200

عقل سے ہی نہیں، نقل سے بھی کام لیں!

عبد العلیم بن محمد حلیم الجامعی
دارالادب ،انتری بازار ،سدھارتھ نگر
اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت کو مشعلِ راہ اور ہدایت و کامیابی کی شاہ کلید بنایاہے؛ چنانچہ کتاب و سنت کی تعلیمات پر عمل کے ذریعے ہی انسان کے شب و روز بہتر اور اس کی زندگی خوش و خرم گزر سکتی ہے، جب کہ ان سے کنارہ کشی اور دوری انسان کے لیے دارِ فانی میں ضلالت و گمراہی اور دارِ ابدی میں خسران و ناکامی کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے کتاب و سنت کی تعلیمات کو فہمِ سلف کی روشنی میں سمجھنا، ان کے حقائق کا ادراک کرنا، اُن کی باریکیوں پر مطلع ہونا اور پھر ان پر عمل کرنا ایک مسلمان کی زندگی کا خاصہ اور اس کا مطمحِ نظر ہونا چاہیے اور اگر کوئی بات سمجھ سے بالاتر ہو ،تو اس پر بھی آمنا و صدقنا کی صدا بلند کرنی چاہیے ،نا کہ بے جا تاویلات وتوجیہات کرکے اور انہیں اسباب و نتائج کے ترازو میں تول کر لائقِ عمل اور قابلِ اتباع قرار دینا چاہیے؛ کیوں کہ انسانی عقل بیمار و لاچار اور محدود و متعین ہے ،ہر حکمت کا ادراک اور ہر باریکی کی سمجھ اس کے بس کی نہیں ہے۔
یہ ایک چور دروازہ ہے ،جس کی داغ بیل مستشرقین نے ڈالی اور پھر سائنس کی مدد سے لوگوں میں عام کرنے اور انہیں ہم خیال بنانے کے لیے آسمان سر پر اٹھا لیاگیا کہ اگر کوئی بھی نص عقل و فہم کی کسوٹی پر کھری اترتی ہے، تو قابل قبول ہے ا وراگرعاملہ برعکس ہے،تووہ نص ناقابلِ اعتبار اور مردود ہوگی، بدقسمتی سے ان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر اور ان کے افکار و خیالات سے متاثر ہوکر بعض مسلمانوں نے بھی اس قسم کی رائے قائم کی اور منکرینِ کتاب وسنت کی صف میں اپنا مقام بنا بیٹھے، انہی سے متاثر لوگوں نے حدیث کے متعلق یہ شوشہ بھی عام کیا کہ قرآن و حدیث دوالگ الگ چیز ہیں ،ایک قطعی ہے ،تو دوسری ظنی، ایک کلام الٰہی ہے، تو دوسری کلامِ نبوی، ایک کی حفاظت کی ذمے داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے اور دوسری کی نہیں وغیرہ وغیرہ۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اس طرح کی رائے قائم کرنے سے پہلے کتاب و سنت کا بغور مطالعہ کریں اور عقلی گھوڑا دوڑانے کی بجائے نقلی سواری کریں، اگر ایسا کریں گے، تو انہیں ضرور یہ بات ملے گی کہ حجیت کے اعتبار سے کتاب و سنت میں کوئی فرق نہیں، جس طرح مسائل کا ماخذ قرآن ہے، اسی طرح حدیث بھی ہے، قرآن اگر متن ہے ،تو حدیث اس کی شرح ہے، قرآن اگر نص ہے ،تو حدیث اس کی تفسیر ہے اور دونوں ہی حق ہیں؛ کیوں کہ قرآن کو بھی لفظِ حق سے تعبیر کیا گیا اور حدیث کو بھی اور حق بات ظنی نہیں؛ بلکہ یقینی ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر کہ دونوں ہی منزل من اللہ ہیں اور دونوں کی حفاظت کا بیڑا خود اللہ تعالیٰ نے اٹھایاہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا:اس کا جمع کرنا اور بیان دونوں میرے ذمے ہے۔اور یہ بات واضح ہے کہ قرآن کی توضیح صحیح احادیث ہی ہیں۔ہاں دونوں میں فرق ہے تو اس اعتبار سے کہ ایک کا لفظ و معنی دونوں اللہ کی طرف سے ہے اور دوسرے کا صرف معنی، ایک متلو ہے تو دوسرا غیر متلو، ایک کے ذریعے عبادت کی جاتی ہے اور دوسرے کے ذریعے عبادت کا فہم پیدا ہوتا ہے۔
لہذا حجیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں، اسی لیے بات چاہے کتاب کی ہو یا سنت کی ،عقل کے موافق ہو یا مخالف ،دونوں صورتوں میں بلا چون وچرا عمل واجب ہوگا اور جہاں تک بات عقل و خرد کے معیار کی ہے ،تو بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں ،جن کی حکمت بر وقت ذہن و دماغ اور حالات و ظروف کے مخالف ہوتی ہے؛ لیکن بعد میں اس کا نتیجہ خوش گوار ہوتا ہے۔ مثلاً: صلح حدیبیہ کا ہی واقعہ دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دب کر صلح کی کہ حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی بھی شانِ رسالت میں گستاخی کر بیٹھے (لیکن بعد میں اس سے رجوع کیا اور توبہ کے ساتھ ساتھ صدقات و خیرات وغیرہ کرتے رہے)حالاں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ،تو مشرکین کو زیر کرکے اپنی ہر بات منوا سکتے تھے؛ لیکن پھر بھی آپ نے ان کی ہر شرط کو منظور کیا، اس وقت اگر چہ تمام صحابۂ کرامؓ کے ذہن میں اس کی حکمت نہیں تھی؛ لیکن کچھ عرصے بعد جب فتحِ مبین ہاتھ لگی، تب صحابۂ کرامؓ کو اس صلح کی حکمت سمجھ آئی۔
اس لیے ہمیں اس ذہن و فکر کو پروان چڑھنے سے روکنا چاہیے۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک فرد، جو اپنے کو محمدﷺ کا پیروکار کہتا ہے اور پھر اس طرح کی چکنی چپڑی باتوں میں پھنس کر اپنا ایمان و عقیدہ متزلزل کر بیٹھتا ہے۔ ابھی گذشتہ جمعرات کو دو نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ شادی بیاہ کے موقعے پر لڑکا لڑکی کو دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ میں نے انھیں ابوداؤد و ترمذی کی دونوں روایتیں بتائیں، جن میں اس کی اجازت مذکور ہے، تو ان میں سے ایک نے اعتراض کیا کہ اگر لڑکا لڑکی کے دیدار کے بعد شادی کے سلسلے میں جواب مثبت کے بجائے منفی میں دیتا ہے، تو اس سے معاشرے کے لوگ غلط تاثر لیتے ہیں اور خود لڑکی کے گھر والے بھی شرمندہ ہوتے ہیں، مزید اُس نے کہا کہ ایک صاحب کی تقریر میں نے سنی ہے کہ یہ بات عقل کے موافق نہیں کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کو دیکھیں،میں نے انھیں بہت سمجھایا ،تقریباً ایک گھنٹے تک سمجھاتا رہا، تب جاکر ان کو اطمینان ہوا۔اس واقعے سے مجھے شدید رنج لاحق ہوا کہ کس طرح نوجوان نسل کو اپنی لیپ لگائی ہوئی باتوں میں پھنسا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایسے نازک حالات میں تمام علما پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ کتاب وسنت کے احکام اور ان کے مقام و مرتبہ سے لوگوں کو روشناس کرائیں؛ تاکہ یہ ضلالتیں ناپید ہوں اور سنت کا چلن عام ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم اور فہمِ متین عطا فرمائے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں