119

عزیزنبیل کے جہانِ سخن کی سیاحی


نایاب حسن قاسمی
پہلی بار ہمیں عزیز نبیل کے نام اور کام کی ایک جہت سے آشنائی تب ہوئی،جب چھ سال قبل ان کے سالانہ کتابی سلسلہ”دستاویز“کے اردو کے ادبی رسائل نمبر کی تلاش ہوئی،گوکہ وہ رسالہ ہمیں نہ مل سکا،مگر ان کا نام پردہئ ذہن پر مرتسم ہوگیا،دوسری بار تین چار سال قبل نئے سال کی مناسبت سے سوشل میڈیاپروائرل ان کے ایک شعرنے ہمیں ان کی طرف متوجہ کیا،شعر یہ تھا:
پھر نئے سال کی سرحدپہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہوجائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی!
حالاں کہ عزیز نبیل اپنی پیشہ ورانہ عملی اور ادبی سرگرمیوں کے ساتھ سوشل میڈیاپر بھی متحرک ہیں اور ہم جیسے لوگ تو سوشل میڈیاپر ہی متحرک ہیں،مگر اس کے باوجود ان تک رسائی میں خاصا وقت لگا اور پہلی بار اِس سال کے شروع میں فیس بک کی راہ سے ان سے رابطہ ہوپایا، اس کے بعد سے مسلسل ان کی تخلیقات او ر ادبی سرگرمیوں سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب سمندر“2011میں منظرعام پر آیاتھااور دوسرا ”آواز کے پر کھلتے ہیں“2019میں منظر عام پرآیاہے، ضخامت 160صفحات ہے۔کتاب کاظاہری سراپا لاجواب اور دیدہ زیب ہے،طباعت بھی شاندار اور خوش منظر ہے، ناشراسکالرپبلشنگ ہاؤس،دہلی ہے اوراس خوب صورت طباعت کے لیے کے پبلشنگ ہاؤس کے ڈائریکٹر شاہد علی خان تحسین و تبریک کے مستحق ہیں۔مگر اس سب سے سوا عزیز نبیل کی شاعری ہے،ان کے ایک ایک شعر میں دلکشی،جاذبیت اور دل نوازی کے اَنیک پہلو ہیں،ان کی شاعری حیرت خیزہے اورقدم قدم پرچونکاتی ہے، وہ بلاشبہ نئی نسل کے ہندوستانی شعراکی صفِ اول میں شمارکیے جانے لائق ہیں،ان کے یہاں تخلیقی انفراد اورافکارکاحسن اَوج پرہے۔حقیقی معنوں میں شاعری وہ ہے، جس میں فنی واصولی ثبات کے ساتھ خیال وفکرکاجمال، گیرائی، تنوع اورمعانی کی وسعت پائی جاتی ہواورعزیزنبیل کی شاعری میں یہ اوصاف بہ تمام و کمال موجود ہیں۔تخیلات کی بلندی،تمثیلات کی عمدگی،تشبیہات کی جودت،استعارات کا حسن،کنایوں کا جمال اور اظہار واسلوب کی بداعت عزیز نبیل کی شاعری کوامتیازی شناخت عطاکرتی ہیں۔مزید خوشی اور سرشاری کی بات یہ ہے کہ انھوں نے دوسرے بے شمار نئی نسل کے شاعروں کی طرح طرزِ اظہار میں جدت پیدا کرنے کے لیے ہذیان گوئی کی راہ اختیار نہیں کی،نہ الفاظ کی حقیقت و ماہیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے؛بلکہ روایت کی پاسداری کے ساتھ جدتِ خیال کی راہ نکالی ہے اور بڑی خوبی سے اس مشکل رہ گزر کو عبور کیاہے۔ایک سخن فہم ناقد نے کہیں لکھاہے کہ:”موجودہ دور کا جدید تر شاعر جدت اور انوکھے پن کی انتہاؤں کو پالینے کے لیے غزل کے ہرے بھرے،شاداب اور سدا بہار مرغزاروں سے نکل کر آسیب زدہ کھنڈروں کی طرف چلا گیاہے اور نتیجتاً ایک ایسی زبان(بحروقافیہ کی حدود میں رہ کر) بولنے لگاہے،جوہذیان کی سی کیفیت کی حامل ہے۔پہلے آبگینہئ غزل تندیِ صہبا سے پگھل تو سکتا تھا،مگر چٹخ کر پاش پاش ہوجانے کی نوبت نہیں آئی تھی،آج غزل اس المیے سے دوچار ہے“۔
حیرت ہے کہ یہ تحریر1969کے ادبی وشعری منظرنامے کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے،آج توخیر آوے کا آوابگڑا ہوا ہے،ایسے میں عزیز نبیل کو پڑھنا ایک حیرت انگیز وسروربخشتجربے جیسا ہے۔ان کے شعروں میں بہ یک وقت سادگی بھی ہے اور ندرت بھی،فکرکی گہرائی اور معنی کی گیرائی بھی ہے اور بندش وتراکیب کی بے ساختگی بھی۔پھر ان کے شعری موضوعات میں تنوع بھی ہے،روایتی غزلیہ موضوعات کے علاوہ زندگی کے انفرادی و اجتماعی حقائق وواقعات کوبھی انھوں نے شعری بیانیے کا حصہ بنایاہے اور بڑی خوب صورتی و معصومیت کے ساتھ بڑی گہری باتیں کہہ دی ہیں۔
تخلیق ایک مخصوص کیفیتِ دل کا نتیجہ ہوتی ہے،تخلیق کار جب کسی خیال کی موج میں بہتاہے،توایک خوب صورت فن پارے کا وجود ہوتا ہے،ہرتخلیق کار پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس میں جس قدر توانائی و رعنائی ہوگی،اسی قدر تخلیق میں بھی قوت و اثرانگیزی ہوگی۔عزیز نبیل نے اس کیفیت کو بڑے دلچسپ اور خوب صورت انداز میں یوں بیان کیاہے:
عادتاً میں کسی احساس کے پیچھے لپکا
دفعتاً ایک غزل دشتِ سخن سے نکلی
”آواز کے پرکھلتے ہیں“کی تمام غزلیں ہر اعتبار سے مکمل ہیں،ان غزلوں میں لفظیات و اسالیبِ شعری کا تنوع اورحسن بھی ہے اور افکار و خیالات کی تابانی اور دَمک بھی،عزیز نبیل نے اپنے شعروں میں احوالِ ذات کا بھی احاطہ کیاہے اور مسائلِ کائنات کو بھی چھیڑاہے،معنیاتی سطح پر محبت اور حسن و عشق کے مختلف مظاہر بھی ان کے شعری مضامین کا حصہ ہیں اور انسان کی دیگرانفرادی و اجتماعی کیفیات و سانحات پربھی خوب اظہار ِ خیال کیاہے۔مثال کے طورپر یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جان لیتا ہوں ہر ِاِک چہرے کے پوشیدہ نقوش
تم سمجھتے ہوکہ میں کچھ بھی نہیں جانتاہوں
کن علاقوں سے گزرناہے اٹھائے ہوئے سر
اور کہاں مجھ کوجھکانی ہے جبیں جانتاہوں
لاکھ جابیٹھے کوئی اونچی فصیلوں پہ نبیل
جس کی اوقات جہاں کی ہو،وہیں جانتاہوں
الفاظ سادہ ہیں،تراکیب میں بھی پیچیدگی نہیں ہے،مگر باتیں کتنی گہری ہیں!
کبھی کبھی کسی اپنے کے ساتھ گفتگو بھی ناسودبحث کا روپ دھارلیتی ہے،ایسے میں ایک طرف سے نرمی کے ساتھ بات کو ختم کرنا ہی مفید ہوتا ہے،قرآن کریم میں تو ایک مخصوص پس منظر میں اسے مومنانہ وصف قراردیاگیاہے:
سومیں نے بحث نہ کی،گفتگو کو ختم کیا
نکل گئی تھی بہت دور بات چلتی ہوئی
 کوئی نہ کوئی ایسا لمحہئ نامسعود ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے،جب ایسا لگتا ہے کہ اس کے بہت سے خواب،آرزوئیں،امنگیں دیکھتی آنکھوں مضمحل ہو رہی ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا،بے بسی و بے چارگی اپنے عروج پر ہوتی ہے، یہ حادثہ ہوچکنے کے بعد بھی مستقل ذہن و دماغ پر کچوکے لگاتارہتا ہے،اس کی یاداحساس کو آزردہ کردیتی اور خیال زخم آلود ہوجاتاہے:
یہیں کہیں تو چمکتی تھی اِک طلسمی جھیل
یہیں کہیں تو میں ڈوباتھا اپنے خواب کے ساتھ
سوال و جواب کے مکالمے میں اگر سوال ہی لکنت زدہ ہو،توجواب کیسے آبرومند ہوسکتا ہے؟
الجھ رہی تھی مسلسل سوال کی لکنت
مکالمہ نہ کوئی ہوسکا جواب کے ساتھ
عزیز نبیل نے زیادہ تر استعاروں کی زبان میں گفتگو کی ہے اور یہ استعارے بڑے حسین بھی ہیں اور معنی خیز بھی،ان سے معانی کی جوے سلسبیل پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،ان کی لفظیات میں بھی شیرینی ہے اور معنی و خیال میں بھی جودت و حلاوت ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے ان کی شاعری کے اس وصف کی خاص طورپر سراہنا کی ہے۔لفظیات اور اسلوبِ بیان کی سطح پر ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں معانی و افکار کے اظہار و ادائیگی کے لیے مخصوص ومحدود الفاظ یا تعبیرات نہیں ہیں؛بلکہ ان کادائرہ متنوع بھی ہے اور وسیع بھی،یہ کسی شاعر کے واقعی شاعر ہونے کی ایک بڑی دلیل ہوتی ہے اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے تخیلات کی دنیا میں بھی وسعت ہے اور اس کے پاس الفاظ و اسالیب کابھی بڑا ذخیرہ ہے۔ انھوں نے عام شعری روایت کے برخلاف انسان کے مختلف اوصاف و کیفیات کی تعبیر کے لیے واحد متکلم کی ضمیر استعمال کی ہے اور اس سے بھی ان کے شعروں میں ایک مخصوص دلکشی پیدا ہوگئی ہے۔انھوں نے عام انسانی زندگی میں رونما ہونے والے حالات و سانحات اور ان کے زیر اثر بدلنے والے انسانی رویوں، احساسات و اخلاقیات کی بڑی خوب صورت منظر کشی کی ہے، ان کے زیادہ تر اشعار ایسے ہی ہیں اور ان کا کمال یہ ہے کہ تقریباً ہر باشعور اور صاحبِ فہم قاری یا سامع کو یہ لگتا ہے کہ یہ تواس کے اپنے دل کی بات ہے، وہ خودان کیفیات سے گزر چکا یا گزررہاہے،وہ حالات خود اس پر بیت چکے یا بیت رہے ہیں،ایسے میں ان اشعار کو پڑھنے اور سننے کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے اور ایک بار پڑھنے یا سننے کے بعد ہمیشہ کے لیے ذہن میں نقش ہوجاتے ہیں۔بہ طورمثال چند اشعارپیش ہیں:
کئی آنکھیں یکایک ہوگئی ہیں مجھ میں روشن
کئی لہجے مرے لہجے میں شامل ہوگئے ہیں

بہتاہوں میں دریاکی روانی سے کہیں دور
اک پیاس مجھے لائی تھی پانی سے کہیں دور
اک اوربھی دنیاہے کہیں دور زمیں سے
اک اوربدن ہے تنِ فانی سے کہیں دور

ان گنت صدیوں کی ٹھوکرہے مرے سینے پر
ایک دو دن میں نہیں میل کا پتھر ہوا میں

بجھ چکے راستے،سناٹاہوا،رات ڈھلی
لوٹ کر ہم بھی چلے جائیں،مگر گھر بھی توہو!

جو ہنس رہاہے بہت دوستوں کے حلقے میں
وہ میں نہیں ہوں،مرے جیسا دوسرا ہے کوئی

گزررہاہوں کسی خواب کے علاقے سے
زمیں سمیٹے ہوئے،آسماں اٹھائے ہوئے

بڑے قریب سے دیکھا ہواہے میں نے اسے
بہت حسین ہے دنیا،بڑی کمینی بھی

یہ تم نہیں ہوتو پھر کون مجھ میں رہتا ہے
بہت دنوں سے مسلسل اسی خیال میں ہوں

آنے والوں کی محبت ہی بہت ہے مجھ کو
جانے والوں سے کہاں کوئی شکایت ہے مجھے

وہ جب کہ تجھ سے امیدیں تھیں میری دنیاکو
وہ وقت بیت چکاہے،وہ غم گزرچکاہے
جھلک رہاہے جو مجھ میں،وہ میں نہیں ہوں نبیل
تجھے تلاش ہے جس کی وہ کب کا مرچکاہے

بس اتنا جان لو رشتوں کو  موت آئی تھی
یہ پھر بتائیں گے کیوں خاندان ٹوٹ گیا

بہت طلب تھی مجھے روشنی میں رہنے کی
سویوں ہواہے کہ آنکھیں جلائے بیٹھاہوں

آؤذرا سی دیر سہی کھل کے مسکرائیں
دنیاکے مسئلوں کو پسِ پشت ڈال کر

کھلی جو آنکھ نہ مہتاب تھا،نہ رات نہ تُو
پڑاہوا ہوا تھا میں اپنے بدن کے پہلو میں
ترے حضور عجب کیفیت ہے کیابولوں
زباں چپکنے لگی ہے نبیل تالو میں

ہم سخن ہونے کو دیوار بھی تیار نہیں
ایسی تنہائی کہ اب میں بھی مرا یار نہیں

کسی کسی سے ہی ملتا ہے سلسلہ دل کا
کوئی کوئی ہوا کرتا ہے دوست،سب تو نہیں

وہ دکھ نصیب ہوئے خود کفیل ہونے میں
کہ عمر کٹ گئی اپنی دلیل ہونے میں
عزیز ہونے میں آسانیاں بہت سی تھیں
بہت سے دردملے ہیں نبیل ہونے میں

آنکھوں کی کائنات میں خوابوں کا اک ہجوم
تعبیر کی تلاش میں سویانہیں کبھی
چند لمحے جو ملاقات کے ملتے ہیں کبھی
وہ بھی اکثر ادب آداب میں کھوجاتے ہیں
عزیز نبیل نے محبت کی تجسیم ایک خاصل لطف انگیز تخییل کے زیر اثر کی ہے،ایک شعر میں کہتے ہیں:
کاش اک روزکوئی چھوکے بتائے مجھ کو
کون ہوں؟کون سی مٹی سے بنایاگیاہوں
اوردوسرے شعر میں گویا ہیں:
میری مٹی میں محبت ہی محبت ہے نبیل
چھوکے دیکھوتوسہی،ہاتھ لگاؤتوسہی!
گویاپہلے شعر میں جس حسرت کااظہار کیاتھا،وہ دوسرے شعر میں وفورِ جذبات کی وجہ سے ایک گذارش اور درخواست میں بدل گئی ہے۔یہ  اتنا پیاراشعر ہے کہ اس کی معصومیت،کوملتااور لطافت کو بس محسوس کیاجاسکتا ہے،اسے باربارپڑھیے،توہر بارلطفِ تازہ محسوس ہوتا ہے،ایک غیر ملموس شیرینی ہے اس شعر میں،ایک خاص جاذبیت،بیان کی ندرت،اظہار کی جدت،ایک نوخیزخیال،ایسی  سادگی،جس پہ خواہ مخواہ دل آجائے، ایک وارفتگی،ایک والہانہ پن،خوب صورت جذبوں کی فراوانی،شفاف احساسات کی جلوہ سامانی،فنکارانہ تخیل کی تابانی….الغرض کمال کا شعر ہے اور شاعر کی فنی وتخلیقی ہنرمندی کا پتہ دیتا ہے۔
عزیز نبیل کی مکمل شاعری دلچسپ، پر لطف،جمال انگیز و خیال افروز ہے،ان کی کتاب”آواز کے پر کھلتے ہیں“کے اوراق سے گزرنا ایک نہایت خوب صورت اور کیف آگیں سیاحت ہے اوریہ سیاحت ہر صاحبِ ذوق کو کرنا چاہیے۔افتخار عارف نے بجاطورپر”نئے طرزِ احساس“کو عزیز نبیل کی شاعری کی بنیادی شناخت قراردیاہے۔میں ان کی اس بات سے بھی کلی طورپر متفق ہوں کہ:”غزل میں کھردراپن اپنا ایک حسن رکھتا ہے،مگر رس میں ڈوبے ہوئے مصرعوں کی اپنی ایک شان ہوتی ہے،جو دامنِ دل کو کھینچتے ہیں۔نبیل کی رس میں ڈوبی ہوئی غزلوں کا جب آپ مطالعہ کریں گے،تومیری اس بات کی تصدیق کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں