23 ستمبر 2019 کو نیویارک میں مشہور کھرب پتی جارج بوروس نے عمران خان کو مدعو کِیا، اور اس ملاقات میں ان کی بعض مسائل پر گفتگو ہوئی. جارج بوروس کون ہیں اور گفتگو کیا کچھ ہوئی، اس سے پہلے ہم ذرا اس پسِ منظر کو اچھی طرح کھنگالیں گے جس نے عمران کی رسائی جارج بوروس جیسوں تک کرا دی ہے.
روتھ شیلڈ خاندان:
یہ تقریباً پونے تین سو برس پرانا، بے پناہ مالدار عالمی یہودی خاندان ہے جس کا شعبۂ کار، بینکِنگ ہے. اس کا جد امجد میئر روتھ شیلڈ جرمن تھا جس نے اپنے پانچ بیٹوں کو پانچ الگ الگ ملکوں میں بسایا تھا. فلسطین کی سرزمین پر اولین یہودی شہر جو “صہیونِ اول” کے نام سے 1882 میں بسایا گیا تھا، اس کی سرپرستی ایڈمنڈ روتھ شیلڈ نے کی تھی. وہاں عثمانی زمین داروں سے بڑے پیمانے پر زمینیں خریدنے میں اسی کا حصہ تھا، اور وہی زمینیں بعد میں اسرائیل بن گئیں. 1917 میں برطانیہ کی حکومت نے خط کی صورت میں عہد نامہ جاری کِیا تھا کہ سرزمینِ فلسطین میں یہودیوں کا وطن بسایا جائے گا، اس عہد نامے کا مکتوب الیہ والٹر روتھ شیلڈ تھا، کیونکہ برطانوی یہودیوں کا لیڈر وہی تھا. آج دنیا کے بینکِنگ نظام پر روتھ شیلڈ خاندان بے تاج بادشاہ کی طرح غالب ہے-
گولڈسمِتھ خاندان:
یہ بھی پونے تین سو برس پرانا، بے پناہ مالدار عالمی یہودی خاندان ہے جس کا شعبۂ کار، بینکِنگ کے ساتھ ساتھ سیاست رہا ہے. اس خاندان کا جد امجد بینیڈِکٹ گولڈسمِتھ تھا جس نے بی ایچ بینیڈِکِٹ بینک قائم کِیا تھا، اور ساتھ ساتھ وہ تسکانیا کے شہزادے کا نمائندہ بھی بنا. اس کا بیٹا اڈولف گولڈ سمِتھ ایک کروڑ پتی بنا، اور 1895 میں لندن آ گیا. اڈولف کے بیٹے فرینک گولڈ سمتھ نے 1940 میں لندن چھوڑ کر فرانس میں سکونت کی، جہاں اس نے ہوٹل کے بزنس میں زبردست عروج حاصل کِیا اور فرانس کا ممبر آف پارلیمنٹ بنا. فرینک کا بیٹا جیمز گولڈسمِتھ لندن واپس آ گیا جہاں اس نے اپنے بل بوتے پر کاروبار اور سرمایہ کاری میں نئے سرے سے عروج حاصل کِیا اور برطانیہ کی سیاست میں باقاعدہ سیاسی پارٹی قائم کی. جیمز کو بالخصوص 1994 میں دیے گئے ایک انٹرویو کی وجہ سے الہامی سرمایہ کار کہا جاتا ہے.
روتھ شیلڈ-گولڈسمِتھ-عمران خان رشتے داری:
بنیادی طور پر تو دونوں ہی سرمایہ دار خاندانوں کی ابتداء جرمنی کے فرینکفرٹ سے اٹھارویں صدی کے وسط میں ہوئی تھی.
روتھ شیلڈ خاندان کی برطانوی شاخ میں ایمشیل روتھ شیلڈ، برطانیہ کی روتھ شیلڈ ایسیٹ منیجمنٹ اینڈ بینکنِگ کمپنی کا چیئر مین بنا. یہ 1955 میں پیدا ہوا اور 1996 میں اس کی موت ہوئی. اس کی تین اولادیں تھیں؛ دو بیٹیاں کیٹ ایما روتھ شیلڈ اور ایلیس میرنڈا روتھ شیلڈ، ایک بیٹا جیمس روتھ شیلڈ.
گولڈسمِتھ خاندان کے رکن، جیمز گولڈسمِتھ کی تین بیویاں تھیں، جن میں سے لیڈی انابیل برطانوی تھی. جیمز گولڈسمِتھ 1933 میں پیدا ہوا اور 1997 میں اس کی موت ہوئی. انابیل اور گولڈسمِتھ کی مشترک اولادیں تین تھیں؛ دو بیٹے بین گولڈسمِتھ اور زیک گولڈسمِتھ، ایک بیٹی جمائما گولڈ سمِتھ.
جیمز گولڈسمِتھ نے اپنے دونوں بیٹوں بین گولڈسمِتھ اور زیک گولڈسمِتھ کی شادیاں ایمشیل روتھ شیلڈ کی دونوں بیٹیوں کیٹ ایما روتھ شیلڈ اور ایلیس میرنڈا روتھ شیلڈ سے کرائی تھیں. اسی جیمز گولڈسمِتھ نے اپنی بیٹی جمائما گولڈسمِتھ کی شادی 1995 میں پاکستانی کرکٹر عمران خان سے کرائی. یہاں ان دو امیر ترین تاریخی یورپی یہودی خاندانوں نے بڑی کشادہ ظرفی کا مظاہرہ کِیا کہ ایک کرکٹر مسلمان ایشیائی کو اپنے خاندان کا حصہ بنا لیا-
جارج سوروس:
جارج سوروس ایک ہَنگریَن یہودی ہے. وہ 800 کروڑ امریکی ڈالرز کا مالِک ہے، جب کہ 320 کروڑ امریکی ڈالر وہ اپنی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کے لیے وقف کر چکا ہے-
سوروس 1930 میں ہَنگری میں پیدا ہوا، اور ہولوکاسٹ کے زمانے میں امریکہ ہجرت کر کے آ گیا. 1992 میں اس نے برطانیہ میں کئی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر بیرونی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی (Short Selling) کا اتنا بڑا جال بُنا کہ یورپین ایکسچینج ریٹ میکنزم میں انگلینڈ کی کرنسی منہ کے بَل گر پڑی، اور اس کھیل میں سوروس نے ایک دن میں 100 کروڑ ڈالر کما لِیے، تب سے اسے The Man Who Broke The Bank Of England کے ٹائٹل سے جانا جاتا ہے. اِس وقت اس کی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن دنیا کے 120 ممالک میں انسانی فلاح و بہبود کے متعدد شعبوں میں کھربوں کے بجٹ کے ساتھ کام کر رہی ہے. جارج سوروس کو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے فِلنتھروپسٹس (خدامِ انسانیت) میں سے شمار کیا جاتا ہے. مگر اسی کے ساتھ اسے دنیا بھر میں کئی عظیم سازشوں کا روح رواں سمجھا جاتا ہے-
سوروس کو دنیا کے یہودی مخالف حلقوں میں بے پناہ نفرت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے. 27 اکتوبر 2018 کو پنسلوانیا کے پِٹس برگ میں یہودی معبد پر فائرنگ حملہ ہوا تھا، اس کے مجرم کی سابق سوشل میڈیا پوسٹس سے معلوم ہوا تھا کہ وہ وائٹ جینوسائیڈ نامی نظریۂ سازش (Conspiracy Theory) کا پیروکار ہے. اس نظریۂ سازش کے مطابق، یہود خفیہ طور پر گوروں کا قتل عام کر کے اپنی برتری کا منصوبہ رکھتے ہیں، اور مجرم کے خیال میں اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ جارج سوروس ہے-
سوروس پر دوسرا الزام یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں اوپن بارڈ پالیسی کا حامی اور پسِ پردہ کارپرداز ہے. امریکہ کی جانب جنوری 2019 اور اس کے بعد کئی تارکِ وطن قافلے جلوس کی صورت نکلے ہیں، اور سوروس پر الزام ہے کہ وہ قافلے اسی کی رچی ہوئی سازش کا حصہ ہیں کیونکہ وہ تارکینِ وطن کے مسئلے کو ہوا دے کر انجامِ کار اوپن بارڈر پالیسی نافذ کرانا چاہتا ہے، یہی الزام سوروس پر اس کے آبائی وطن ہنگری کے وزیر اعظم نے بھی لگایا ہے.
سوروس پر تیسرا الزام یہ ہے کہ وہ دنیا بھر کے ممالک کی حکومتوں کے تختے پلٹنے کی سازش رچتا ہے. نومبر 2018 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے شدت کے ساتھ سوروس پر یہ الزام لگایا کہ وہ ملکوں کو توڑنے کی عالمی یہودی سازش کا روح رواں ہے اور ترکی سمیت کئی ممالک کی حکومتوں کا تختہ پلٹ کر ان ممالک کو توڑ دینے کا منصوبہ رکھتا ہے. ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جارج سوروس سرحدوں سے ماورا عالمی یہودی غلبے کی سازش کا سرغنہ ہے-
سوروس-گولڈسمِتھ-روتھ شیلڈ باہمی تعلق:
جیمز گولڈسمِتھ اور جارج سوروس اپنی کاروباری چالبازیوں میں پارٹنر رہے ہیں. جیسا کہ ہم سوروس کے تعارف میں جان چکے کہ دسمبر 1992 میں جارج سوروس نے شارٹ سیلنگ کے ذریعے ایک روز میں ایک بلین ڈالر کما کر بینک آف انگلینڈ کو دیوالیہ کر دیا تھا، سرمایہ کاری کے اس کھیل میں جارج سوروس کے بعد دوسرا سب سے بڑا کھلاڑی جیمز گولڈسمِتھ تھا. اپریل 1993 میں سوروس نے جیمز گولڈسمِتھ سے معدنِ زر (گولڈ مائنِنگ) کی کمپنی نیو مونٹ کا 10 فیصد حصہ 400 ملین ڈالرز میں خریدا تھا.
سوروس روتھ شیلڈ فیملی کا ہی پروردہ ہے. واشنگٹن ٹائمز کے ایڈیٹر ارناڈ ڈی بورک گریو نے اپریل 2011 میں ایک آرٹیکل میں تفصیل سے لکھا تھا کہ جارج سوروس کے متعدد پروجیکٹس کو روتھ شیلڈ فیملی فنڈ کرتی ہے. روتھ شیلڈ برٹِش بینکِنگ فیملی کے موجود ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص بینک آف انگلینڈ کو ایک دن میں دیوالیہ کر سکتا ہے تو اس شخص کا روتھ شیلڈ فیملی سے گہرا ربط ثابت ہوتا ہے. چنانچہ ایگزیکیٹو انٹیلی جنس ریویو کے 1 نومبر 1996 کے شمارے میں سوروس سے متعلق تفصیلی آرٹیکل شائع ہوا. جس میں بیان کیا گیا کہ سوروس 60 کی دہائی میں نیویارک میں ارنالڈ اینڈ بلیک روڈر بینک میں کام کرتا تھا جو روتھ شیلڈ فیملی کے زیر دست تھا. 1969 میں سوروس نے اپنا کوانٹَم فنڈ قائم کِیا، اور ارنالڈ اینڈ بلیک روڈر نے طویل عرصے تک اس فنڈ کی سرپرستی کی. روتھ شیلڈ فیملی کے پروجیکٹ Banque Privee (پرائیویٹ بینکِنگ) کے سابق ڈائرکٹر جارج سی کارلوائس نے سوروس کے اس فنڈ کو انتہائی کلیدی سرمایہ اور سرمایہ کار مہیا کِیے تھے. سوروس شعبۂ بینکِنگ میں اپنی کام یابی کے لیے ہمیشہ روتھ شیلڈ فیملی کا ممنون رہا.
سوروس-عمران خان ملاقات:
برطانیہ کے اندر 1992 میں عالمی شہرت حاصل کرنے کے بعد فِلنتھروپِسٹ (خادمِ انسانیت) کی شبیہ حاصل کرنے والی ان دونوں شخصیات نے حال ہی میں نیویارک میں ملاقات کی ہے. سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن دو سال قبل پاکستان میں بند کر دی گئی تھی، نیز سوروس اس وقت عالمی سطح پر رجب طیب اردگان سمیت متعدد حکمرانوں اور سیاست دانوں کے زیرِ عتاب ہے. ایسی صورتِ حال میں سوروس کا عمران خان کو مدعو کرنا اہمیت کا حامل ہے. پاکستان کی خبروں کے مطابق سوروس نے عمران خان سے تعلیمی اصلاحات، ٹیکس کے مسائل اور افغانستان و کشمیر کے مسائل پر گفتگو کی ہے. اسرائیل کے اخبار ہاریٹز میں 7 اکتوبر 2019 پاکستانی نژاد صحافی کنور خلدون شاہد کا تجزیاتی مضمون شائع ہوا ہے، جس میں اس نے یہ نقطۂ نظر پیش کِیا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کے دہشت گردی کو فروغ دینے والے اسلامی مدرسوں کو حکومتی کنٹرول میں لانے کے منصوبے کے تعلق سے سوروس سے میٹنگ کی ہے، لہذا پاکستان کی شدت پسند یہود مخالف اسلامی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف محاذ شدید کر دیا ہے کیونکہ ان کی ساری قوت انہی دہشت گرد مدرسوں میں ہے. 23 ستمبر 2019 کو ہونے والی عمران سوروس ملاقات، شاید اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر میں دھندلا گئی، لیکن اس تقریر کا اثر ختم ہونے کے بعد اب سنجیدگی سے اس ملاقات کے پسِ منظر اور پیشِ منظر پر غور کرنے کی ضرورت ہے-
حاصلِ کلام:
دولت اور بینک کے بے تاج بادشاہ، صدیوں پرانے یہودی صہیونی خاندان، جن کا اسرائیل کے قیام میں کلیدی کردار رہا ہے، اور جو حتی الامکان اپنی اولاد کی شادیاں اپنے ہی خاندانوں میں کراتے ہیں، اگر اس خاندان کے ایک نہایت اہم رکن نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں اپنی ہی سطح کے دوسرے صہیونی گھرانے میں کرائی ہوں اور اپنی بیٹی ایک ایشیائی مسلمان سے بیاہ دی ہو، تو اِس بین المذاہب رشتے کو بہت سادہ نہیں سمجھا جا سکتا. پھر انہی خاندانوں کا پروردہ و ہم پیالہ ایک کھرب پتی، جو موجودہ وقت میں عالمی یہودی غلبے کی سازش کا سرغنہ سمجھا جاتا ہے اور جو رجب طیب اردگان سمیت کئی حکمرانوں کے راست عتاب کا شکار ہے، اگر وہ کسی حکمراں کو از خود مدعو کر کے اس سے مذہبی تعلیم میں اصلاحات کی گفتگو کرتا ہے، تو یہ ملاقات بھی ایک عام ملاقات نہیں سمجھی جا سکتی. حیرت ہے کہ ‘یہودی سازشوں کو بے نقاب کرنے والے سنسنی خیز انکشافات’ جس ملک میں سب سے زیادہ کِیے جاتے ہیں، اُسی ملک میں عمران خان کے پسِ منظر اور موجودہ حیثیت پر معمولی نوعیت کی بھی گفتگو نہیں ہو رہی. کوئی معشوق ہے اس پردۂ ژنگاری میں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں