189

عربی زبان و ادب کی خدمات پر متعددشخصیات صدارتی ایوارڈ سے سرفراز


مولانا نور عالم خلیل امینی، پروفیسر محمد نعمان خان، پروفیسر بدیع الرحمن، پروفیسرمقصوداحمد، پروفیسر غلام یحیٰ انجم اور پروفیسر قدیرکو صدارتی ایوارڈ اور ڈاکٹر قطب الدین وپروفیسر مسعود عالم فلاحی کو مہارشی بدریان ویاس سمان سے نوازا گیا
نئی دہلی :نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیانائڈو کے ہاتھوں پنج ستارہ اشوکا ہوٹل میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں مولانا نور عالم خلیل امینی،استاذ ادب عربی دارالعلوم دیوبندوچیف اڈیٹر’ماہنامہ الداعی‘ (عربی)،پروفیسر محمدنعمان خان،صدر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، پروفیسر بدیع الرحمن سابق صدر شعبۂ عربی کلکتہ یونیورسٹی، پروفیسر مقصوداحمد سابق صدر شعبۂ عربی ایم ایس یونیورسٹی برودہ،پروفیسر غلام یحیٰ انجم ، صدر شعبۂ اسلامک اسٹڈیزجامعہ ہمدرد اورپروفیسر این اے عبد القدیر صدرشعبۂ عربی کالیکٹ یونیورسٹی کو عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کی بنیاد پرسال 2017-18کے لیے مشترکہ طور پر صدرجمہوریہ ایوارڈ سے سرفرازکیاگیا۔جب کہ ینگ اسکالر زمرے میں مہارشی بدراین ویاس سمان کے لیے سینٹر آف عربک اینڈ افریکن اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد قطب الدین، پروفیسر مسعود عالم فلاحی،صدرشعبۂ عربی خواجہ معین الدین چشتی عربی اردوفارسی یونیورسٹی لکھنؤ اورڈاکٹر کے علی نوفل کالیکٹ کو نوازاگیا۔قابل ذکر ہے کہ اول الذکر مولانانورعالم خلیل امینی کی درجنوں کتابیں عربی واردوزبان میں شائع ہوکر شرف قبولیت حاصل کرچکی ہیں،جن میں فلسطین صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں (عربی واردو)،مفتاح العربیہ تین جلدیں ،حرف شیریں ،ایک ہزار صفحات پر مشتمل پس مرگ زندہ اور عربی ادب و انشا سے متعلق متعدد کتابیں قابل ذکر ہیں۔جبکہ ثانی الذکر پروفیسر محمد نعمان خان کی خلیل فراہیدی کی کتاب العین کے تفسیری مواد کی تحقیق، ابن منظور کی المنتخب والمختارکی تحقیق وتدوین، لسان العرب کی تصحیح، تاریخ اسلام کے علمی ذخائر ، اصحاب کہف کے غار کا انکشاف بطور خاص قابل ذکر ہیں،پروفیسر مقصود احمد کی بھی کئی تصانیف ہیں۔ ڈاکٹر قطب الدین کی اجنحۃ الفراشہ محمد سلماوی کے ناول کا ترجمہ ’تتلی کے پر‘ ،دارالعلوم ندوۃ العلما کی عربی زبان وادب میں خدمات قابل ذکر ہیں، اسی طرح پروفیسر مسعود عالم فلاحی کی بھی متعدد تصانیف ہیں جن میں یوسف القرضاوی فقیہا،شاعرا وناثرا، جامعۃ الفلاح ودورہا فی تطویر اللغۃ العربیہ، الاوضاع السیاسیۃ فی مصر اور ہندوستان میں ذات پات اور اسلام قابل ذکر ہیں۔اشوکا ہوٹل میں تفویض ایوارڈکے بعد آج اشٹرپتی بھون میں تمام ایوارڈ یافتگان کی باہمی ملاقات کابھی اہتمام کیاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں