156

علما وفضلاے مدارس کے لیے جدید تعلیم کے مواقع

مولانا انیس الرحمن قاسمی(ناظم امارت شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ)
مدارس اسلامیہ دینی تعلیم کے ایسے مراکز ہیں، جہاں قرآن و سنت اور علوم شریعت کی تعلیم دی جاتی ہے، آج پوری دنیامیں جہا ں بھی اسلام کے ماننے والے ہیں اور اللہ ورسول کا نام لے رہے ہیں اورقرآن و سنت پر عمل ہو رہاہے،وہ سب انہیں مدرسوں کی برکت سے ہے، مدارس کے فارغین قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں مہارت پیدا کر کے ملت کی رہنمائی کر رہے ہیں اوربلاشبہ ایسے علماء کا ہر بڑی مسلم آبادی میں ہونا ضروری ہے؛اس لیے علماء کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وحدیث،فقہ اورعربی زبان وادب میں مہارت پیدا کریں،عوام وخواص کے توقعات آج بھی ان علماء اور فضلاء سے پہلے کی طرح قائم ہیں؛مگراس کے ساتھ ہی موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے طلبہ و فضلاء کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے اور اس کے لیے ان کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کی جائیں جس سے وہ عہد جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا کے لیے بھی مفید سے مفید تر ثابت ہو سکیں۔ ملکی تناظر میں دیکھیں تو ہمیں ایسے افرا د اور علماء و فضلاء کی سخت ضرورت ہے،جو ملک میں آرہی موجودہ تیز تر سیاسی اور معاشی تبدیلیوں سے واقف ہوں اور ان پر قابو پانے کی پوری صلاحیت کے ساتھ ملت اسلامیہ کی نمائندگی مختلف میدانوں میں کر سکتے ہوں، مسلمانوں کو معیشت اورملکی خدمات میں آگے بڑھنے کی بھی ضرورت ہے؛ اس لیے ایسے علماء اور فضلاء کی کھیپ تیار کرنابھی بہت ضروری ہے جو مدرسوں میں پڑھانے اور مساجد میں اذان، امامت و خطابت کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ جدید عصری تعلیم گاہوں میں تدریسی فرائض انجام دینے، سائنس و طب،سماجی وعمرانی علوم آئی ٹی اور دیگر پروفیشنل شعبہ جات میں خدمت انجام دینے کے لائق ہوں اور جو آئی اے ایس اور آئی پی ایس بن کر ملک و ملت کی خدمت کر سکتے ہوں۔
دینی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو یہ ذہن نشیں رہنا چاہیے کہ جو تعلیم وہ حاصل کررہے ہیں،یہ ان کے لیے نعمت ہے اورعلم دین حاصل کرنے کا مقصدیہ ہے کہ وہ اپنی زندگی نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بسرکریں؛بلکہ اپنے گھروالوں، رشتہ داروں، اہل وطن اور پوری دنیا کے لوگوں کی رہنمائی بھی کرسکیں،خاص طور پرعلماء کی ذمہ داری دعوت و اصلاح کی ہے؛مگر دعوت دین کے لیے اپنے عصر اور اپنی قوم کی زبان جیسے اردو، ہندی اورمختلف ریاستوں کی زبانوں میں کمال پیدا کرنا ضروری ہے،عالمی میدان میں کسی خارجی زبان جیسے انگریزی، عربی، فرنچ، جرمن یا چائنیز زبان کا جاننا بھی ضروری ہے، ایسے ہی علماء جو عالمی رجحانات و نظریات اور خطرات سے واقف ہیں، وہ عالمی زبانوں میں اپنے خیالات و نظریات ظاہر کر کے بین الاقوامی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، علماء و فضلاء مدارس کو اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں بھی رہیں، وہاں اپنے عالمانہ شان اور داعیانہ کردار کے ساتھ رہیں،اگرمدرسہ میں تدریس، مسجدمیں امامت، یاکسی مکتب میں خدمت کاموقع ملے توٹھیک،ورنہ انہیں دیگرشعبوں میں قدم رکھنے کے لیے ذہنی طورپرآمادہ رہناچاہیے اور اس کی پیشگی تیاری بھی کرنی چاہیے، درس نظامی کے نصاب کے ساتھ ساتھ وہ اگر انگلش اور کمپیوٹرکی تعلیم بھی حاصل کریں تو فضیلت کے بعد ان کے لیے بہت سی راہیں کھل سکتی ہیں اور علوم عصریہ کے مختلف میدانوں میں بھی وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ملک کے اہم دینی ادارے دارالعلوم دیوبند،مظاہرعلوم سہارنپور،دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ،جامعۃ الفلاح وغیرہ کی سند کو مختلف اعتبار سے یونیورسٹیوں میں مساوی یا کم درجہ میں منظوری حاصل ہے،خاص طور پر ملک کی متعدد یونیورسٹیوں مثلا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، جواہر لال نہرو یونیور سٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی، مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی،عالیہ یونیورسٹی،مولاناآزادیونیورسٹی راجستھان،محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور وغیرہ میں مدارس کے فضلاء کے لیے کئی ایسے کورسز ہیں،جن کے ذریعہ فضلاء مدارس عصری علوم کے میدانوں میں قدم بڑھاسکتے ہیں؛بلکہ آگے بڑھ رہے ہیں، آج توکتنے علماء ایسے ہیں،جو یو پی ایس سی،بی پی ایس سی اور دوسرے مقابلہ جاتی امتحانوں میں کامیابی حاصل کر کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائزہیں،اعلیٰ تعلیم کے لیے نیٹ کے امتحان میں پاس کر کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں۔ اسلامک اسٹڈیز کے علاوہ زبان و ادب،جرنلزم، پالیٹیکل سائنس، اسلامک بینکنگ، اقتصادیات، تاریخ،جغرافیہ، قانون، اپلائڈ سائنس اکاؤنٹس، بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنس، طب یونانی، تحقیق و ریسرچ اور ٹیکنالوجی اور زراعت کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔موجودہ دور میں میڈیا کی بھی بہت اہمیت ہے،جنرنلزم کی تعلیم پانے والے مدارس کے فضلاء کے لیے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا بھی دلچسپی کا سامان ہو سکتا ہے،میڈیا میں قدم جمانے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں،آپ اخبارات میں کسی بھی عہدے پرکام کرسکتے ہیں۔ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، رپورٹر، ٹرانسلیٹر(مترجم)، پروف ریڈر، کمپیوٹرآپریٹر،مارکیٹنگ ایگزیکٹو اور سرکولیشن آفیسروغیرہ، اخبارات کے تمام شعبوں میں مدارس کے فضلاء کے لیے یکساں مواقع موجود ہیں،کچھ اردواخبارات میں مدارس کے فارغین پہلے ہی کام کررہے ہیں، اگراس شعبے پر تھوڑی توجہ دی جائے تواس کے اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ریڈیومیں ایف ایم ریڈیو چینل کی اجازت لی جاسکتی ہے، ایف ایم چینل کے ذریعے سماج اور معاشرے میں اسلامی تعلیمات کاسلسلہ شروع کیاجاسکتاہے،یہ ایسا میدان ہے،جوپوری طرح خالی پڑاہے،الیکٹرانک میڈیا میں بھی جگہ بنائی جا سکتی ہے؛مگر اس کے لیے باقاعدہ تیاری کرنے اور منظم ہو کر چلنے کی ضرورت ہے۔صحافت و میڈیا دعوت دین کا بھی بہت موثر ذریعہ ہے، اس کے اثرات خوانچہ والوں سے لے کر تخت و تاج والوں تک ہوتے ہیں؛اس لیے اس پر توجہ دینی چاہیے۔مدارس کے فارغین کے لیے ترجمہ نگاری کافن بھی کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔عام طورپرمدارس کے فارغین اردوزبان جانتے ہیں؛ اس لیے وہ اردو زبان کو مضبوط کر کے عربی، انگلش، چینی، فرنچ، جرمن یاترکی زبانوں میں سے کوئی ایک زبان سیکھ کر ترجمہ نگاری کے میدان میں بہ آسانی آسکتے ہیں۔ دوزبانوں پرمہارت ہواور ترجمہ نگاری کوپیشہ بنا لیا جائے توروزگار کے لیے یہاں وہاں بھٹکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔سفارت خانوں،بین الاقوامی کمپنیوں، بڑے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، یونی سیف، یونیسکو، سیاحتی مقامات اوربیرونی ملکوں سے آنے والے تاجروں اورسرکاری وغیرسرکاری اداروں کے لیے ترجمہ نگاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مدارس کے طلبہ اگرعربی زبان بولنے، عربی سے ترجمہ کرنے، عربی میں مضامین لکھنے کی صلاحیت پیداکرلیں تو اس میدان میں بہتر کام کرسکتے ہیں۔ مدارس کے فضلاء کے لیے ایک اہم میدان اسلامک بینکنگ کا ہے، اسلامک بینکنگ کامیدان کئی اعتبارسے اہم ہے، اس وقت پوری دنیامیں اسلامک بینکنگ سسٹم تیزی سے رائج ہورہاہے،ظاہرہے جیسے جیسے اس کادائرہ کار بڑھے گا،ویسے ویسے اسلامی اقتصادیات کے ماہرین کی ضرورت پڑے گی،علماء اگراسلامی اقتصادی نظام پراپنی گرفت مضبوط کرلیں اور اس میں مہارت حاصل کرلیں تو اس میدان میں ان کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں، اس کے لیے اسلامی تجارت کے علاوہ ریاضی، اکنامکس اور کامرس وغیرہ کی ضروری تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔مدارس کے فارغین مختلف دینی و عصری کورسوں کی تدریس آن لائن بھی حاصل کر سکتے ہیں، ہمارے کئی باصلاحیت علماء اس طرح قرآن و حدیث کی تدریس کر رہے ہیں اور ساری دنیا میں ا ن کے شاگرد پھیلے ہوئے ہیں۔مدارس کے فارغین کے لیے ایک اچھا میدان سرکاری ونیم سرکاری پرائمری،مڈل وہائی اسکولوں میں تدریس کا ہے،اس کے لیے وہ ڈی ایل ایڈ،بی ایڈ کرلیں تو کامیابی یقینی ہے۔میں ایک میدان سیاست کا بھی ہے،سیاست کامیدان ایمان داراورملک و ملت کے لیے اخلاص کاجذبہ رکھنے والے علماء کے لیے پوری طرح خالی ہے۔سیاست کا علم حاصل کرنے، اس کی تدریس کے ساتھ علماء کے لیے عملی طور پر میدان سیاست میں آنے کے مواقع ہیں،علماء کواس میدان میں آنا چاہیے اور کونسلرسے لے کرآگے تک کاسفرطے کرناچاہیے، قانون کا شعبہ علماء کا خاص میدان ہے؛ مگر فقہ اسلامی کی واقفیت کے ساتھ ملکی قوانین کی واقفیت و مہارت ضرورت ہے؛ اس لیے ایسے علماء جو زبان و بیان پر اچھی قدرت رکھتے ہوں اور بارہویں، یا مولوی،یا گریجوئیشن،یا عالم و فاضل کی سند رکھتے ہوں، ان کولا (قانون)میں داخلہ لے کر قانون کی ڈگری حاصل کرکے ملک وملت کی خدمت کے لیے آگے آناچاہیے،برطانوی سامراج کے زمانے میں علماء نے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا تھا؛ مگر آہستہ آہستہ علماء کی عصری تعلیم سے دوری نے ان کو زندگی کے مختلف شعبوں اور حکومت کے ا ہم مناصب پرفائز ہونے سے روک دیا ہے؛ اس لیے علماء کو عصری تعلیمات سے مکمل طور سے واقفیت حاصل کر کے اور اس میں مہارت پیدا کر کے، سیاست، قانون، ایڈمنسٹریشن، سول سروسز جیسے اعلیٰ اور بلند مناصب پر فائز ہو نے کی جد و جہد کرنی چاہیے،اس طرح ملک کی خدمت بھی ہوگی اورسماج پر اثر ورسوخ بھی قائم ہوگا،جس سے امن واعتدال قائم ہوگا؛اس لیے ضروری ہے کہ مدارس کے معیار تعلیم کو اعلیٰ سے اعلیٰ کرنے کی فکر کی جائے؛ تاکہ ان مدارس سے نکلنے والے طلبہ اپنے اپنے میدان میں زیادہ کار آمد اور باصلاحیت بن سکیں،ساتھ ہی مدارس کے طلبہ کو صحیح گائڈ لائن فراہم کی جائے؛ تاکہ وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے اعتبار سے مدارس کی تعلیم سے فراغت کے بعد صحیح کورس کا انتخاب کر سکیں اور دینی مدارس کے فارغین عصری یونیورسٹیوں میں اپنے دینی تشخص اور اسلامی شعار پر قائم رہتے ہوئے جدید علوم سے فائدہ اٹھائیں اور احساس کمتری کے شکار ہوئے بغیر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنے وطن اور قوم کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہیں۔ اگر منصوبہ بندی کے ساتھ محنت کی جائے تو آئندہ برسوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں علماو فضلاے مدارس کی ایسی ٹیم تیار ہو سکتی ہے، جو اسلامی علوم میں پوری دسترس رکھنے، شریعت اسلامی پر پوری طرح کاربند ہوتے ہوئے عصری میدانوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کرملک میں ایک صالح انقلاب کا پیش لفظ لکھ رہے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں