60

علاّمہ ظفر جنک پوری:ایک بے لوث مصلح،ایک گمنام شاعر

محمد ذکیر الدین ذکی
جامعہ نگر، نئی دہلی
mzakeeruddin@gmail.com
 اللہ کے بندے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نام و نمود سے اپنے کو بچاتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت اس طرح کر تے ہیں کہ زندگی میں تو ان کی کوئی قدر نہیں ہوتی لیکن موت کے ساتھ ہی اس کی اہمیت کا راز کھلتا چلا جاتا ہے۔ ایسی ہی شخصیت حضرت علامہ سید عبد العزیز ظفر جنک پوری قاسمی کی ثابت ہوئی۔
31 دسمبر کو ان کے انتقال کی خبر جیسے ہی لوگوں تک پہنچی تو لوگ محوِحیرت اور دم بخود تھے کہ علامہ کا کوئی وارث نہیں، نہ بڑوں میں نہ چھوٹوں میں، نہ آگے نہ پیچھے، کوئی بھی تو ان کا اپنا خونی رشتے دار نہیں تھا۔ اب کیا ہوگا؟ ان کی تجہیز و تکفین کا انتظام اور دیگر مراحل کس طرح طے پائیںگے؟یہ اور اسی طرح کے دوسرے سوالات لوگوں کے ذہنوں پر ابھر کر سامنے آرہے تھے۔لیکن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کی تجہیز و تکفین کیسے ہوئی،ان کا جنازہ کس شان سے نکلااور ان کے چاہنے والوں کے دل کس طرح غمگین ہوئے۔ ان کی موت پرنہ صرف مجمع اکٹھا ہوا بلکہ اللہ کے ایسے برگزیدہ علما و صلحا کامجمع اکٹھا ہوا جنھیں اِس وقت دہلی و اطراف کی جان ہی نہیں ملجا و ماویٰ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔لوگوں نے دیکھا کہ فرینڈس کالونی کی مسجد (مسجد خواجہ پیر،جہاں وہ چالیس برسوں سے امامت کر رہے تھے) سے لے کر قبرستان پنج پیراں کی مسجدتک جوق در جوق لوگوں کا تانتا بندھاہوا ہے، اور سوگواری کا یہ عالم کہ ہر ایک کی آنکھیں نم اور ہر ایک کے منہ سے کلمہ افسوس جاری تھا کہ ہائے ایسے مربی و مصلح اب کہاںسے لائیں ؟۔پھر لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے چاہنے والوں کی ایک جم غفیر نے کس طرح ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اورتدفین کیسے عمل میں آئی۔ ان کی تدفین اس قبرستان ( قبرستان پنچ پیران ) میں ہوئی جہاں بڑے بڑے اولیاءاور اکابرینِ ملت آرام فرما ہیں۔ یہ تمام باتیں اللہ کا مقبول بندہ ہونے کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ اس موقع پر مجھے تو علاّمہ کا ہی ایک شعر یاد آرہا ہے جو انھوں نے نہ جانے کن حالات میں کہا تھا :
ہیں جب تک ہم، ہمارا ذکر تک کوئی نہیں کرتا
کریں گے لوگ پھر سرگوشیاں جب ہم نہیں ہوں گے
 ناچیز کا مولانا سے دیرینہ قلبی و ذاتی تعلق رہاہے۔ غالباً 1975 میں ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ کلوکہری کی شاہی مسجد(متصل درگاہ حضرت سید محمود بحارؒ)میں امامت فرما رہے تھے اور ناچیز کواس مسجد میں رمضان کے موقع پر قرآن کریم تراویح میں سنانے کا شرف حاصل ہوا تھا، اس وقت میری عمرسترہ یا اٹھارہ سال کی رہی ہوگی۔بس وہ دن تھا اور ان کایہ آخری سفر تقریباً43 برسوں کے درمیانی وقفے تک ان سے مسلسل رابطہ رہا۔حالانکہ میں ان کی اولاد کی طرح تھا لیکن کبھی بھی انھوں نے یہ تاثر قائم نہیں ہونے دیا بلکہ ایک ساتھی ہی سمجھتے رہے۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ 1979-80کے دوران جب ناچیز خوشنویسی کی تربیت غالب اکیڈمی سے لے رہا تھا تو مولانا نے بھی خوشنویسی سے تعلق قائم کرنے کے لیے داخلہ لے لیا تھا۔ اسی طرح جب مولانا نظر علی خاں صاحب رحمہ اللہ(جو کویت ایمیسی میں اس وقت ملازم تھے) نے اپنے گھر پر جدید عربی سکھانے کے لیے کلاسیں شروع کی تھیں تو اس وقت بھی جدیدعربی سیکھنے کے شوق کو پورا کرنے کے لیے ناچیز کے ساتھ ان کلاسوں میں داخلہ لے لیا تھا۔یہ دونوں مراحل ایسے تھے کہ جن میں ایک ساتھی اور دوست کا سا تعلق قائم ہو گیا تھا۔غالب اکیڈمی اور عربی کلاس کی یادیں آج بھی ہمارے ساتھیوں کے ذہنوں میں قائم ہیں۔ غالب اکیڈمی میں تو سبھی ساتھی عام طور پرانھیں” ابّا جی“ کہہ کر ہی پکارتے تھے اور غالب اکیڈمی سے فراغت کے بعد جب بھی مولانا کا ذکرہم ساتھیوں میں ہوتا تو ان کی پدرانہ شفقت اور محبت کو ضرور یاد کرتے ۔بہر حال علامہ سے دیرینہ تعلق نے ان کے حالات پر چند الفاظ قلم بند کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ٍ  افسوس کہ مولانا کے حالاتِ زندگی پر جہاں تک میں جانتا ہوں کسی نے آج تک کوئی ایسی تحریر قلمبند نہیں کی ہے جس سے ان کی زندگی کا احاطہ ہو سکے۔ صرف مبارک بدری کی ایک تحریرنظر آتی ہے جو ملت ٹائمز نے اپنے پورٹل پر شائع کی تھی جسے کئی اور سائٹس نے بھی نقل کی جو بہت ہی ادھوری ہے۔ مولانا کی سادہ لوحی ہی کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے بھی اپنا تعارف اپنی غزلوں کا مجموعہ ”صدہائے دل“ میں پیش لفظ کے تحت بہت ہی مختصر انداز میں کیا ہے جودرجِ ذیل ہے:
”راقم الحروف عرصہ دراز سے اپنے وطن عزیز جنک پور(ضلع مظفر پور، بہار)کو خیر باد کہہ کر حصول علم کی خاطر شاداں و فرحاں، افتاں و خیزاں مختلف مقامات پر رواں دواں، برضا ورغبت عازم سفر رہا۔ بسیار تگ و دو کے بعد یوپی اور دہلی قلب البلاد کو اپنا ملجا و ماویٰ و مسکن بنا کر قیام پذیر رہا۔1947ءمیں ہریانہ میوات کے ایک مشہور کالج سے راقم الحروف نے مڈل کیا۔1948ءمیں قلب البلاد دہلی کی جانب رُخ کیا اور عربی مدرسہ میں داخل ہو کر فارسی و عربی درجات میں گوناگوں کامرانی و کامیابی حاصل کی یعنی عربی اوّل سے دورہ حدیث تک کی تعلیم دہلی میں ہی حاصل کی بحالتِ قیام دہلی، پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کیا، الٰہ آباد یونیورسٹی سے مولوی فاضل ، جامعہ اردو علی گڑھ سے1952ءمیں ادیب کامل کا امتحان دیا۔ 1955ءمیں دار العلوم دیوبند سے سند فضیلت حاصل کی۔1956ءمیں جامعہ عربیہ مدرسہ شاہی مراد آباد سے دستارفضیلت سر پر بندھا، بعد ازاں احقر نے آخر میں قلب البلاد دہلی کو اپنا وطنِ اصلی بنا لیا۔1950ءسے ہی اردو اب کا لباس زیبِ تن کر کے راقم نے اپنے فطری ذوق شاعری کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو زبان میں شاعری کا آغاز کیا۔ بحمد اللہ راقم الحروف کو جہاں قاسمی فرزند کہلانے کا شرف حاصل ہے، وہیں راقم الحروف کو اردو، فارسی و عربی زبان کا ادیب و شاعر کہلانے کا بھی حق حاصل ہے……..“ـ
اب بتائیے مولانا کے اس ادھورے تعارف سے ان کی زندگی پر روشنی کیسے ڈالی جا سکتی ہے۔حالانکہ مولانا نے اپنے اس پیش لفظ میں اس کے علاوہ بھی کچھ اور باتیں بھی لکھی ہیں جو حالات زندگی میں شامل کی جا سکتی ہیں۔مگر اس سے ان کی پوری زندگی کا احاطہ توہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ان کے متوسلین و متعلقین کوکمر بستہ ہونا ہوگااور کوئی ایسی سبیل نکالنی ہوگی جو ان کی زندگی اور ان کے کارناموں کو لوگوں تک پہنچا سکے۔ جہاں تک راقم الحروف جانتا ہے مولانا کا ایک بہت بڑا حلقہ ایسے لوگوں کی ہے جوان سے وابستگی ہی نہیں رکھتے بلکہ وہ تحریری میدان کے شہسوار بھی ہیں، اگر وہ جستہ جستہ ان کی زندگی سے پردہ اٹھا ئیں تو یہی جستہ جستہ یادیں مولانا کی زندگی پر ایک ضخیم کتابی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اللہ کرے کوئی ایسی سبیل نکل آئے اور ان کے متوسلین مولانا پر ایک سیمینار کریں اور ان پر اپنے اپنے مقالے پیش کریں تو کتابی شکل دینے کی ذمہ داری لی جا سکتی ہے۔
مولانا موصوف کے مزاج میں تنقید کا مادہ بہت زیادہ تھاجس کی وجہ سے تنقید کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا۔ کسی عالم کی غیر علمی باتوں پر ان کی گرفت کرنا، کسی شاعر کے شعر کی خامی اور صحیح لفظ کی نشان دہی کرنا، خلافِ سنت عمل کرنے پر کسی کو بھی پھٹکاردینا ، مہمانوں کی خدمت میں کوتاہی کرنے پراپنے ہی خادم کو ڈانٹ دینااور کسی قاری کی تلاوت میں تجوید کی غلطی پر اس کو خامی کی طرف توجہ دلاناان کا روزانہ کا معمول تھا ۔انہی صفات کی وجہ سے ان سے اپنے پرائے سب ہی ڈرتے اور انھیں برا بھلا بھی کہتے تھے، لیکن وہ حضرات جو اُن کے مزاج شناس ہوتے ان کااور بھی گرویدہ ہوتے۔ مولانائے مرحوم میں یہ صفات کیوں نہ ہوتیں کیوں کہ انھوں نے مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور اس زمانے کے اکابر علماءاور صاحبِ نسبت سے کسب فیض کیا تھا۔ جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے دورِ اول میں ولی کامل شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے دست مبارک سے خلافت حاصل کی تھی وہیں انھوں نے دورِ آخر میں علامہ قمر الزماں الٰہ آبادی مدظلہ سے خرقہ خلافت پاکر ان کے مجاز بھی ہوئے تھے۔ درمیانی دور میں پاکستان کے صاحبِ نسبت بزرگ حضرت مولانا خالد سیف اللہ ؒ سے بھی خلافت حاصل کی تھی۔اس سہ طرفہ خلافت نے ان کو ایک مجذوب الحال بنا دیا تھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں اپنی دلی کیفیات کو بخوبی ادا کیا ہے۔ان کے دو اشعار بطور نمونہ پیش ہے:
عادت سی پڑ گئی ہے مجھے حادثات کی 
تو نے تو مجھ کو گردشِ دوراں بنا دیا
جو رہزنوں کا دعویٰ ہے رہنمائی کا
ہماری زندگی ہم پر ہی سوگوار ہے آج
ان کی زندگی تلخیوں سے بھری ہوئی تھی۔تقسیم وطن کے بعد ان کے خاندان کے افراد پاکستان جاتے ہوئے مارے گئے تھے اور جو بچ گئے وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے یا مر کھپ گئے تھے۔ وہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ ہمارے پورے خاندان کو تقسیم وطن نے کھا لیا، میں ہی ایک تھا جو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے نکلا ہوا تھا ،جو بچ گیا۔ ان کی ایک بہن جو پاکستان میں بیاہی ہوئی تھیں وہ وہیں کی ہو کر رہ گئی تھیں۔ ان سے وہ چندمرتبہ ملنے پاکستان بھی گئے۔مولانا نے بتایا تھا کہ میں نے شادی بھی کی تھی مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے طلاق دینی پڑی۔اس کے بعد کئی بار شادی کے ارمان بھی جاگے مگرحالات نے وہ موقع فراہم نہ کیا۔انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ میں نے کئی مدرسے قائم کیے لیکن مفاد پرستوں نے ان پر قبضہ کر کے مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔بہرحال اپنوں سے دوری اور لوگوں کی بے وفائیوں نے انھیں بہت تکلیف پہنچایا۔ان حالات سے چھٹکارا پانے کے لیے انھوں نے شعر و شاعری کاسہارا لیا۔ زندگی بھر شعر و شاعری کرتے رہے، مشاعروں کو جلا بخشتے رہے، معرکة الآرا مشاعروں میں وہ نمایاں نظر آتے لیکن یہاں بھی لوگوں نے ان کی تنقید مزاجی کی وجہ سے بے اعتناعی برتی اورانھیں مشاعروں میں بلانا بند کر دیاگیا، مجبور ہو کرموصوف نے مشاعروں میں جانا چھوڑ دیا۔اور یہ ان کےلیے اچھا ہی ہوا اس لیے کہ وہ مشاعرہ ضرور پڑھتے تھے لیکن اپنا کلام محفوظ نہیں کر پاتے تھے اور جو کچھ بھی بیاض کی شکل میں محفوظ ہوتا اسے یار لوگ غائب کر لیتے تھے۔ جب ان مشاعروں سے علیحدگی ہوئی تو انھوں نے پھر سے اپنی یادداشتیں یکجا کرکے نئی بیاضیں تیار کیں اورپھر یکے بعد دیگرے دو مجموعے تیار ہو گئے۔ ایک مجموعہ ”خلقِ عظیم “ کے نام سے نعتیہ مجموعہ2002ءمیں شائع ہوا،پھراس مجموعے کے دو ایڈیشن2007ءاور 2008ءمیں شائع ہو چکے ہیں اور ایک غزلوں کا مجموعہ ” صدائے دل“ کے نام سے2011ءمیں منظر عام پر آیا۔اس کے علاوہ انھوں نے تقریبات یا موت و حیات کے موقع پر لوگوں کے لیے قصائد، تہنیتی پیغامات اور تعزیتی کلام اتنے کہے ہیں کہ اگر اس کو کتابی شکل دی جائے تو وہ سیکڑوں صفحات کی کتاب تیار ہو جائے گی۔اگر اسے بھی کوئی صاحبِ خیر شائع فرما دیں تو ایک ذخیرہ ان کے نام سے محفوظ ہو سکتا ہے۔
آخر میں ان کے چند اشعار کے ساتھ اپنا مضمون ختم کرتا ہوں:
میں نے فریب کھا کے جہاں کو دیا فریب
دنیا الجھ رہی ہے مری سادگی کے ساتھ
محبت میں کچھ امکانِ کرم بھی ہو تو سکتا ہے
مگر بننا پڑے گا تختہء مشقِ ستم پہلے
کسی کے وعدہء فردا پہ کیا یقین کرے
وہ جس کو اپنے ہی جینے کا اعتبار نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں